وبا کے دنوں کا رمضان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک زمانہ ہونے کو ہے آوارہ گردی اور بیٹھکوں کا شوق موقوف ہوئے۔ اب گھر میں سوا قرار ملتا ہے اور آسودگی۔ وگرنہ کوئی دن تھے کہ ملتان نامی اس شہر قدیم کی شب کا دوسرا، تیسرا پہر ہمیں شہر کی راہوں، شاہ راہوں کا سینہ روندتے پاتا یا پھر کسی شب زندہ دار چائے خانے کی نیم شکستہ کرسیوں اور بنچوں کی پشت پر۔ دو تین وجوہات ہیں اس کایا پلٹ کی۔ ایک تو وہ جو ندیم ہائے دیرینہ تھے اور راز داران شب و روزینہ، پتہ نہیں انہیں کیا جلدی تھی کہ قریباً سب کے سب ہی موت کا جام چڑھا گئے۔ اب آوارہ گردیوں میں قدم سے قدم ملانے والا کوئی نہیں رہا ماسوائے ملک فیاض اعوان کے، اللہ پاک اسے صحت و تندرستی کے ساتھ تادیر سلامت رکھے۔

دوسرا اب عمر عزیز کا وہ پہر آن پہنچا ہے کہ ”گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے“ والی کیفیت طاری رہا کرتی ہے۔ گھنٹوں چائے خانوں پر بیٹھنا تو آگے ہی موقوف ہو چکا تھا، اب دفتر کے علاوہ گھر سے باہر کی کوئی مصروفیت تھی تو فقط تقریبات۔ وہ بھی وبا کی نذر ہوئیں۔ تیسری اور سب سے بڑی وجہ مہمان ہیں۔ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے۔ گھر میں بھی اور باہر جانا ہو تب بھی انہی کا ساتھ بھلا لگتا ہے۔ سو یہ وبا سے پہلے تک تو یہ عالم تھا کہ کم و بیش ہر دوسرے دن ہم بعد از شام ایک چکر باہر کا لگایا کرتے تھے اور ویک اینڈ پر تو ضرور۔ انہیں ہمارے ساتھ اور ہمیں ان کے ساتھ وقت بتانا اچھا لگتا ہے۔ یہ وہ مہمان ہیں جو ایک دن خیر سے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوجائیں گے

وسیں رسیں میرے بابل دیا ویہڑیا
کھڑیا رویں توں نور و نور
اڈ اڈ آوے مہک اساں پردیسناں نوں
توریاں نیں بھانویں کونجاں دور

”اے میرے بابل کے آنگن تو پھولوں کی طرح کھلا رہے اور تجھ پر نور برستا رہے۔ ہم دور جانے والی پردیسی کونجوں کو ہوا کے ساتھ اڑ اڑ کے تیری مہک آتی رہے“

زمانہ بہت ترقی کر گیا ہے، تہذیب و معاشرت نے آگہی کی بہت سی منازل طے کر لی ہیں مگر سچ یہی ہے کہ ابھی ابھی ہمارے سماج میں لڑکیوں کی حیثیت ثانوی اور محکوم کی سی ہے۔ آج کے جدید اور باشعور دور کی ماں کے لبوں پر بھی اولیں دعا بیٹیوں کے اچھے نصیب کی ہوتی ہے کیونکہ بیٹی کے اچھے برے نصیب کی وابستگی شوہر اور سسرال سے وابستہ ہے۔ سو جب تک یہ ہمارے آنگن میں چہکاریں بکھیر رہی ہیں، ان کے ساتھ اچھا اچھا وقت بتانا چاہیے۔

اگلے دن سجاد بری شفقت پدری سے چھلکتے آہنگ میں اپنی اکلوتی بیٹی ہادیہ کا ذکر کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ لاہور قیام کے دوران جب ایک دفعہ منو بھائی مرحوم کے ساتھ ہادیہ کا ذکر ہوا تو انہوں نے ہدایت کی ”گھر جاتے ہوئے بیٹی کے لئے کچھ نہ کچھ لے کے جایا کرو۔ آگے پتہ نہیں کس قسم کے لوگوں کے ساتھ اسے رہنا پڑے، جب تک تمہارے پاس ہے، اس کا بہت خیال رکھا کرو“

آج کی تمہید لمبی ہوگئی، میں نے تو وبا کے دنوں میں گزرے رمضان المبارک کا ذکر کرنے کو یہ تمہید اٹھائی تھی لیکن جب بیٹیوں کا ذکر آ جائے تو پھر بات سے بات نکلنے لگتی ہے۔ مجھے بھی الحمدللہ تین مہمانوں کی میزبانی بخشی گئی ہے۔ پہلا مہمان میرے آنگن میں اترا تو اس کا نام رسول کریم کی سب سے بڑی صاحب زادی کے نام پر زینب رکھا۔ ڈیڑھ برس بعد دوسرے مہمان کا نام رحمت عالم کی سب سے چھوٹی صاحب زادی کے نام پر زہرا رکھا۔

تیسرا مہمان قدرے دیر سے آیا، اس کا نام رسول اللہ کی لاڈلی نواسی، دختر بی بی زینب، کے نام پر امامہ رکھا گیا۔ کوشش ہوتی ہے کہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو اور بساط بھر ان کے ساتھ اچھا وقت گزارا جائے۔

کہنا یہ تھا کہ اب کے بار وبا کی وجہ سے رمضان کا لطف پہلے والا نہ تھا۔ رمضان میں ہماری پلاننگ کچھ سوا ہوا کرتی تھی۔ سحر و افطار کے لئے مشورے، پسند ناپسند پر جھگڑے اور ہر جمعہ کے روز کسی ریستوران میں افطار۔ بازار کے چکر اور آوارہ گردیاں۔ اب کے بار سب موقوف رہا۔ بڑی دونوں ماشاءاللہ اب سمجھ دار ہیں۔ انہوں نے ماں اور باپ کو کورنٹائن کر کے رکھا پورا رمضان۔ گو کہ آخری عشرہ میں بازار کھل گئے مگر ساری خریداری اب کے آن لائن ہوئی، درزی کو بھی گھر پہ بلایا گیا۔ مجال ہے کوئی بازار کا رخ کرسکے۔

ریستوران بند ہیں سو باہر جو افطاریاں ہوا کرتی تھیں، وہ بھی نہ ہو پائیں۔ رمضان بھر میں رات کو دو چار دفعہ بس آئس کریم کھانے کو گھر سے نکلے۔ دکان پر پہنچ کے گاڑی سے اترنے سے پہلے ہدایات سننا پڑتیں کہ کاؤنٹر کو، فریزر اور ریک وغیرہ کو ٹچ نہیں کرنا۔ واپس آکر بیٹھتے ہی ہینڈ سینی ٹائزر تھما دیا جاتا رہا۔

سو اب کے اس ڈھنگ سے رمضان گزرا۔ گھر میں نظر بندی اور کبھی کبھار احتیاط کی زنجیروں میں جکڑی آزادی۔

اے کوویڈ 19 تیرا برا ہو کہ تونے ہماری آزادیاں سلب کر لیں۔ رمضان کے مقدس مہینے کا جو ایک خاص ماحول ہوا کرتا تھا، وہ چھین لیا۔ عید بھی کچھ ایسے ہی ڈھنگ سے گزرنے والی ہے۔ جیسی بھی ہے، آپ سب کو دلی عید مبارک۔ احتیاط بہرحال لازم ہے کہ سب رونقیں زندگی کے ساتھ ہیں۔ زندگی بخیر، رمضان اور عیدیں آتی رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *