مجاہدین، روسی ہیلی کاپٹر، جنت کی حور اور لال شربت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے اسکول میں ناظرے کے استاد ہوا کرتے تھے جو ہم بچوں کے خاندانی مسالک پر اچھے تمسخرانہ انداز میں گفتگو فرما دیا کرتے۔ جماعت ہشتم میں ایک روز انہوں نے ہمیں یہ قصہ بیان فرمایا تھا جو ہو بہو ان کے الفاظ میں لکھنے کی ادنی سی جسارت کر رہی ہوں۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں اور منطق کا لازم و ملزوم استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کریں۔

وہ کہتے ہیں کہ مانسہرہ میں ان کے ایک استاد ہوا کرتے تھے، دین کی تعلیم بھی انہوں نے انہی سے حاصل کی۔ اپنے حلقہ احباب میں بہت معزز اور بزرگ شمار ہوتے تھے۔ عمر بھی زیادہ تھی اور تجربہ بھی۔ مگر ان کی ایک جھلا دینے والی عادت تھی۔ وہ ہر وقت اپنے نچلے ہونٹ پر بس زباں پھیرتے رہتے، اسی بابت سب لوگوں میں بھی مشہور تھے۔

دین کے عالم تو تھے ہی مگر اپنے ہم عمروں میں سب سے زیادہ عزت بھی انہی کی تھی جس کی خاص وجہ ان کا افغان جہاد میں روسی ملحدوں کے خلاف لڑنا اور تقریباً شہید ہونا شامل تھے۔ افغان جنگ کے غازی ہونے کا اعزاز ان کو خاص پسند نہیں تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اللہ نے ان کو درجہ شہادت سے نہیں نوازا جبکہ ان کی خواہش ہی شہادت تھی۔

حضرت چونکہ ہمہ وقت زباں سے نچلے لب کا بوسہ لیتے رہتے جس کے سبب ان کا ہونٹ حجم میں سکڑ چکا تھا۔ ایک روز ان کے شاگردوں نے ایک محفل میں ان سے اس حوالے سے دریافت کرنا چاہا کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ وہ ہونٹوں پر زباں پھیرتے رہتے ہیں جس کے باعث ان کا ہونٹ اتنے سالوں میں گھٹتے گھٹتے مٹنے کو آ گیا تھا۔

ان حضرت نے جواب میں کہا کہ کیا ان کو معلوم ہے کہ وہ افغان جنگ میں مجاہد تھے اور روسیوں کے ساتھ ہیلی کاپٹروں کی خونی لڑائی میں بے حد زخمی بھی ہوئے تھے۔

ان کے شاگردوں نے اثبات میں سر ہلایا اور ان کی باتوں کی تائید کی۔ پھر انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہرات میں ہونے والی کسی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی لڑائی کی روداد سنانا شروع کی۔ جیسے پاکستان ہندوستان کے کالے ہاتھیوں کا معرکہ ہوا تھا، ایسا کچھ ان حضرت کے مطابق مجاہدین اور سوویت فوج کے مابین ہوا۔

مجاہدین نے پے در پے سوویت ہیلی کاپٹر گرائے۔ حق و باطل کے تاریخ کے اس گمشدہ معرکے میں مجاہدین کا بہت جانی نقصان ہوا۔ اسی جھڑپ میں ہیلی کاپٹر کی شیلنگ سے وہ حضرت بری طرح زخمی ہو کر گر گئے۔ ان کے آس پاس جا بجا مجاہدین کی نعشیں پڑی تھیں۔ بارود اور خون کی بو  نے سانس لینے سے روک رکھا تھا۔

اپنی آپ بیتی کو مزید طول دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ کیسے سوویت پائلٹ کو ان کے زندہ ہونے پر شک ہوا اور وہ کافی وقت تک ان کے اوپر پرواز کرتا رہا۔ جب اس کو یقین ہو گیا کہ آخری بچ جانے والا بھی مار دیا گیا ہے تو وہ پرواز کر گیا۔

میدان مسلمان مجاہدین کی لاشوں سے جیسے بھر سا گیا تھا۔ روسیوں نے اپنی عسکری صلاحیت کا خوب فائدہ اٹھایا اور خاصے کامیاب رہے۔ ان حضرت کے زخم گہرے تھے، کوئی امداد مرہم کرنے والا دور دور تک نہیں تھا، درد سے چور ہو کر انہوں نے آنکھیں موند لیں۔ مگر اسی اثنا میں انہوں نے عجب اور دل فریب منظر دیکھا۔ ایسا شاہکار جو آج تلک وہ دوبارہ کبھی دیکھ ہی نہیں پائے۔

میدان جنگ روسیوں کے ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کے بعد خاموش ہو چکا تھا اور ہر جگہ بارود کی دھول اڑ رہی تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ آسمان سے روشنیاں نمودار ہونا شروع ہوئیں، آسمان کا پردہ چاک ہوا اور ان روشنیوں کے راستے سرخ جوڑوں میں ملبوس لڑکیاں زمین پر اترنا شروع ہوئیں۔

وہ حوریں تھیں جو ہاتھوں میں لال شربت کے کٹورے تھامے ہر شہید کے پاس جنت کے مشروب پلانے کو جا رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے سب ساتھیوں کو زندہ ہوتے دیکھا۔ سرخ پیرہن اوڑھے، منہ پر پلو گرائے لڑکیاں اپنے ہاتھوں سے مجاہدین کو سہارا دے کر مشروب پلانے میں محو تھیں۔

اچانک سے ایک حور ان کی طرف بھی آئی، اس نے ان حضرت کے ہونٹوں سے جنت کے کٹورے کو لگا کر شربت پلانا چاہا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آنکھیں ایک دم سے کھولیں اور وہ حور لرز سی گئی۔

میں اس کی گود میں سر رکھے بس اس کو دیکھ رہا تھا، اس کے ہاتھوں سے کٹورا گر گیا اور لال مشروب کے کچھ قطرے ان کے نچلے ہونٹ پر آن گرے۔ بس اس وقت سے ان کے ہونٹ سے جنت کے شربت ذائقہ نہیں گیا۔ اس کی لذت ہمیشہ قائم رہی اور اسی بدولت وہ نچلے ہونٹ، جہاں حور کی کوتاہی کے باعث شربت گرا، وہاں زباں پھیرتے نہیں اکتاتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply