پی آئی اے طیارہ حادثہ


کل دو بج کر 25 منٹ پر کراچی سے آنے والا PK۔ 8403 انجن کی خرابی کے باعث ائرپورٹ کے قریب علاقے ماڈل کالونی میں جا گرا۔ اطلاعات کے مطابق اس طیارے میں 99 افراد سوار تھے۔ جن میں سے سے 97 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ بچ جانے والے خوش قسمت افراد میں پنجاب بینک کے صدر ظفر مسعود اور زبیر نامی نوجوان انجنیئر شامل ہے۔ طیارہ گرنے کے کچھ وقت کے بعد ہیں ڈی جی رینجرز اور عیدی کے رضاکاروں نے جائے وہ پر پہنچ کر اپنی کر اپنی امدادی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔

پاکستانی تاریخ میں ہونے والا یہ کوئی پہلا طیارہ حادثہ نہیں ہے سے پہلے بھی 1992، 2006، 2010، 2016 میں فضائی حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں ہم نے کئی سو افراد کی قیمتی جانیں گنوائی ہیں۔ پی آئی اے ائر لائن کی ناقص کارکردگی کی کئی مثالیں ہمارے سامنے وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔ 7 جولائی 2016 چترال سے اسلام آباد جانے والا پی آئی اے کا طیارہ حادثے شکار ہوا جس میں ہم نے 47 افراد کی جانیں گنوائیں جن میں مشہور نعت خواں جنید جمشید کا نام بھی شامل ہے۔

اب سوال یہ آتا ہے کہ یہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا کچھ لوگ اسے صرف ان لوگوں کی بد قسمتی تصور کر رہے ہیں جبکہ کچھ افراد کو اس میں سازش کی بو آہی ہے۔ پلین کریش ہونے سے کچھ منٹ پہلے کی ریکارڈنگ میڈیا پر چل رہی ہے جس میں پائلٹ کی آواز آسانی سے سنی جا سکتی ہے ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ”دونوں انجن فیل ہوچکے ہیں“۔

اس غمناک حادثے کی پریشانی اپنی جگہ ہے لیکن میڈیا اور لوگ غلط خبریں پھیلانے میں پیش پیش ہیں جن کی وجہ سے متاثرہ افراد کے لواحقین کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سی تصاویر گردش کر رہی ہیں جو کے اس صورتحال میں سب کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔

میری سوشل میڈیا صارفین سے درخواست ہے ایسے حالات میں کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے پھیلانے سے گریز کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے وزیر ہوائی بازی نے بھی کہا ہے کہ مکمل رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کیا اس حادثے کو بھی ماضی میں پیش آنے والے حادثوں کی طرح تفتیش کے بعد بھلا دیا جائے گا یا اس ادارے کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے کوئی موثر قدم اٹھایا جائے گا۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

Facebook Comments HS