مستحکم ابہام۔۔۔۔ بھیانک انجام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2013 کے دوران سیاست کے اپنے نیوکلس میں اور پھر اس نیوکلس میں غیر سیاسی مداخلت کا ایک فائدہ بہر طور یہ ہوا ہے کہ پس منظر اب پیش منظر میں بدل چکا ہے۔ البتہ اس عمل سے پاکستان کی ساخت تعمیر و تعبیر اور تشکیل کے متعلق ابہام زیادہ شدت سے بڑھ گیا ہے۔

نصابی سطح پر ہی سہی، سیاسیات کے مقامی و عالمی محققین اس سوال کو زیر بحث لا سکتے ہیں کہ مملکتِ پاکستان کو آئینی پارلیمانی ریاست کے زمرے میں شمار کیا جائے یا ایک وفاقی ملک تسلیم کیا جاسکتا ہے یا یہ محض آئین کے ہوتے ہوئے شاھانہ وحدانی طرز حکمرانی رکھنے والا ملک ہے جو اپنے قیام کی اساسی دستاویز، مقاصد کے واضع اظہارت کے باوصف مختلف الخیال سیاسی تصورات کی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ تاحال کسی واحد مرکزی نقطہ نظر کی تلاش میں ہے؟

اس نوعیت کے دیگر بہت سے سوالات پاکستان کی سیاسی تاریخ کے تجزیاتی مطالعہ کا حصہ ہو سکتے ہیں مگر موجودہ حکومت اور اس کی طرز حکمرانی کا شکریہ کہ اس نے پہلے سے موجود فکری مباحث کا رخ موڑ دیا ہے اور اب سوال یہ ابھرا ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی واحد مقتدرہ و حاکمیت اعلیٰ وجود رکھتی ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت عظمٰی نے حکم دیا کہ ملک بھر میں بند تمام کاروبار فوری کھول دیے جائیں۔ (لاک ڈاؤن ختم کیا جائے) کیونکہ کاروبار بند رکھنا یا (کرانا) غیر آئینی عمل ہے۔

تاہم آئین ریاست کو جس طرح تمام شہریوں کی صحت عامہ اور زندگی محفوظ بنانے کا پابند کرتا ہے، اسے حکم میں دھندلا دیا گیا۔

عدالت کے خیال میں، ” پاکستان میں کرونا وبا موجود نہیں لہذا ( بچاؤ کے نام) پر اس کے لیے کثیر رقم خرچ کرنے کا بھی جواز نہیں “چنانچہ پورے ملک میں جائز طود پر جس تاثر بلکہ حتمی رایے نے جنم لیا اور عمل میں ڈھلی وہ تھی۔ “لاک ڈاؤن ختم ہو گیا ہے۔”

دلچسپ بات یہ رہی کہ سوموٹو اختیار سماعت کے مقدمہ میں محولا بالا فیصلوں کے متعلق حکومت پاکستان کے لا افسر اٹارنی جنرل نے اگلے ہی روز ہوئی سماعت میں موقف اپنایا کہ “عدالتی حکم سے تاثر ملا ہے کہ کرونا کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں”۔ جناب اٹارنی جنرل نے عدالتی احترام ملحوظ رکھتے ہوئے استدعا کی کہ “معاملے کو سنجیدہ لیا جائے”۔ یہ جملہ بہت گہری معنویت رکھتا ہے۔ اے جی نے عدالت کو اگاہ کیا کہ “اگلے ماہ یعنی جون کے دوران وائرس میں شدت آئے گی۔”

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کونسی وبا میں شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا؟ کرونا وبا کی موجودگی سے تو قابل احترام عدلیہ پہلے ہی انکار کر چکی تھی۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ “لاک ڈاؤن پہلے جیسا موثر نہیں رہا۔” یہ بھی شائستگی سے کہی گئی بات تھی کہ عدالتی حکم نے لاک ڈاؤن کو زائل کر دیا ہے۔ جناب چیف جسٹس نے کہا۔ “یہ کاروبار ہماری وجہ سے نہیں کھل رہا بلکہ پولیس رشوت لے کر دکانیں کھولنے کی اجازت دے رہی ہے۔”

 بصد احترام عرض کرنا ہے کہ جناب سندھ میں جاری لاک ڈاؤن عدالتی حکم سے غیر موثر ہوا ہے۔ اگر انتظامیہ کا رویہ نرم یا کرپشن والا ہوتا تو لاک ڈاؤن کےخلاف مرکزی حکمران پارٹی واویلا کیوں مچاتی؟ عدالت نے بھی تو کہا تھا “کاروبار بند کرانا آئین کے خلاف ہے، اسی لیے تو سیل شدہ دکانیں بھی کھولنے کا حکم۔ صادر ہوا تھا۔ اس صورتحال میں صرف ایک بات ثابت ہوئی ہے کہ ابہام پسندی تمام اداروں میں سرایت کر چکی ہے۔

محکمہ لیبر ملک بھر میں تمام کاروباری اداروں دکانوں کو سرکاری فیس وصول کر کے ہفتہ وار ناغے کی پابندی کا سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔ جس کی خلاف ورزی پر لیبر انسپکٹر جرمانہ عائد کرنے کا قانونی مجاز افسر ہے۔ کیا یہ قانونی اقدام (ہفتہ وار تعطیل) آئین کی اس روح سے متصادم تصور نہیں ہوگا جس کا عدالت عظمیٰ نے سہارا لیتے ہوئے بلا تعطیل کاروبار کھولنے کا حکم دیا ہے؟ عدالتی فیصلے کے بارے میں اٹارنی جنرل کا انداز نظر ناقدانہ تھا جبکہ وزیراعظم نے 19 مئی کو اس کی توصیف کی اور اسے “عوامی جذبات کا عکاس” قرار دیا۔ ابہام کا پہلو یہ ہے کہ اے جی صاحب نے عدالت میں حکومت کے کس موقف کی نمائندگی کی تھی؟

وزیراعظم نے بھی فیصلہ کی حمایت قانون کے تناظر میں نہیں کی تھی بلکہ اسے عوامی امنگوں کا ترجمان کہا تھا جو بذات خود دلچسپ پہلو ہے.اس بیان سے حکومت سمیت پاکستان میں اختیارات کی ٹرائی کاٹمی میں پایا جانے والا کچھاو ظاہر ہوا ہے، میں جسے محتاط طور پر ابہام کہہ رہا ہوں۔ کیونکہ آئین میں تو تمام اداروں کے اختیارات و حدود کا تعین ہوچکا ہے۔ لگتا نہیں کہ ٹرائیکا آئینی بندوست کی اس تقسیم اختیارات سے مطمئن ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر ابہام کیونکر ہے؟

وضاحت کی گئی کہ کاروبار صرف عید کی خریداری کے لیے کھولے گئے ہیں۔ لگتا ہے کرونا کے ساتھ بھی اعلیٰ سطحی این ار او ہوا ہے کہ رمضان کے آخری ایام اور عید کے دنوں میں کرونا پاکستان کا رخ نہیں کریے گا۔! مگر ٹھہریے صاحب، ہمارا تو دعویٰ تھا کہ پاکستان میں کرونا نہیں ہے تو پھر 10 جون تک سماعت ملتوی کرنے کا کیا مقصد اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ حکم عبوری مدت کے لیے اور حتمی فیصلہ سماعت مکمل ہونے کے جاری ہو گا۔ کیا اس طور سے سماجی فاصلہ ختم ہو جانے سے اگر کسی کی صحت و زیست کو گزند پہنچی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ عید تک کھولے گیے بند کاروبار کے لیے کورونا سے بچاؤ کی ایس او پیز کی تیاری اور مکمل عملدرآمد کا قانونی مفہوم اخذ کیا جا چاہیے۔

مارکیٹس کھولنے کے لیے ایک جانب طبی ماہرین سے مشورے کا عندیہ بھی دیا گیا تو دوسری جانب سندھ حکومت کی مشاورت کی استدعا مسترد بھی ہو گئی۔ جس میں طبی ماہرین سے مشاورت کے لیے مہلت مانگی گئی تھی۔

سماجی فاصلہ رکھنے کے ایام میں فیصلوں میں قانون سے فاصلے کی روایت بھی شعوری کوشش نہیں بلکہ ذہنوں میں سرایت شدہ کشمکش سے در آیا ابہام فعال کردار ادا کرہا ہے۔
مبہم پالیسیوں سے ڈر محسوس کرنا بہر طور انسانی فطرت ہے۔ میں انسان ہوں اور پاکستان کا شہری بھی، اس لیے مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *