بشریٰ اقبال ملک کا افسانوی مجموعہ: مجمعے کی دوسری عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشری اقبال ملک کے پہلے افسانوی مجموعے ”حیات نو یافتہ“ کی اشاعت کے ایک لمبے عرصے کے بعد مصنفہ کا دلنشین سرورق کے ساتھ 28 افسانوں پر مشتمل مجموعہ ”مجمعے کی دوسری عورت“ پڑھنے کو ملا۔

مصنفہ نے اس مجموعے کے زیادہ تر افسانوں میں نہایت موثر انداز میں عورتوں کے حقوق کو سلب کرنے والے، مذہب کو سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کرنے والے اور انسانوں کے انسانوں کو مختلف رنگ میں بیوقوف بنا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے معاشرے کی جو عکاسی کی ہے، وہ سب وہی ہے، جن کا مصنفہ زبانی طور پر ہمیشہ اظہار کرتی ہے، گویا اس مجموعے میں مصنفہ نے ان مسائل کو قلم کی زبان دے دی ہے۔ مصنفہ کی رہائش تو جرمنی میں ہے، لیکن ان کے افسانوں کے اس مجموعے میں مکمل طور پر پاکستانی معاشرے اور پاکستان میں عورت کے مسائل کی تصویر کشی ہے۔ عورت ذات سے متعلقہ افسانے پاکستان کے مختلف طبقات کی عورتوں کی نمائندگی کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک گھریلو دیہاتی عورت سے لے کر آج کی ماڈرن عورت تک کے کردار مختلف صورتوں میں مختلف انداز میں ملتے ہیں۔ اس لئے ان افسانوں کی فضا ایک پاکستانی قاری کو اجنبی محسوس نہیں ہوتی۔

اس مجموعے کے پیش لفظ میں مصنفہ اپنے مجموعے کا تعارف ان الفاظ میں کرواتی ہیں :

”دونوں مجموعوں کی کہانیوں میں میرا لہجہ اصلاحی، انداز معترضانہ اور مقصدیت پسندانہ ہے۔ جس میں محبت کل اور انسان کی اصلاح کو مسلک بنایا ہے۔ بناوٹی لفاظی سے پرہیز اور سچ کی بیباکی مجھے لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں اپنی آنکھوں میں خود ہی دھول جھونکنے والی خواتین کی تصوراتی جنت پر تعمیر مصنوعی زندگی کو بآسانی گزار جانے پر حیران ہوں، یہی حیرت آپ کو ان افسانوں میں ملے گی۔“

” اس مجموعے میں تمام افسانے ان موضوعات پر ہیں، جنہوں نے مجھے اداس، پریشان اور خوفزدہ کیا۔ میں نے ان تمام حدود کو جو ایک پاکستانی خاتون کے لئے کھینچ دی گئی ہیں، کی آخری حد پر کھڑے ہو کر اچک کر ان حدود کے پار دیکھنے کی کوشش کی ہے اور ان دیواروں کی وجوہات، فوائد اور نقصانات کو پرکھ، برت اور جان کر پر اثر طریقے سے مقید قرطاس کر کے قارئین تک پہنچایا ہے۔“

مصنفہ نے ان افسانوں میں وہی پیش کیا ہے، جو وہ خود ایک عورت کی حیثیت سے محسوس کرتی ہے۔ وہ عورتوں کے جن مسائل کو سامنے لاتی دکھائی دیتی ہے، وہ عورتوں کی جہالت، بے خبری اور توہم پرستی ہے۔ وہ ان کی ایک ہی سانچے میں ڈھلی سوچ اور اس پر عمل پیرائی پر افسردہ ہے، وہ انہیں تاریکیوں سے اجالے کی طرف لانے کی خواہشمند ہے۔ اس کی نظر میں عورت کو اپنی ذہانت کو بروئے کار لانے کے لئے مواقع نہ ملنا ان کی زندگی کا ایک المیہ ہوتا ہے، جو ان کو کچھ لکھنے، کہنے اور کچھ کر کے دکھانے سے روکے رکھتا ہے، وہ اپنے کئی افسانوں میں عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی لانے کے لئے للکارتی نظر آتی ہے۔

جس دیوار کا ذکر مصنفہ اپنے پیش لفظ میں کر رہی ہیں، وہ رسوم و رواج کی دیوار ہے ( ’افسانہ ترجیح‘ ) ، وہ حدود آرڈیننس کی دیوار ہے ( افسانہ ’یہ کیسی زندگی؟‘ ) یا پھر چادر کی دیوار ہے۔ ”داستان گزیدہ“ چادر کے ذکر سے شروع ہو کر ”میں چادر اوڑھ کر چار دیواری سے نکلتی ہوں“ چادر پر ہی ختم ہوتا ہے ”میں چادر سنبھالتی تیزی سے گلی کے قریب آتی ہوں“ ۔ ”مجمعے کی دوسری عورت“ میں اپنی چادر کو ہوا میں ا چھال دیتی ہوں ”،“ چادر لہرا کر میرے جسم سے ہٹ کر میری چھت بن گئی ہے ”، میں، مجمعے کی دوسری عورت جان بچا کر بغیر چادر کے گھر لوٹ آئی ہوں“

افسانہ ’رسم دنیا‘ میں مصنفہ نے بچپن سے ذہن میں بٹھا دی جانے والی سوچ کو ہمیشہ کے لئے ذہن میں نقش ہو جانے کی بڑی خوبصورت عکاسی کی ہے، جس میں ایک ہی خاندان کے دو بچوں ایک بھائی اور ایک بہن کے کردار ہیں، جس میں بہن کے چیلنج پر بھائی کا اپنی بہن کی بات کو درست سمجھتے ہوئے بھی، محض اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لئے بہن پر ہاتھ اٹھا دینا ہے۔ اس پورے افسانے میں بہن اور بھائی کے بیچ خوبصورت مکالمات ہیں۔ ان کے افسانوں کے سب کردار مصنفہ کے آبائی ملک کی سڑکوں اور گلیوں کے دیکھے بھالے کردار ہیں۔ مصنفہ نے اپنے سب افسانوں کے پلاٹ، بنت اور ماحول کا بھی خوب دھیان رکھا ہے۔

عورت کے مسائل کے علاوہ مصنفہ کی پاکستان کے سارے سیاسی، مذہبی، اخلاقی مسائل پر بھی گہری نظر ہے۔ پاکستانی معاشرے میں انتہا پسندی اور مذہبی جنون مصنفہ کو تشویش میں مبتلا کرتا ہے۔ جس کی بہترین مثال افسانہ ”گونگا اور فرعون“ ہے۔ گونگا ایک علامتی کردار ہے جس کے ذریعے مصنفہ نے ایک بے رحم، سفاک اور گونگے معاشرے کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ وہ خود نہیں بول سکتا مگر اس کا کردار اس پر بیتنے والے ہر لمحہ اور اس کے ارد گرد پیش آنے والے واقعات کی عکاسی کرتا ہے۔

غلط سیاسی پروپیگنڈے، مذہبی منافرت، مذہبی جنون اور اس کو ہوا دینے والے عناصر کی بھرپور تصویر کشی کرتے ہوئے مصنفہ نے پاکستان کی ابتدا سے لے کر موجودہ صورت حال کی تاریخ کو چند صفحات میں سمیٹ دیا ہے۔ گونگا بچپن میں قیام پاکستان کے ساتھ ایک محلے کی مسجد کے ساتھ وابستہ ہے اور مسجد اور وضو کی جگہ کی صفائی کرتا ہے۔ کسی کو اس گونگے کا نام یا اس کے خاندان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی کوئی یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ گونگے کی زندگی میں بھی تبدیلیاں آتی جاتی ہیں اور گونگے کی زندگی کا المیہ تب شروع ہوتا ہے، جب اس کے مسلک پر سوال اٹھنا شروع ہوتے ہیں۔

”تپتی گرمیوں میں بجلی کے بغیر بند کمروں میں سونے والے محلے داروں نے مچھروں سے ہاتھا پائی کرتے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ گونگا بابا جو ساری رات ان کی حفاظت کرتا ہے اس سے اس کا مذہب، عقیدہ، فرقہ یا مسلک پوچھا جائے، مگر تبلیغ کے لئے آنے والوں نے عجیب سا سوال اٹھا دیا تھا، کہ یہ بابا مسجد کے سائے میں رہتا ہے، لیکن نماز پڑھتے نہیں دیکھا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ مسلمان ہی نہ ہو۔ بیچارہ گونگا اپنی عمر کے آخری حصے میں مشکوک ہو گیا تھا۔ ان لوگوں نے گونگے کو کھانا اور پانی دینے والوں کو روکنا شروع کر دیا تھا۔“

اس افسانے کا جرمن ترجمہ بھی شائع چکا ہے، جو پاکستانی ثقافت پر نظر رکھنے والے جرمن سکالرز کے لئے دلچسپ اور معلوماتی ثابت ہوا ہے۔

بشریٰ کے افسانوں میں وہی حل طلب مسائل ہیں، جو آج تک کبھی حل نہیں ہوئے اور نہ ہی مستقبل قریب میں ان کے حل ہونے کی کوئی امید ہے۔ یہ وہی خواب ہیں، جو ہر مصلح اور امن پسند انسان دیکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا اتنی ہی امن پسند اور دنیا والے اتنے ہی وسیع القلب ہو جائیں جتنا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امتہ المنان طاہر (جرمنی ) کی دیگر تحریریں

Leave a Reply