کرنل کی بیویاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرنل کی بیوی صرف جاہل عورت ہی نہیں بلکہ جاہل معاشرے کی بھی عکاس ہے۔ ان کی حرکات و سکنات اور جملے بازی پہ غور کیا جائے تو یہ متکبرانہ انداz اور انسانیت کی تذلیل ہمارے معاشرے میں عام دیکھنے کو ملتی ہے۔

اب اسی جملے پہ غور کر لیجیے ”صوبے دار کی کیا اوقات ہے میرے سامنے“ انسانیت کی تذلیل اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ ان لوگوں نے نام، منصب اور مال و دولت کی بنیاد پر انسانیت کے معیار قائم کر رکھے ہیں۔ عام حالات میں بھی دیکھا جائے تو انسانیت کی تذلیل معمولی بات سمجھی جاتی ہے چپڑاسی، کلرک، ڈرائیور اور گھریلو ملازمین کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ، تشدد یا ہراساں کرنا عام بات ہے۔

دوسری جانب کرنل کی بیوی کی باڈی لینگویج ایسی تھی کہ گویا ہلک مووی دیکھ کر آئیں ہیں۔ ڈرم اٹھا کر پھینکا اور پھر یہ جا وہ جا. گویا فوج میں ڈسپلن جس پہ سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے ان کے گھر کی خاتون میں کسی طور نظر نہ آیا۔ آپ اگر یہی طاقت کسی مظلوم کی مدد کرتے دکھاتی تو بہتر تھا لیکن طاقت کا استعمال کسی کمزور پر کر کے آپ نے خود کو طاقتور نہیں بلکہ ظالم ثابت کر دیا۔

یہ ویڈیو اسی معاشرے کی عکاس ہے جہاں قانون صرف امرا اور طاقتور کے حق میں جبکہ غریب انصاف اور حقوق سے محروم ہے۔ مظلوم کے قتل کی خبر چھوٹے کالم میں جبکہ نامور شخصیات کا بیرون ملک دورہ ہیڈ لاین میں لگایا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں زکوة، صدقات اور عطیات نمود و نمائش کے ساتھ اور باقاعدہ سیلفی لیتے ہوئے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس معاشرے میں کرنل کی بیوی نہیں بلکہ کرنل کی بیویاں موجود ہیں جو طاقت اور دولت کے نشے میں انسانیت کی پامالی کا باعث ہیں۔

معاشرے میں قوانین کو جب تک غریب اور امیر کے لیے ایک جیسا نہیں کیا جائے گا ایسے واقعات گاہے بگاہے پیش آتے رہیں گے۔ انصاف اور نظم و ضبط جب تک بے ضابطہ رہے گا معاشرے کو منفی رجحان کا سامنا رہے گا۔ لہٰذا سزا کی حقدار صرف کرنل کی بیوی نہیں بلکہ معاشرے کا غیر منصفانہ نظام ہے جس نے ظالم کے دل سے سزا کا خوف نکال کر مظلوم کو حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *