ڈاکٹر شیر شاہ کا خط پی آئی اے کے سربراہ مسٹر ارشد ملک کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(مترجم۔ گوہر تاج)
فلائٹ نمبر 8303 کے حالیہ حادثے کے سانحہ پہ مہربانی کر کے ان جان سے ہاتھ دھو نے والوں کو شہید مت کہیں کیونکہ نہ وہ جہادی تھے اور نہ وہ زیارات یا تبلیغی دورے سے واپس آرہے تھے اور نہ ہی اسلام کے دشمنوں سے لڑنے یا وطن کے لیے لڑنے کے بعد واپس آرہے تھے۔ وہ تو عام سے معصوم شہری تھے اور انتہائی نارمل انسان جو لاہور سے کراچی ایک ہوائی جہاز سے واپس آرہے تھے۔ ان میں

٭ ایک میڈیکل کے چوتھے سال کی طالبہ تھی جو لندن میں اپنا الیکٹوز کرنے کے بعد اس امید پہ آ رہی تھی کہ آمد کے لاؤنج میں اپنے والدین سے گلے لگے گی۔ پانچ افراد پہ مشتمل گھرانا امیدوں اور خوابوں میں لپٹا گھرانا تھا۔

٭ ایک بچوں کی بہت سینئر معالج تھی کہ جس کا بیٹا کراچی ائر پورٹ پہ اس کا منتظر تھا۔
٭ کچھ سپاہی اور ان کے خاندان تھے جو واپس اپنے گھر والوں کے ساتھ عید منانے آرہے تھے۔
ایک نجی ٹی وی چینل کا اینکر تھا۔
٭ ایک نوجوان ایمبریالوجسٹ تھی جو اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے پاکستان آ رہی تھی۔

اس ملک کے عام سے لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ نارمل سی زندگی گزاریں۔ انہوں نے آپ پہ اعتماد کیا، آپ کی ائر لائن، آپ کے پائلٹ، آپ کے انجینئرز، اور آپ کے نظام پہ۔

آپ نے ان کے اعتماد کو پامال کیا۔ آپ کا ائر کرافٹ اس قابل نہ تھا کہ وہ پہلی کوشش میں لینڈ کر سکتا۔ آپ نے عمارتوں کہ جن پہ اونچی پانی کی ٹنکیاں بنی ہیں، اور جو رن وے کے بالکل قریب تھیں کی تعمیر سے بے اعتنائی برتی۔ آپ مسافروں کی حفاظت کے مقصد کے حصول کے لیے سول ایوی ایشن کے شعبہ کے کارکردگی چیک کرنے میں ناکام رہے۔

اور

اس پہ بھی آپ کو یہ ہمت تھی کہ ایک پریس کانفرنس بلائیں اور کہیں کہ پی آئی اے میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ اور پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ معصوم لوگ تو شہید ہیں۔ کس قسم کے پیشہ ورانہ لوگ ہیں آپ کہ جو اس تباہی کی ذمہ داری قبول کرنے میں بھی ناکام ہیں؟

وہ معصوم بھائی اور بہنیں ہمارے ملک کے شہری ہیں جنہوں نے آپ کی کہنہ سال پرانی نا اہلی اور بے توجہی کی وجہ سے تکلیف دہ اور خوفناک موت کا سامنا کیا۔ وہ اذیت اور شدید ذہنی دباؤ میں مرے۔ ازراہ مہربانی اپنی نا اہلی بے حسی اور ناکارہ پن کو چھپانے کے لیے ان کو شہید مت کہیں کیونکہ
” اس سے واقعی بہت تکلیف ہوتی ہے۔“

از ڈاکٹر شیر شاہ سید

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ڈاکٹر شیر شاہ کا خط پی آئی اے کے سربراہ مسٹر ارشد ملک کے نام

  • 26/05/2020 at 1:23 am
    Permalink

    ye the baa-kmal logon ki lajwab perwaz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *