وہ جنھیں موت کھینچ کر حادثے والے طیارے میں لے گئی

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعہ کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے طیارے پی کے 8303 کو کراچی میں پیش آنے والا بدنصیب حادثہ کئی کہانیاں اور انمٹ نقوش چھوڑ چکا ہے جو اس حادثے کے متاثرین کے لواحقین کو ہمیشہ یاد رہیں گے۔

ایسا ہی ایک واقعہ اس پرواز کے عملے میں شامل ایئر ہوسٹس انعم خان کا ہے جو اس طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئی ہے۔

پی آئی اے کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں پہلے فضائی میزبان مدیحہ ارم کو فرائض ادا کرنے کا کہا گیا تھا مگر پرواز کے اڑان بھرنے کے عین وقت فضائی کمپنی کی گاڑی انھیں ائیر پورٹ تک لے جانے کے لیے نہیں آئی جس پر انعم خان، جن کو لاہور سے فیصل آباد کی پرواز میں جانا تھا کو لاہور سے کراچی جانے والی پرواز میں متبادل کے طور پر فرائض ادا کرنے کا کہا گیا۔

انعم خان کے چچا کمال خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انعم خان کی ڈیوٹی پہلے لاہور سے فیصل آباد جانے والی پرواز پر تھی، وہ جب گھر سے رخصت ہوئیں تو انھوں نے اپنے والد کو کہا کہ فیصل آباد کی پرواز کا دورانیہ بہت مختصر ہے اور امید ہے کہ وہ شیڈول کے مطابق شام سے پہلے واپس لاہور آجائیں گی اور ہم سب ایک ساتھ افطاری کریں گے۔‘

انعم خان

کمال خان کا کہنا تھا کہ جب وہ لاہور ایئرپورٹ پرپہنچیں تو انھیں بتایا گیا کہ ان کی ڈیوٹی تبدیل کی جا رہی ہے اور اب وہ لاہور سے کراچی جانے والی پرواز میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دیں گی۔ جس پر انھوں نے اپنے گھروالوں کو اس تبدیلی کے متعلق آگاہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عموماً ایسا ہوتا نہیں، مگر انعم خان کو تو اپنے فرائض ادا کرنا تھے۔ اس وقت ان کے لیے جہاز کی پرواز لاہور سے فیصل آباد ہو یا لاہور سے کراچی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہمارے لیے بھی یہ معمول کی بات تھی کہ انعم خان کسی فلائیٹ پر ڈیوٹی انجام دینے جا رہی ہے۔ جس کے بعد ہم لوگ نماز جمعہ کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔‘

انعم خان کے چچا کمال خان نے کہا کہ ’شاید قدرت نے انعم خان کے لیے یہ ہی لکھا ہوا تھا۔ موت اس کے تعاقب میں تھی جو اس کو کھینچ کر لاہور سے کراچی حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں لے گئی تھی۔‘

کمال خان کا کہنا تھا کہ ’ابھی میں مسجد ہی میں تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ کوئی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ میں فوراً بھاگتا ہوا گھر پہنچا اور ٹیلی وژن لگایا تو پتا چلا کہ لاہور سے کراچی جانے والی پرواز نمبر 8303 حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ جس میں انعم خان اپنے فرائض ادا کر رہی تھی۔‘

کمال خان کا کہنا تھا کہ حادثے کے فوری بعد معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک نہ حکومت اور نہ ہی پی آئی نے ہمیں کوئی معلومات دیں۔‘

جہاز حادثہ

BBC
پی ائی اے کے تباہ شدہ جہاز کا ملبہ

تاہم اب پی آئی اے نے انعم خان کے خاندان کو ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے اور اب ان کو لاہور سے کراچی لے جایا جا رہا ہے جہاں پر ان کے ڈی این اے ٹیسٹ ہوں گے۔ اس کے ساتھ پی آئی اے نے اپنے عملے کی تصاویر جاری کی ہیں جس میں انعم خان بھی شامل ہے۔

انعم خان کے چچا کمال خان کا کہنا ہے کہ اپنے زرائع سے لاشوں کی ویڈیو حاصل کی ہے مگر ان میں سے کوئی بھی لاش شناخت نہیں کی جا رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ تو بتاؤ کہ اب ڈی این اے کب ہو گا اور ہمیں انعم کی میت ملے گی۔‘

کمال خان نے بتایا کہ انعم خان گذشتہ آٹھ برس سے بطور فضائی میزبان اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں۔ انعم خان کی دو بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ انعم خان سب سے بڑی تھی اور اپنے ماں باپ کا بیٹا تھی۔ کمال خان کے مطابق انعم کہتی تھیں کہ پہلے اپنی بہنوں اور بھائی کی شادی کرواؤں گی پھراس کے بعد خود شادی کروں گی۔

انعم کے چچا کے مطابق وہ اپنے ماں باپ کی بہت لاڈلی تھی اور وہ خود بھی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھی تھیں۔ ان کی موت کی اطلاع پر ان کے والدین صدمے سے نڈھال ہیں۔

کمال خان کا کہنا تھا کہ ان کے والد بھی حال ہی میں پی آئی اے سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ انعم خان کو اپنے والد کی وجہ ہی سے بچپن ہی سے ایئر ہوسٹس بننے کا شوق تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ کل کی بات لگتی ہے جب چھوٹی سی پیاری سی انعم کھیلتی ہوئی میری گود میں آتی تھی اور مجھ سے کہتی تھی چاچو مجھے ایئر ہوسٹس بننا ہے۔ میں جہاز پر جاؤں گی اور ملک ملک گھوموں گی۔ آپ کو بھی اپنی جہاز میں سیر کرواؤں گی۔‘

زین پولانی

اسی طرح حادثے کا شکار ہونے والے اس بدقسمت طیارے میں سفر کرنے والے زین پولانی اور ان کا خاندان بھی چند دن قبل ہی کراچی سے لاہور پہنچا تھا، زین پولانی لاہور لندن سے آنے والی اپنی اہلیہ سارہ زین کا استقبال کرنے آئے تھے۔

حادثے کا شکار ہونے والے جہاز کی جس نشت پر زین پولانی نے سفر کیا اسے پہلے جانوروں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ممتاز کارکن محمد مصطفیٰ احمد نے بک کیا تھا تاہم پی آئی اے کے خود کار سسٹم میں خرابی کی بنا پر وہ بک کی ہوئی نشست کے لیے تین بار کوشش کرنے کے باوجود آن لائن ادائیگی نہ کر سکے۔ اور بعدازاں اس نشست اور اس سے ملحقہ نشستوں پر ممتاز بینکار زین پولانی اور ان کے اہخانہ نے سفر کیا۔ ان میں زین پولانی، ان کی اہلیہ اور دو بچے شامل تھے۔

زین پولانی کے بھائی یحییٰ پولانی نے بی بی سی کو بتایا کہ زین پولانی پاکستان میں ایک نجی بینک سٹینڈر چارٹرڈ میں کریڈٹ کارڈ شعبہ کے انچارج تھے۔ انھوں نے بتایا کہ زین پولانی کی اہلیہ سارہ زین گذشتہ کچھ عرصے سے حکومتی سکالر شپ پر لندن میں مقیم تھیں۔

یحیحیٰ پولانی کے مطابق لندن میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے سارہ زین پولانی کو لندن سے پاکستان کے لیے لاہور کی پرواز ملی تو وہ اسی پرواز سے لاہور آ گئیں تاکہ عید بچوں اور اہلخانہ کے ساتھ منا سکیں۔ زین پولائی اپنے بچوں 14 سالہ ابراہیم پولانی، دس سالہ عثمان پولانی اور چار سالہ محمد صدیق پولانی کے ہمراہ ان کا استقبال کرنے لاہور آئے تھے۔ یحیحیٰ پولانی نے بتایا کہ زین پولانی بچوں کو لاہور ساتھ لے جانا نہیں چاہتے تھے مگر بعدازاں اپنی اہلیہ کے کہنے پر انھیں اپنے ہمراہ لاہور لے گئے کیونکہ سارہ پولانی نے خاندان کے ایک ساتھ وقت گزارنے کا کہا تھا۔

مصطفی احمد

یحیحیٰ پولانی کا کہنا تھا کہ سارہ پولانی نے لاہور پہنچنے کے بعد تین دن قرنطینہ میں گزارے جس کے بعد وہ اپنے بچوں اور شوہر کے ہمراہ کراچی واپس آنے کے لیے اس بدقسمت جہاز میں سوار ہوئیں۔

اس جہاز میں ٹکٹ نہ ملنے پر سفر نہ کرنے والے سید مصطفیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب مجھے پی آئی اے کی جانب سے سیٹ منسوخ ہونے کے متعلق بتایا گیا تو مجھے وقتی طور پر بڑی مایوسی ہوئی، لیکن جب جمعے کو مجھے اس حادثے کا پتا چلا تو میرے منھ سے بے اختیار نکلا کہ میں تو اس پرواز میں سفر کرنے کے لیے پاگل ہوا جا رہا تھا جبکہ زندگی مجھے کھینچ کر اس طیارے سے باہر لے آئی تھی۔‘

یحییٰ پولانی کا کہنا تھا کہ سارہ زین اپنے خاندان والوں کے ساتھ لاہور میں بہت خوش تھیں۔ میری فون ہر بات ہوئی تو انھوں نے مجھے کہا تھا کہ بے شک لاک ڈاؤن اور کورونا کی صورتحال ہو، میں کراچی پہنچ رہی ہوں اس عید پر ہم مل کر بہت مزہ کریں گے۔ مگر زندگی نے زین پولانی کے خاندان کو اتنی مہلت ہی نہیں دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16051 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp