ائر بس کی تباہی کئی سوالات اٹھا گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو ہر ہوائی حادثہ آنکھوں کو اشک بار بھی کر جاتا ہے اور پیاروں کا جان سے چلے جانے کا غم فضا کو سوگوار بھی کر جاتا ہے لیکن کل تباہ ہونے والی ائر بس نے ایک جانب عید کی ساری خوشیوں کو ماند کر کے رکھ دیا تو دوسری جانب اتنے سوالات اٹھا دیے کہ جب تک ان سوالات کے تشفی بخش جوابات نہیں ملیں گے، سینے کی کسک کبھی معدوم نہ ہو سکے گی۔

کوئی بھی پرواز جہاں سے اڑان بھرتی ہے اور جہاں اپنے پر سمیٹتی ہے، دونوں کی ذمہ داریوں کی تکمیل جہاز اور مسافروں کی صحیح سلامت منزل مقصود تک پہنچ جانے کے بعد جا کر ہی ختم ہوتی ہے۔ یہ حادثہ اپنی ابتدا میں ہی تنازع کا شکار ہو کر رہ گیا اس لئے کہ اس ائر بس نے جہاں سے اڑان بھری تھی وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے صاف انکاری ہیں کہ جہاز کے ائر پورٹ چھوڑنے سے قبل اس میں کسی بھی قسم کی کوئی فنی خرابی موجود ہونے کا کوئی امکان سرے سے موجود تھا اور جہاز محفوظ پرواز کے لئے بہر لحاظ تیار تھا۔

لاہور ائرپورٹ کا یہ دعویٰ اس لئے بھی تسلیم کرنے کے قابل نظر آتا ہے کہ یہ ائر بس ”ان آپریشن“ تھی یعنی یہ کوئی ایسا جہاز نہیں تھا جو لاک ڈاؤن کے دوران کئی دنوں سے بند تھا۔ جہاز کچھ عرصے بعد اڑان کے لئے بھیجا جا رہا ہو یا اترنے کے فوراً بعد ہی کیوں نہ پرواز کے لئے تیار کیا جا رہا ہو، اس وقت تک روانہ کیا ہی نہیں جاتا جب تک اس کا مکمل معائنہ نہ کر لیا جائے اس لئے یہ قیاس کر لینا کہ کوئی جہاز سڑک پر دوڑنے والی کسی بس کی طرح منزل کے لئے روانہ کیا جاتا ہے، درست نہیں البتہ کب اور کہاں اس میں کیا خرابی پیدا ہو جائے، اس بات کی ضمانت کسی طور نہیں دی جا سکتی۔

جہاں اس ائر بس کو اترنا تھا (کراچی) وہاں کی اتھارٹیز کے اسٹیٹمنٹ کے مطابق جہاز کی تباہی کا سبب ”فنی“ خرابی قرار دیا جانا بھی درست ہی لگتا ہے اس لئے کہ لینڈنگ کے وقت پائلٹ نے لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کی شکایت کی جس کی وجہ سے وہ پہلی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اور اسے فضا میں ایک اور لمبا راؤنڈ لینا پڑا۔

حادثہ کیونکہ تحقیق طلب ہے اس لئے ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو حادثے کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کرے گی اس لئے چند ایسی باتیں جو راقم کے ذہن میں آ رہی ہیں اگر ان پر بھی غور کر لیا جائے تو ممکن ہے کہ حقیقت تک پہنچنے میں کچھ آسانی پیدا ہو سکے۔

پہلا سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کا مطلب کریش لینڈنگ ہی ہوا کرتا ہے تو کیا پورے ائرپورٹ کو ہر طرح کے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار کر دیا گیا تھا۔

نمبر دو، کیا ایسا جہاز جو فنی خرابی کا شکار ہو چکا ہو اسے گنجان آبادیوں پر پرواز کرتے رہنا چاہیے تھا۔

نمبر تین، لینڈنگ کی دوسری کوشش میں پائیلٹ کا لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کی کوئی شکایت موجود نہیں تھی اور اگر تھی تو کیا کراچی ائر پورٹ صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار کر دیا گیا تھا۔

نمبر چار، بینک آف پنجاب کے صدر جناب ظفر صاحب کے علاوہ ایک اور خوش نصیب فرد کے بیان کے مطابق دھماکا ہونے سے قبل جہاز میں دھواں پھیل رہا تھا لیکن سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے دکھائی جانے والی تصویر جہاز میں آگ لگ جانے کی تصدیق کرتے نظر نہیں آتی تو بار بار اس کے بیان کو نشر کیے جانے کا مقصد کیا ہے۔

نمبر پانچ، انجنوں کے بند ہوجانے کی نفی بھی سی سی ٹی وی کیمرے سے نہیں ہو رہی کیونکہ جہاز ایک دم نیچے آنے کی بجائے لینڈنگ پوزیشن میں پرواز کرتا ہوا صاف نظر آ رہا ہے البتہ وہ اپنے لینڈنگ کے مقام سے کافی پہلے اس پوزیشن میں آ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ رہائشی آبادی پر جا پڑا ہے۔

میرے نزدیک یہ پانچوں سوالات بے شک بہت اہم ہیں اور ان کے تشفی بخش جوابات لازماً ملنے چاہئیں لیکن ایک سوال جو ذہن میں بہت شدت کے ساتھ سوئیاں چبھو رہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر گوگل کے نقشے پر ائر پورٹ کی وہ اسٹرپ جس پر جہاز کو لینڈ کرنا تھا، اس کی سمت (ڈائریکشن) پر نظر ڈالی جائے اور ”جناح گارڈن“ (جس بستی پر جہاز محو پرواز تھا) کی سمت پر نظر ڈالی جائے اور یہ مان لیا جائے کہ جہاز مناسب بلندی پر تھا اور کسی قسم کی کوئی فنی خرابی بھی اس میں موجود نہیں تھی تو کیا وہ اپنی اسٹرپ کو بالکل درست طریقے سے بالکل سیدھ میں چھو لینے میں کامیاب ہو سکتا تھا؟

باقی سارے نکات سے یہ نکتہ بہت ہی تحقیق طلب ہے کیونکہ جس سمت سے جہاز ائر پورٹ میں داخل ہو رہا تھا، حادثے کا شکار ہونے کا اندیشہ بہر کیف موجود تھا اس لئے کہ وہ صحیح ڈائریکشن میں اپنی مطلوبہ اسٹرپ کو چھوتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا۔

کل کی پریس کانفرنس میں اتھارٹیز کا یہ کہنا کہ پائلٹ کے ساتھ ”کچھ ہوا ضرور تھا“ بھی کافی غور طلب جملہ ہے لہٰذا اس المناک واقعے کی بہت گہرائی کے ساتھ تحقیق ہونی چاہیے تاکہ دیدہ و نادیدہ مجرموں کو سامنے لایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply