کورونا، قرنطینہ اور خریداری کی دوڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچیس لاکھ، ایک کورونا مریض پر۔

حضور، پچیس لاکھ، نقد پکڑا دیتے، مریض اپنا علاج تو کروا لیتے۔

انسانی تاریخ کی دوسری بد ترین بد عنوانی، جو وبا کے دنوں میں بھی شقی القلب ارباب بست و کشاد کر رہے ہیں۔ پہلی، دوران زلزلہ تھی۔

اب تک اربوں کی امداد آ چکی، لاکھوں پی پی ایز آ چکے، مگر میرے مشاہدے اور سروے کے مطابق، یہ سامان کہیں پر بھی نہیں موجود۔ میرے وہ دوست جو خود ڈاکٹر ہیں، اور وہ دوست جو کورونا کا شکار ہوئے، اور وہ لوگ جو میڈیا پر آ رہے ہیں، سب کو سننے اور دیکھنے کے بعد میں تو اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سب گھاؤ گھپ ہو چکا۔

سرکاری کوآرنٹین مراکز کی حالت، پورے پاکستان میں بد ترین، اور وہاں پر موجود عملے کے پاس پی پی ایز بالکل نہیں۔ اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں، گلگت کی ایک لیڈی ڈاکٹر کے بھائی نے، اسے پی پی ایز، گلگت سے خرید کر بھیجے ہیں۔

لاہور میں ہمارے ایک دوست نے پی پی ای کا ایک بنڈل آن لائن مبلغ پچیس ہزار کے عوض منگوایا جس میں ماسک، دستانے، اور حفاظتی لباس تھا۔ وہ پچیس ہزار والا بنڈل میڈ ان چائنا تھا۔ گمان غالب ہے کہ یہ وہی بنڈل ہیں جو چین نے ہمیں تحفہ دیے ہیں، جو مارکیٹوں میں، بک چکے۔

اب ذرا ذکر ہو جائے کوآرٹین مراکز کا۔
ان مراکز کی اب تک دو اقسام دستیاب ہو چکی ہیں۔
ایک سرکاری
دوسری غیر سرکاری

سرکاری مراکز میں کورونا حاملین کے ساتھ وہ سلوک ہو رہا ہے کہ جو قربانی کے جانوروں کے ساتھ بھی نہیں ہوتا۔ انہیں چودہ روز کے لئے ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے۔ بول و براز کا بند و بست اسی کمرے میں ہے۔ تین وقت، ایک نرس انہیں ایک ٹرے پکڑاتی ہے، دروازے کے نیچے سے، یا کھڑکی کے راستے۔ اس میں سامان خورد و نوش اور بخار کی گولیاں ہوتی ہیں۔ میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کے پاس کوئی اسباب احتیاط نہیں ہیں، اس لئے وہ کورونا حامل کے پاس چودہ روز تک جانے سے احتراز کرتے ہیں۔ چودہ روز تک اگر کورونا کا حامل بچ گیا، تو اسے گھر بھیج دیا جاتا ہے اور ذرائع ابلاغ میں کامیابیوں کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ اور اگر مر جائے تو۔ ۔ ۔ تو آپ جانتے ہیں۔

کوآرٹین مراکز کی دوسری قسم غیر سرکاری ہے۔ یہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں قائم ہے۔ یہاں پر کورونا کے ہر مریض روزانہ دس ہزار سے تیس ہزار روپے تک لیا جا رہا ہے اور دنیا کی بہترین سہولیات بعوض و بقدر پیسہ مہیا کی جا رہی ہیں۔ چودہ روز میں چار بار ٹیسٹ کیا جاتا ہے، جو دو بار منفی، اور دو بار مثبت آتا ہے۔ کم و بیش۔ وجہ کا مجھے نہیں پتا۔

آخری ٹیسٹ جو کہ چودھویں روز کے قریب لیا جاتا ہے، وہ عموماً و اکثر منفی آتا ہے اور کورونا حامل گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

اور ہم اور آپ بھی دنیا کے بدترین بد عنوان ہیں۔ اللٰہ کریم نے اب تک اس کورونا سے ہمیں محفوظ رکھا ہے، اور ہم اس کی قدر نہیں کر رہے، شکر گزار نہیں ہو رہے، اور اپنے آپ کو کورونا کے سامنے ایسے پھینک رہے ہیں جیسے جانور کے آگے چارا پھینکا جاتا ہے۔ ذرا بازاروں کا حال دیکھیے۔ اگر حکومت نے، اور عدالت عظمیٰ نے بازار کھول ہی دیے ہیں تو ہم اس سہولت کو ضرورت کے لئے ہی رکھ لیں۔ مگر نہیں۔ کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ کندھے سے کندھا چھل رہا ہے۔

لوگ اپنے بزرگوں اور بچوں سمیت بازاروں میں اس شتابی اور اشتیاق اور ندیدے پن سے پھر رہے کہ جیسے ”پھر یہ، حسیں رات، ہو نہ ہو۔“ اور اس سب میں سب سے زیادہ دکھ، افسوس، اور کچیچیوں والے غصے کی بات تو یہ ہے کہ انتہائی پڑھے لوگ جب اس شتر بے مہار رویے سے روکے جائیں تو کہتے ہیں، ”کجھ نہیں ہوندا جی۔ مطلب، کچھ نہیں ہو تا جی۔ یہ تو جی یہودی کی سازش ہے۔ یہ تو جناب بین الاقوامی ایجنڈا ہے کوئی بڑی طاقتوں کا۔“

اس قسم کے کرنٹ افئرز پر عالمانہ و محققانہ و حکیمانہ و مفتیانہ و فلسفیانہ تبصرے، جائزے، تحقیقیں، فتوے، اور فلسفے سن کر سر پیٹ لینے کو دل کرتا ہے۔

تو عزیز ہم وطنو! ایک بات ان سب باتوں میں درست ہے، وہ یہ کہ، عالمی طاقتوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ کمزور کو مرنے دیا جائے اور بیوقوف طرم خاں خود مر جائیں، تاکہ اس دھرتی پر سے غیر فائدہ مند انسانی وسائل ختم یا کم ہو جائیں۔ اس باب میں لندن میں موجود ایک دوست ڈاکٹر سے ہوئی گفتگو کا حوالہ دیتا جاؤں جس کے مطابق وہاں کے ہسپتال عام بزرگوں کو قبول ہی نہیں کر ہے۔ وہاں بزرگ پہلے ہی عمر رسیدہ لوگوں کے لئے بنائے مراکز میں جمع کرا دیے جاتے ہیں۔

مگر ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے بزرگ ہمارا اثاثہ ہیں۔ خیر و برکت ہیں۔ جنت کی کنجی و ضمانت ہیں۔ ان پر رحم کیجیے۔ اپنے بچوں پر رحم کیجئے۔ ان پر رحم، اور ان سے محبت یہی ہے کہ اس بار کی عید انہیں پہلے والے جوتوں، پہلے کے کپڑوں، پہلی کی خریدی گئی چوڑیوں، اور خود لگائی گئی مہندی کے ساتھ گزارنے دیں۔ اگر بچ گئے تو خریداریاں بہت ورنہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمر سہیل بسرا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *