سڈنی کا شرابی شوہر، کورونا اور ہماری قیادت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ ٹویٹ سے خان صاحب کے اختیار، سوچ اور اس سارے کرائسس کو وہ کس نظر سے دیکھتے ہیں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ پہلی بات جو روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے وہ یہ ہے کہ ٹی وی پر قوم کو گمراہ کرنے اور نیم پختہ خودی اور خود انحصاری کے نظریات جو شان ماضی کے مبنی بر حقائق تصورات سے اٹے پڑے ہیں اور کچھ بھی نہیں جانتے۔ اپنی ذات اور اپنی ہی خودی میں قید اس شخص کے پاس نا تو کوئی وژن تھا اور نا کوئی وژن ہے۔ مگر ان مشکل موجودہ حالات میں جس طرح ان کے ذہنی بانجھ پن کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوٹا ہے اس کی نظیر بھی نہیں ملتی۔ دوسری بات یہ کہ لاک ڈاؤن کرنے کے گناہ میں کم از کم خان صاحب تو شامل نہیں ہیں۔

اب آتے ہیں خان صاحب کے تجویز کردہ حل کی طرف جو وہ اس قدرتی وبا سے نمٹنے کے لیے تجویز کر رہے ہیں۔ حل کیا ہے؟ حل تو انھوں نے کبھی بتایا ہی نہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ چار پانچ دفعہ قوم سے خطاب کر چکے ہیں اور جنوری 2020 سے اس سارے مسئلے کو فالو کر رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انھوں نے حل نا بتایا ہو۔ تو دوستو اگر کسی بندے کو ان کی طرف سے تجویز کردہ کسی بھی ایسے فارمولے کا پتہ ہے جو وہ قوم کو اس کرائسس سے نکالنے کے لیے بتا چکے ہیں تو مجھ نا چیز کو بھی بتا دیجیے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ مارچ سے تواتر کے ساتھ ٹی وی پر آکر کیا کر رہے ہیں؟ تو اس کا اک سادہ سا جواب ہے کہ وہ قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔

ان حالات میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں اس وبا نے ابھی پوری طرح سر نہیں اٹھایا۔ میں تواتر سے لکھ رہا ہوں جس طرح خان صاحب اس وبا کو ڈاؤن پلے کر رہے ہیں آنے والے دنوں میں پاکستان اک بہت مشکل صورت حال سے دو چار ہوگا۔ اک بہت قیمتی وقت اس شخص نے قوم کو گمراہ کرنے میں گزار دیا۔ بے حسی اور پارسائی کے خول میں لپٹے ہوئے وزیر اعظم صاحب نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر اس وبا کے خلاف اک متحدہ اور موثر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔ الٹا سندھ حکومت کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے اور اک طوفان بدتمیزی سندھ حکومت کے خلاف برپا ہے۔ اک موقر قومی نشریاتی ادارے کے مالک کو اک بے بنیاد مقدمے میں بند کر دیا اور نیب ابھی بھی میر شکیل الرحمن کے خلاف کوئی قابل سماعت مقدمہ تک قائم نہیں کر سکا۔

ساری اقوام معمولی اور کچھ سیریس نوعیت کے معاملات میں لوگوں کو وارننگ اور کمیونٹی سروس کی سزائیں دے کر رہا کر رہی ہیں تاکہ لوگوں کو جیلوں سے باہر رکھا جا سکے۔ راقم الحروف کل خود فیئر فیلڈ لوکل کورٹ میں، جو آسٹریلیا کے شہر سڈنی کا ایک مضافات ہے، ایک مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں پیش ہوا۔ میرے موکل نے شراب کے نشے میں اپنی بیوی کو بری طرح سے زد و کوب کیا تھا۔ واقعہ یوں تھا کہ دونوں مل کر شراب پی رہے تھے کہ کسی بات پر دونوں کا جھگڑا ہو گیا اور مرد نے اپنی روایتی طاقت کا استعمال کر کے جھگڑا جیت لیا۔ بیوی کو زد و کوب کرنے کہ بعد وہ گھر سے نکل گیا اور بیوی نے پولیس بلا لی۔ پولیس نے اگلے دن شوہر کو پکڑا اور مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا جہاں سے جنوری کے آخری ہفتے میں کورٹ نے سخت شرائط پر اس کی ضمانت منظور کر لی۔

کچھ دن بعد جب دونوں کا غصہ کم ہوا تو بیوی نے اسے گھر بلا لیا۔ عدالت کی طرف سے شوہر پر پابندی لگائی گئی تھی کہ وہ گھر نہیں جا سکتا اور نا ہی اپنی بیوی سے رابطہ کر سکتا ہے۔ اسے آسٹریلیا میں Apprehended Violence ’Restraint Order کہتے ہیں جو عام طور پر پولیس Victim protection کے لیے عدالت سے لیتی ہے۔ گھریلو تشدد آسٹریلیا میں اک بہت بڑا مسئلہ ٔ ہے۔ پولیس چیک اپ کے لیے بیوی کہ گھر گئی تو شوہر گھر پر موجود تھا۔ اس پر پولیس نے اسے دوبارہ گرفتار کر لیا۔ عدالتی حکم عدولی پر شوہر اک اور جرم کا مرتکب ہو گیا۔

کل عدالت میں شوہر کو سزا سنائی جانی تھی۔ میں نے عدالت سے درخواست کی کہ Mental Health (Forensic Provisions) Act 1990 of New South Wales کے تحت درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 32 presiding judge کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ treating psychiatrist کی رپورٹ کی روشنی میں اگر سمجھتی ہے کہ مجرم نے جرم کسی ذہنی معذوری کے تحت کیا ہے تو مجرم کو سزا Criminal Act کے تحت نہیں دی جاتی بلکہ اس قانون کے مطابق فیصلہ دیا جاتا ہے جس میں مجرم کی عدالت کی طرف سے مقررہ وقت تک physiatrist کی نگرانی میں Treatment ہوتی ہے۔

مگر میں جج کی بات سن کر خود حیران رہ گیا۔ جس جرم کی سزا کم از کم آٹھ سے چودہ مہینے قید ہو سکتی تھی۔ جج وہ کمیونٹی سروس میں بدلنے کو تیار تھا۔ اور اس کی وجہ جج نے کرونا سے پیدا ہونے والے موجودہ خاص حالات بتائے۔ میں نے جج سے دس منٹ کا وقفہ مانگا اور عدالت سے باہر جا کر ساری بات اپنے موکل کو سمجھائی۔ وہ راضی ہو گیا اور عدالت نے اسے اٹھارہ ماہ کمیونٹی سروس، اٹھارہ ماہ تک بیوی کے ساتھ رہنے پر پابندی، شراب پینے پر اٹھارہ ماہ کی پابندی اور تین ماہ کا کرفیو جو رات دس سے صبح چار بجے تک گھر سے نکلنے کی پابندی کی صورت میں لگا دیا۔ مگر وہ جیل جانے سے بچ گیا۔ ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ بیوی کہ ساتھ مل کر شراب نا پیں اور اگر پینی ہی ہو تو اپنے اندر کے جانور کو لگام دے کر رکھیں۔ خیر یہ تو شیوہ ہے مہذب قوموں کا مگر ہمارے خان صاحب جو ہر وقت ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر ورد کرتے نظر آتے ہیں انسانی رحم، بردباری اور مخالفوں کے ساتھ حسن سلوک کے کس درجے پر فائز ہیں آپ خود اس کا تعین کریں۔

اب کرونا سے نمٹنے کے لیے خاں صاحب کی فلاسفی کی طرف آ جائیں۔ خان صاحب کے تازہ بیان کے مطابق ابھی کہیں سے چندہ نہیں آیا لہذا جب تک نو من تیل نہیں ہو گا یہ رادھا تو نہیں ناچے گے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر چندہ نا ملا تو کیا عوام کو بھوک سے مر نے دیا جائے گا؟ کیا حکومت واقعتاً اتنی بے بس ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو چند ہفتے گھر بٹھا کر کھانا نہیں کھلا سکتی؟ اک زرعی ملک دو وقت کی روٹی اپنے عوام کو نہیں دے سکتا؟

سوال یہ بھی ہے کہ کیا قوم کا قائد مشکل حالات میں صرف بے بسی کی تصویر بنا رہے گا اور بس مایوسی پھیلاتا رہے گا یا قوم کو نامساعد حالات میں راستہ دکھائے گا؟ کب ان کے اندر کا لیڈر جاگے گا جو بائیس سال سے اس قوم کی تقدیر بدلنے کو بے تاب تھا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply