میں ڈائجسٹ ریڈر تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساٹھ کی دہائی میں ہر مہینے ڈاک کے ذریعے خواتین کے دو ماہنامے ”حور“ اور ”زیب النساء“ ہمارے گھر میں آتے تھے۔ دور دیہات میں رہنے کے باوجود یہ رسالے بہنوں کے پڑھنے کے لئے والد صاحب نے لگوائے ہوئے تھے۔ اس دور میں ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے ابا جان کی روشن خیالی آپ جان سکتے ہیں۔ بہنیں تب رسالے میری پہنچ سے بچا کر رکھتی تھیں مبادا میں انھیں پھاڑ نہ دوں۔ والد صاحب جب بھی شہر سے واپس آتے، ان کے تھیلے میں سے ایک دو کتابیں ضرور نکلتی تھیں جو وہ اپنی الماری میں سنبھال کے رکھتے تھے۔

ان کے پاس ایک اچھا کتب خانہ تھا۔ کتابیں پڑھنے کا شوق ہمیں ان سے ورثہ میں ملا۔ میں پانچویں جماعت میں تھا، جب پہلی دفعہ ابا جان ہفت روزہ اخبار جہاں بہنوں کے لئے لے کر آئے۔ تیسرے چوتھے دن وہ میرے حصے میں آیا۔ تو تصویریں دیکھیں اور بچوں کا صفحہ پڑھ کر میں بہت خوش ہوا اور پھر مدتوں یہ ہفت روزہ ہمارے گھر آتا رہا۔ چھٹی کلاس سے ہی میں نے اپنے جیب خرچ سے سکول میں روزنامہ جنگ خریدنا شروع کر دیا تھا جو اس وقت چونی کا آتا تھا اور سکول کی کینٹین سے چونی کی چاٹ کی پلیٹ ملتی تھی۔

تب سے میرا زیادہ جیب خرچ کتابیں اور رسالے خریدنے پر لگ جاتا تھا۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ انہی دنوں ہم سے عمر میں بڑے ہمارے ایک کزن ہمارے گھر آئے تو ان کے پاس ایک ماہنامہ ”آداب عرض“ تھا۔ میں نے ایسے ہی ورق گردانی کی تو چھوٹی چھوٹی سچی کہانیاں بہت اچھی لگیں۔ ان سے اصرار کر کے وہ رسالہ لے کر رکھ لیا اور اگلے دو تین دن میں وہ چٹ کر گیا۔ یہ میرا ڈائجسٹ پڑھنے کا پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا پڑھتے تھے۔ آداب عرض پڑھنے کے بعد پھر کہانیاں پڑھنے کی ایک دھن سی سوار ہوگئی۔ بہنوں کی الماریوں سے ان کے مجلد رسالے نکالے اور پڑھنے لگا۔ یوں ہمیں بھی کہانیاں اور افسانے پڑھنے کی لت لگ گئی۔ ایک دن والد صاحب سے فرمائش کی کہ وہ شہر سے ہمیں بھی پڑھنے کے لئے کوئی رسالہ لا دیں۔ پہلے تو انھوں نے ڈانٹا، کہ اپنی کورس کی کتابیں پڑھا کرو۔ اس طرح کے رسالے پڑھنے سے آپ کی پڑھائی کا حرج ہو گا۔ لیکن اگلی دفعہ جب وہ شہر سے واپس آئے تو ان کے تھیلے سے میرے لئے سیارہ ڈائجسٹ برامد ہوا تو میں خوشی سے پھولے نہ سمایا اور میں خوشی سے ان سے لپٹ لپٹ گیا۔ یہ ستر کی دہائی کے ابتدائی سال کی بات ہے۔ اس کے بعد جب بھی وہ شہر جاتے میرے لئے سیارہ ڈائجسٹ ضرور لے کر آتے۔ مقبول جہانگیر شکاریات اور سمندری سفر کے بارے میں لکھتے تھے۔

اس کے ایک شمارہ میں دوسری کہانیوں کے علاوہ انگریزی کے ممتاز ناول نگار فریڈرک فورستھ کے شہرہ آفاق ناول ”دی ڈے آف جیکال“ کے اردو ترجمہ کی پہلی قسط بھی تھی۔ پہلی قسط پڑھی تو پھر اگلی قسط کا انتظار شروع ہو گیا۔ یہ بہت ہی دلچسپ جاسوسی ناول تھا۔ جس پر بعد میں ایک فلم بھی بنی۔ اس کے بعد اس ناول کی بقایا قسطیں بھی پڑھیں۔ ۔ یوں ہمیں میٹرک سے پہلے ہی ڈائجسٹ پڑھنے کا چسکا پڑ گیا جو بعد میں شوق میں بدل گیا۔ ستر کی دہائی کے شروع میں ایک دفعہ اپنی خالہ کے گھر جانے کے لیے ہم وزیر آباد ریلوے سٹیشن پر گاڑی کا انتظار کر رہے تھے۔

گاڑی آنے میں کچھ دیر تھی۔ پہلی دفعہ اتنا بڑا ریلوے سٹیشن دیکھا تھا۔ ادھر ادھر گھومتے ہوئے ہمیں ایک بک سٹال دکھائی دیا۔ فوراً اس کی طرف بھاگے۔ بہت سی کتابیں۔ رسالے اور ڈائجسٹ ترتیب سے سجے ہوئے تھے۔ ان دنوں میں زیادہ تر لوگ ریل کے سفر کو ترجیح دیتے تھے۔ ہر بڑے ریلوے سٹیشن پر بک سٹال ایک لازمی جزو ہوتا تھا۔ اس بک سٹال پر پہلی بار سب رنگ ڈائجسٹ دیکھا اور فوراً خرید لیا۔ کپڑوں میں چھپا لیا تا کہ کسی کی نظر میں نہ آ سکے۔

اس وقت تک درسی کتب کے علاوہ طالب علموں کا ایسے رسالے اور ڈائجسٹ پڑھنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ پہلی دفعہ اسے سب سے چوری چھپا کر پڑھا، پھر تو اس کے اسیر ہی ہو کر رہ گئے۔ اس وقت اس میں قسط وار سلسلہ ”غلام روحیں“ چھپ رہا تھا۔ پھر ”انکا“ شروع ہوا جو ایک غیر مرئی قوت پر مبنی ایک اچھوتا سلسلہ تھا۔ اس کے بعد ہماری الماری اس کے شماروں سے بھرنے لگی جس پر ہر وقت ایک تالہ لگا رہتا تھا۔ بعد میں سب رنگ میں سلسلہ وار کہانی امر بیل چھپنا شروع ہوئی۔ متحدہ ہندوستان کے ریاستی کلچر کے پس منظر میں محلاتی سازشوں پر مبنی یہ ایک اچھوتی داستان تھی۔ ہر قسط پڑھنے کے بعد اگلی کا انتظار شروع ہو جاتا۔ ان کہانیوں کے ٹائٹل پر انعام راجہ کے بنے ہوئے سکیچ ایک عجب بہار دکھاتے تھے۔ امر بیل ابھی جاری تھی کہ وہ شاہکار آیا جس نے اس وقت کے پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ ”بازیگر“ جس کو سب رنگ کے مدیر شکیل عادل زادہ خود لکھتے تھے۔ اب ہر مہینے اس کا انتظار رہتا تھا۔

اس کہانی کے کورہ۔ ظہیر بابر۔ بٹھل۔ مولوی صاحب۔ نیساں اور درجنوں دوسرے کردار ابھی ذہن میں تازہ ہیں۔ سب رنگ کا یہ طرہ امتیاز تھا کہ اس کا شمارہ مہینہ شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل ہی سٹال پر موجود ہوتا تھا۔ پھر کسی کو اس کو نظر لگ گئی۔ پہلے دو ماہ پھر چھ ماہ اور پھر سال بعد آنے لگا۔ یہ ڈائجسٹ آہستہ آہستہ دور ہوتا ایک دن ہم سے بچھڑ ہی گیا۔ رسالہ چھپنا بند ہو گیا۔ بازیگر ابھی تک نامکمل ہے۔ ایک دفعہ ممتاز کالم نگار روف کلاسرا نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ شکیل عادل زادہ بازیگر کی آخری قسط لکھ رہے ہیں۔

ہم بھی اس کے انتظار میں ہیں۔ سب رنگ کے تقریباً سارے شمارے میں نے پڑھے بلکہ ایک دور میں ترتیب سے سارا ریکارڈ بھی موجود تھا جو ایک بیرون ملک مقیم دوست کو دے دیا۔ سب رنگ کا رومانس ابھی تک قائم و دائم ہے۔ انہی دنوں میں عالمی ڈائجسٹ اور الف لیلہ ڈائجسٹ بھی چھپ رہے تھے۔ عالمی ڈائجسٹ میں ہر ماہ ایک نہ ایک ممتاز انگریزی ناول نگار کے کسی مشہور ناول کا ترجمہ اور تلخیص شائع ہوتا تھا۔ ہیرالڈ رابنز کے کئی ناول کے تراجم اس ڈائجسٹ میں پڑھ کر پھر اس کے انگریزی ناول خرید کر دوبارہ پڑھے۔ الف لیلہ میں دوسری بہت سی کہانیوں اور ترجموں کے علاوہ قسط وار کہانی چھلاوہ بھی شائع ہوتی تھی جو ایک لیزبین خاتون صبیحہ بانو کی ہنگامہ خیز زندگی پر مشتمل ایک دلچسپ داستان تھی۔

ستر کی ہی دہائی میں ہی خواتین کے لئے خواتین ڈائجسٹ۔ پاکیزہ۔ دوشیزہ اور شعاع اور دوسرے کئی ماہناموں کا اجرا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خواتین کے مقبول ماہنامے بن گئے۔ وہ ہماری نوجوانی کا دور تھا۔ انہی دنوں میں نے کچھ چٹکلے اور کہانیاں دوشیزہ ڈائجسٹ میں چھپنے کے لئے بھیجے اور وہ چھپ بھی گئے۔ پھر کہانیاں لکھنے کا سلسلہ چل نکلا۔ ا یک دفعہ دوشیزہ ڈائجسٹ والوں نے آپ کی ڈاک میں میرا اسلام آباد کا ایڈریس چھاپ دیا جہاں میں ان دنوں بسلسلہ روزگار قیام پذیر تھا۔ اگلے چند ہفتوں میں خطوط کا ایک سیلاب آ گیا۔ بہت سارے لوگ قلمی دوستی کے خواہاں تھے۔ دوسرے باہمی روابط نہ ہونے کی وجہ سے خط و کتابت ہی ایک رابطہ کا ذریعہ تھا اور قلمی دوستی ان دنوں ایک دلچسپ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ ان دنوں قلمی دوستی میں کافی لوگوں سے آشنائی ہوئی جو زندگی کا ایک بڑا تجربہ ثابت ہوا۔

جاسوسی ڈائجسٹ ایک ایسا ماہنامہ تھا جس میں جاسوسی کہانیاں شائع ہوتی تھیں۔ اس ڈائجسٹ میں خاصے کی چیز ہر ماہ آخری صفحوں پر تین کہانیاں ہوتی تھیں جو کہ اسی ماہ کے شمارہ کے سرورق کے تناظر میں لکھی جاتی تھیں۔ ان صفحوں پر بہت اچھی اچھی کہانیاں پڑھنے کو ملیں۔ معراج رسول اس کے مالک اور مدیر اعلی ہوا کرتے تھے۔ انہی کے ادارے نے انیس سو پچھتر کے آس پاس سسپنسں ڈائجسٹ کے نام سے ایک نیا ماہنامے کا اجرا کیا۔ اس میں بھی بڑے اعلی درجے کی کہانیاں پڑھنے کو ملیں۔

سسپنس ڈائجسٹ کے پہلے صفحات پر ایک طویل تاریخی کہانی اس کا خاصہ تھی۔ الیاس سیتا پوری کی بہت سی تاریخی اور زکیہ بلگرامی کی اسلامی کہانیاں ان صفحات پر پڑھنے کو ملیں جو یادوں کے دھندلکے میں اب بھی کبھی کبھی یاد آجاتی ہیں۔ اسی ڈائجسٹ کے آخری صفحات پر محی الدین نواب کی شاہکار کہانیاں پڑھنے کہ ملیں۔ خواجہ سرا اور پاکیزہ جذبوں پر مبنی کہانی ”سدا سہاگن ً۔ محبت کے پاکیزہ اور معصوم رشتوں پر مبنی“ محبت کے پھول ”اور سب سے بڑھ کر خاندانی نفسیات پر مبنی شاہکار کہانی“ خوابوں والیاں ”آج تک ذہن میں تازہ ہیں۔

محی الدین نواب کا ایک اور طویل ترین شاہکار فرہاد علی تیمور کی داستان ”دیوتا“ جو بائیس سال سے زیادہ دیر تک قسط وار اس میں چھپتا رہا۔ میں نے اس کی پہلی سے لے کر ساٹھ قسطیں مسلسل پڑھیں۔ زندگی کے جھمیلوں میں پھر اس کا ساتھ چھو ٹ گیا۔ پاکستانی رسائل کی تاریخ میں اس داستان کو طویل ترین قسط وار کہانی کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے اسی ادارے نے انیس سو اسی کی دہائی میں ”سرگزشت ڈائجسٹ“ شروع کیا۔

میں نے اس کے ابتدا ہی میں اسے پڑھنا شروع کیا۔ سرگزشت کے پہلے صفحوں پر ڈاکٹر ساجد امجد کی کافی اچھی اچھی کہانیاں پڑھنے کو ملیں۔ سرگزشت میں بھی قسط وار کہانیوں کے سلسلے بہت اچھے تھے۔ شاہ جہانیاں کی داستان مفرور ایک ایسی ہی دلچسپ کہانی تھی۔ جاسوسی۔ سسپنس اور سرگزشت کا بھی میں مستقل قاری رہا۔ ان سب کے شمارے بھی کافی عرصہ میری لائبریری میں موجود رہے۔

ڈائجسٹوں کے ابتدائی دور میں عنایت اللہ کا رسالہ حکایت بھی بہت پڑھا۔ اس میں ”داستان ایمان فروشوں کی“ اسلامی تاریخ کو نوجوان نسل سے روشناس کرانے کی ایک اچھی کوشش تھی۔ اس کے علاوہ احمد یار خان کی کہانیوں کا سلسلہ کار۔ شلوار اور دوپٹہ، بھی عام لوگوں کی کہانیوں پر مشتمل ایک اچھا سلسلہ تھا۔ اردو ڈائجسٹ کا ایک اپنا مزاج تھا اور ہے۔ گاہے بگاہے اسے پڑھنے کا موقع ملتا رہا لیکن میں اس کا مستقل قاری نہ بن سکا۔ اس کے علاوہ فلمی میگزین۔ دھنک۔ محور اور مصور بھی کافی عرصہ مطالعہ میں رہے۔ ایک وقت میں وہی وہانوی کی کتب بھی پڑھنے کی ملیں جو یار لوگ چھپ چھپا کر رکھتے اور فلمی رسالوں میں چھپا کر پڑھتے تھے۔

پچھلے بیس سالوں میں روزگار کی مصروفیت نے ان سب سے دور کر دیا۔ اب تو ان ڈائجسٹوں کو دیکھے بھی عرصہ گزر گیا ہے۔ پتہ نہیں ا ب ان ڈائجسٹوں میں کیسی تحریریں چھپتی اور پڑھی جاتی ہیں۔ میں چند سال تک ٹائم میگزین اور ریڈرز ڈائجسٹ کا بھی خریدار رہا۔ ان انٹرنیشنل رسالوں کا ایک اپنا مزا ہے۔ پچھلے بہت سے سالوں میں بہت اچھے انگریزی فکشن کے علاوہ اردو کی بہت سی دوسری کتب پڑھنے کا موقع ملا ہے اور اب تو گھر میں اچھی سی ایک لائبریری بھی بن گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *