فرسودہ نظام تعلیم اور پاکستان کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیکھنا، سکھانا، سوچنا، سمجھنا، اپنا آپ پہچاننا، تحقیق، شخصیت میں شعور کا قیام اور فہم و فراست کے ذریعے مسائل کا حل، لفظ تعلیم کا مختصر احاطہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ماہرین تعلیم اور اہل علم و دانش اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن پاکستان کا نظام تعلیم ان تمام عوامل کے برعکس صلاحیتوں کے بجائے نمبروں کی بنیاد پر طلبا کی جانچ کے طریقہ پر عمل پیرا ہے۔ اور اسی فارمولے سے گزر کر ناکامی اور کامیابی ہزاروں طلبا کا مقدر بنتی ہے۔

انگریز چلے گئے لیکن انگریزوں کامتعارف کردہ نظام تعلیم اب بھی جوں کا توں ہے۔ آج برطانیہ میں ایک جدید نظام تعلیم قائم ہے۔ جبکہ ہم اکیسویں صدی میں بھی اس فرسودہ نظام تعلیم سے ماہرین اور تخلیق کاروں کے بجائے بڑی تعداد میں آپریٹرز، اور کلائنٹس پیدا کر رہے ہیں۔ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ارباب اختیار اس مسئلہ سے یک دم بے خبر ہیں یاخاکم بدہن شاید دانستہ طور پر وہ اس نظام میں تبدیلی نہیں چاہتے۔

تب ہی تو آج تک کسی حکمران اور نا ہی کسی سیاست دان نے اس متعلق کوئی اقدامات کیے، عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی اس موضوع پر کوئی قانون سازی دیکھنے کو نہیں ملتی البتہ مایوسی ہوتی ہے کہ آخر ہم کب تک پاکستان کے ٹیلنٹ کو اس فرسودہ نظام تعلیم کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے۔ تعلیمی اداروں میں تجرباتی تدریس کے بجائے ہم گزشتہ دو صدیوں سے اب تک اپنے نظام تعلیم پر تجربات کرتے نہیں تھکے اور نہ ہی وہ نظام تعلیم قائم کرپائے جو مسلمانوں کے عروج کے دور میں مستعمل تھا، ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو کتابی کیڑا بنانے اور رٹے کی فرسودہ روایت کا پاس رکھنے کی بجائے بچوں کے رجحان اور میلان کو دیکھتے ہوئے خود کر کے سیکھنے (Learning by doing) پر توجہ دی جا رہی ہے۔

نت نئے شعبہ جات کی کھوج لگائی جارہی ہے، امتحانی نظام، گریڈ سسٹم اور امتیازی پوزیشنوں کا رجحان رفتہ رفتہ ختم ہو رہا ہے، گوگل کرکے آپ حیران ہوں گے کہ آج دنیا میں بچوں کی تعلیم کے کتنے ہی غیر روایتی طریقے متعارف کروائے جاچکے ہیں۔ کلاس روم کانسپٹ کو اسٹوڈیو کانسپٹ میں بدلا جا رہا ہے جہاں ٹیلنٹ پروڈیوس ہورہا ہے، بچوں کی چھپی ہوئی صلاحیتں ابھر کر باہر آ رہی ہیں، استاد اور شاگرد کے درمیان مکالے سے بچوں کی خود اعتمادی بڑھ رہی ہے لیڈر شپ کوالٹی جنم لے رہی ہے۔

جبکہ دوسری طرف پاکستان میں ہم پوزیشن حاصل کرنے کی پوزیشن پر تاحال قائم ہیں۔ گدھے، گھوڑوں کی طرح بستوں کا بوجھ اٹھائے ہمارے طلباء نمبروں کہ دوڑ میں لگے ہیں جسے جیتنے کے لیے اکثر و بیشتر طالبعلم نقل کا سہارا لے بیٹھتے ہیں۔ سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود ہم نے کوالٹی کے بجائے کا اب تک کوانٹٹی پر فوکس رکھا ہے تب ہی پاکستانی معاشرے کے 78 فیصد افراد آؤٹ آف بکس سوچنے سے قاصر ہے۔ معاشرے کی طرف سے پیدا ہونے والے خوف کی وجہ سے نمبروں کے حصول نے طلباء کو ہائی جیک کر رکھا ہے جس سے اجتماعی کامیابی کے بجائے انفرادی کامیابی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور کئی بچے والدین اور معاشرے کے ڈر سے خود کشی کر بیٹھتے ہیں۔

باقی رہی سہی کسر اساتذہ نے نکال دی کہ جن پر نصاب سے ہٹ کر سوال کا جواب دینا گراں گزرتا ہے، گر کر سنبھلنا زندگی کا حصہ ہے لیکن ہمارے ہاں فیل ہونا شرمناک فعل ہے ہاں اگر بچہ کوئی عقل کی بات کردے تو محدود ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے انا کا مسئلہ سمجھ کر استاد یا استانی کا بچہ پر برسنا بالکل بھی برا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ عقل کل ہیں منطق اور دلائل کے بجائے نمبر کاٹنے کی دھمکی اور ساتھی طلبا کے سامنے بچے کی عزت نفس کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔

کیرئیر کاونسلنگ کے فقدان اور سبجیکٹ سکوپ کے نام پر ہر سال ہزاروں طلبا عدم دلچسپی والے مضامین کا انتخاب کر کے ناکامی کا سامنا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں فرارکا راستہ اختیار کرنے کے لئے نشہ اور دیگر برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس سے ان کا مستقبل مزید تاریک ہوتا چلا جاتا ہے ان تمام عوامل کی موجودگی ہمیں اشارہ دیتی ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے ذی شعور معاشرہ تشکیل دینے کے بجائے ناسور پیدا کر رہے ہیں اور بچوں کی صلاحیتوں سے درست طور پر فیضیاب ہونے کے لیے ملکی نظام تعلیم میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حبیب الرحمان، کوئٹہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *