کورونا کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرفان صاحب کے گھر میں دو کمرے ہیں اور ایک لاؤنج ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان صاحب کو کورونا کا مرض لاحق ہو گیا ہے اور وہ کافی بڑھ گیا ہے۔ شدید بخار ہے اور سر میں درد بہت زیادہ ہے۔ سانس لینے میں دشواری اتنی شدید ہے کہ اپنے ہی کمرے کے ساتھ ملحق باتھ روم تک جانے سے بھی ان کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔ ان کے کمرے کے ساتھ لاؤنج ہے۔ لاؤنج میں ان کی بیگم رہ رہی ہیں۔ انہیں بھی کورونا کی علامات شروع ہوچکی ہیں اور ان کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آیا ہے۔

لاؤنج کی دوسری جانب ایک اور کمرہ ہے اور اس کمرے میں ان کا چار سالہ بیٹا رہ رہا ہے۔ اس کا کورونا ٹیسٹ نیگٹیو ہے۔ ذرا سوچیں کہ وہ تین لوگ اس گھر میں رہ رہے ہیں اور تینوں نے ماسک پہنے ہوئے ہیں اور تینوں کو ایک دوسرے سے دور رہنا ہے۔ لیکن چار سال کا بیٹا چونکہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتا اس لیے عرفان صاحب کی بیگم یعنی بچے کی ماں اس کے لیے سارا کچھ انتہائی احتیاط سے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کو کھلانا پلانا بھی ہے اور کورونا سے بچانا بھی ہے۔

گھر میں انتہا کا ڈپریشن ہے۔ کچھ پتہ نہیں کل کیا ہو گا۔ دونوں، عرفان اور بیگم صاحبہ، کی بیماری بڑھ رہی ہے۔ بچہ انتہائی سمجھ دار اور اچھا ہے صورت حال کی نازکی کو سمجھ چکا ہے۔ اب کسی بات پر ضد نہیں کرتا۔ پریشان بہت ہے۔ شاید وہ سمجھ نہیں پا رہا کہ ماما اور پاپا پہلے کی طرح اسے گلے کیوں نہیں لگا رہے، پیار کیوں نہیں کر رہے۔ کوئی چچا، ماموں، خالہ پھپھو یا کوئی دوسرا رشتہ دار ان کے گھر آتا ہے نہ وہ سکول جاتا ہے۔ بچے کو ان سوالوں کے جواب نہیں مل رہے۔ انتہا کی بے بسی اور پریشانی ہے۔ یہ صورتحال حال کسی بھی گھر کی ہو سکتی ہے۔

ابھی چند دن پہلے تک عرفان صاحب کورونا وائرس کا مذاق اڑاتے تھے۔ اسے ایک سازش قرار دیتے تھے۔ جو لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہوتے ان کا بھی مذاق اڑاتے تھے۔ اور کئی لوگوں کو چیلنج بھی کرتے کہ میں دیکھتا ہوں کہ کورونا میرا کیا بگاڑتا ہے۔ کینسر اور سڑک پر ہونے والے حادثات ہر روز کتنی جانیں لے جاتے ہیں ان کی کسی کو فکر نہیں اور سب دنیا کورونا کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ سازش نہیں تو اور کیا ہے۔

ان کا یقین اتنا پکا تھا تھا کہ جب انہیں بخار ہوا ان کا گلا خراب ہوا ان کو کھانسی ہوئی تو بھی کورونا کی جانب ان کا یا ان کے گھر والوں کا دھیان نہیں گیا۔ جب صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو انہوں نے ایک جاننے والے ڈاکٹر کو فون کیا۔

ڈاکٹر نے انہیں کورونا کا کا ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا۔ ٹیسٹ میں کورونا نکلا تو ساری کی ساری صورتحال بدل گئی۔ سوچ بھی بدل گئی۔ انہیں یقین ہو گیا کہ یہ بیماری تو اصلی تھی اور احتیاط نہ کر کے بہت بڑی غلطی کی۔ ان کا ٹیسٹ پازیٹیو آنے کی وجہ سے سے ان کے گھر والوں اور ان سے میل ملاقات کرنے والے بیس لوگوں کے کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے گئے اس میں سے سات لوگوں کے ٹیسٹ پازیٹو آئے۔ ان میں عرفان صاحب کی بیگم، بہن، بھابی، بھانجا اور کچھ دوسرے لوگ شامل ہیں۔ عرفان صاحب کا کورونا پر مکمل ایمان تو پہلے ہی آ چکا تھا اب رہی سہی کسر بھی اتنے ٹیسٹ پازیٹیو آنے سے پوری ہو گئی۔

بدقسمتی سے یہ کہانی صرف ایک گھر کی نہیں ہے۔ دنیا میں لاکھوں گھر اور پاکستان میں اس وقت ہزاروں گھر اس مصیبت سے دو چار ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی یہ تعداد لاکھوں میں چلی جائے گی۔

کورونا ایک عالمی وبا ہے۔ دنیا کے گلوبل ویلج ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، محض چند دنوں میں یہ پوری دنیا میں پھیل گئی۔ ساری دنیا کے متعلقہ سائنسدان اس کو سمجھنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ اس کا سد باب کر سکیں۔ ساری دنیا کے عقل مند لیڈر، سیاستدان اور سماجی کارکن قسم کے دولت مند سائنسدانوں کی مدد میں لگے ہوئے ہیں تاکہ وسائل کی کمی آڑے نہ آئے۔ ساری دنیا کے ڈاکٹر اور باقی میڈیکل سٹاف اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کی تکلیف کم کرنے اور جانیں بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

خوراک کی چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں کام کرنے والے ملازمین اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر لوگوں کو بھوکا مرنے سے بچا رہے ہیں۔ سوشل ورکرز اور انسانی حقوق کے رکھوالے ان لوگوں کو راشن کے تھیلے پہنچا رہے ہیں جن کے پاس خریدنے کی طاقت نہیں ہیں۔ عقل مند اور انسان دوست مذہبی رہنما مسجدیں، مندر، چرچ اور سیناگوگ بند کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ تمام دنیا میں زیادہ تر عوام اپنی اور دوسروں کی حفاظت کی خاطر گھروں میں بند ہیں یا احتیاطی تدابیر کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستانی حکومت، کچھ متعلقہ محکموں کے سرکردہ لوگ اور امریکی صدر ٹرمپ اس عالمی وبا کی حقیقت سے ہی انکاری ہیں۔

پہلے تو صرف ٹرمپ اور عمران نے لوگوں کو کنفیوز کر رکھا تھا اور اب انہیں ہماری اعلی عدلیہ کی سپورٹ بھی حاصل ہو گئی ہے۔ وہ بھی اس متعدی مرض کا موازنہ کینسر اور سڑک پر ہونے والے حادثات سے کرتے ہیں۔ ان کا دماغ یہ بھی نہیں سوچ رہا ہے کہ کورونا کے مرض سے مرنے والوں کی میت گھر والوں کو نہیں دی جاتی بلکہ سرکاری اہل کار اسے قبرستان چھوڑ کر آتے ہیں۔ اس سے پیار کرنے والے کورونا کے ڈر سے ایک دوسرے سے گلے مل کر رو بھی نہیں سکتے۔ ان کا غم سینے میں ہی رہتا ہے۔

کورونا نے پوری دنیا کے انسانوں کی زندگی بدل کے رکھ دی ہے۔ ویکسین اور دوائی ایجاد ہونے تک کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ہم نہ تو اس کی ویکسین یا دوائی کی ایجاد کرنے کا علم رکھتے ہیں اور نہ ہی اس چار سالہ بچے کے دل اور دماغ کی حالت کو سمجھنے کو تیار ہیں جو اپنے ماما پاپا کی ایک جپھی کو ترس رہا ہے۔ ایسے میں عدالتی فیصلہ ہمارے مزاج کے عین مطابق ہے۔ کورونا کو جوتے کی نوک پر رکھنا ہی بنتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 225 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *