میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟
ڈاکٹر ضیاء الحسن شعبہ اردو اورینٹل کالج، جامعہ پنجاب میں محترم استاد ہیں۔ درجنوں کتابیں لکھ چکے ہیں، تنقید اور فکشن میں آپ کا اپنا مقام مسلمہ ہے۔ ہر دلعزیز استاد ہونے کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ وہ طلبا سے تخلیقی سرگرمیوں پہ مبنی کام لیتے ہیں، سوچنا سکھاتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو تفویض کرنے کے پس پردہ جو جذبہ کارفرما ہے وہ دراصل طلبا کی سرگرمیوں میں نکھار لانا ہے۔ گئے دنوں اب کے جو، موضوع انھوں نے تفویض کیا وہ تھا ”ہم ادب کیوں پڑھتے ہیں“
بھئی اول تو کھری بات یہ ہے کہ سوچنا بھی دو بھر ہورہا ہے کہ میں ادب کیوں پڑھتا ہوں۔ اس سوال کو لے کر ہفتے بھر سے خلجان میں مبتلا ہوں کہ اس کا جواب کس طور دیا جائے۔ ہر چند میں نے ادب کا مطالعہ اس طرح سے نہیں کیا جس طرح یار لوگ کرتے رہے ہیں یا کرتے ہیں۔ میرا مطالعہ لاشعوری قسم کا رہا ہے یعنی ایسا مطالعہ جو پڑھا بھی تو سر سے گزر گیا مگر کسی لفظ، خیال، پیشکش، واقعے پہ شعوری نظر کی تو وہ میری تخلیق میں اس طور حلول کر گیا کہ اسلوب میں نکھار لانے کا موجب ہوا۔
ادب جسے ایک زمانے سے پڑھتا چلا آ رہا ہوں۔ اس دعوے سے تو قاصر ہوں کہ میں نے کیا کیا پڑھا اور کس کس سے صرف نظر کیا۔ بس جس کتاب کے صفحہ اول نے کھینچا اس کے آخر تک ورق گردانی کرتا ہوا ضرور پہنچا۔ اگر کسی نے صفحہ اول سے نہ پڑھنے پہ آمادہ کیا تو اسے طبیعت پہ جبر کر کے کبھی پڑھنے کی کوشش نہ کی۔ یار لوگوں نے اپنے مطالعات کی روشنی مارکیز، دوستو فیسکی، قراۃ العین حیدر، اسد محمد خان، نئیر مسعود سمیت کئیوں کے نام گنوائے ہیں۔ جو پڑھنے سے متعلق ہیں۔ میرا
میں شاید بد مذاق واقع ہوا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا مصنفین سمیت دیگر بہتوں کو پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے مگر مطالعات پتا دیے بغیر صاف گزر گئے۔ اچھا پھر کیا جتن کرتا پڑھنے کو چنانچہ ان مطالعات کی طرف لپکا جن کے صفحات اول پڑھتے ہی بنی۔ بہت نظر کی، آخر کیا معاملہ ہے کہ جن مصنفین کا ایک عالم میں شہرہ ہے وہ صاف کیوں سر سے گزر جاتے ہیں۔ ایک وقت مجھ پہ کھلا کہ میں اس طرح کی کتابوں کا عادی یونیورسٹی کے زمانے میں ہوا، مذاق بہتر ہونے میں وقت تو لگے گا۔ ادھر طبیعت کا مزاج یہ ہے کہ جبراً کچھ پڑھنے پہ آمادہ نہیں۔
لو کن بکھیڑوں میں جا نکلا کہ عنقائے مضمون دام سے پھسلنے لگا ہے صاحبو! مجھے کہنے دیجیے کہ میں ادب سے لگا کھاتی تحاریر کو اس واسطے پڑھتا ہوں کہ وہ مجھے زمان و مکان، مذہبی و غیر مذہبی، جنس، فرقہ اور دیگر تعصبات سے آزادی دلاتا ہے۔ سرحدی قیود سے آزاد کر کے خلائے بسیط و عریض میں زیر تعمیر انسان سے ملواتا ہے۔ ادب پڑھنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ادب نے میری زندگی کے معنی بدلنے کے ساتھ ساتھ میرے طرز حیات کو بدل دیا ہے۔ ۔ چند باتیں کہنی چاہیں جو مجھے ادب پڑھنے پہ اکساتی ہیں۔
ایک زمانہ ہوا کہ میں مصلی تھا۔ دین و مذہب کے بارے میں کوئی منفی بات خاطر میں نہ لاتا تھا۔ ادب یہ تبدیلی لایا کہ اس نے میرے نظریات کو وسعت دی۔ اس نے مذاہب کی قید سے آزاد کر کے مجھے انسان کے آفاقی آلام کی جانب موڑ دیا۔ بسلسلہ تعلیم ایک زمانہ حالت دربدری میں لائل پور میں گزارا۔ فاقے کیے۔ مشقتیں جھیلیں۔ ایسے میں وہ باتیں جو دین و مذہب سے متعلق تھیں اور ایک زمانے سے بدعت بن کر چلی آتی تھیں، ادب نے جہالت کے جالے اکھاڑ کر وہاں دلائل کے انبار لگا دیے۔
ہر چند ایک سوال کے جواب میں ایک بار استاد محترم جن کا نام لیتے ہوئے زباں کٹتی ہے، نے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا کہ مذہب کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، ممکن ہے نہ ہوتی ہو مگر میری فہم کو ادب نے جلا ضرور بخشی۔ نوع بہ نوع مصنفین کا جو مذہبی مسالے سے مختلف ملا پڑھ ڈالا۔ کہیں کچھ ایسا ملا جس نے میرے درد کو زبان دی۔ میری تحریر کو تخیل کی روشنی سے آراستہ کیا۔ میرے حادثوں کو پیراستہ کیا۔ کتابوں میں لکھے دکھ سے جب ذاتی تجربہ آشنا ہوا تو یہی سمجھ آیا کہ پیٹ بڑا دکھ ہے۔ اس کے سامنے تمام دکھ ہوا ہیں۔ اس تجربے نے میری سوچ کے زاویوں کو بدل دیا۔ مجھے ہندو، مسلم، عیسائی خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو کے پیٹ کی فکر نے آ لیا۔ حمزہ یعقوب نے اس زمانے میں کیا خوب فی البدیہ شعر کہا
بھوک نے تمام مذاہب کو غلط ثابت کیا
جس نے ایک لقمہ کھلایا خدا لگنے لگا
پیٹ سے قطع نظر دیگر طرز زندگی پہ نظر کروں تو ادب پڑھنے کا دوسرا سبب عورت کی آزادی سے متعلق نظریات میں وسعت ہے مثلاً ایک زمانہ تھا کہ میں چاہتا تھا۔ عورت ہانڈی روٹی اور کپڑے دھوبن گھاٹ کے گرد گھومتی رہے۔ ادب نے مجھے بتایا کہ وہ انسان ہے وہ چرخہ کاتنے، کپڑے دھونے، بچے پیدا کرنے، گر گرہستی سنبھالنے کو تو ضرور لائی گئی ہے۔ مگر بحیثیت انسان اسے آزادی ملنی چاہیے۔ اسے مرد کی طرح کے اختیارات ملنے چاہیں۔ اس اپنی عملی زندگی میں شوہر کی موجودگی و عدم موجودگی میں بھی اسی طرح مختار کل ہونا چاہیے، جس طرح کہ مرد اپنے لیے چاہتا ہے۔ ادب مجھے بتاتا ہے کہ وہی اختیارات عورت کو بھی ملیں۔ مثلاً اسے کچن ہانڈی روٹی کی دیگچی میں ڈال کر ہم نے قید کر دیا ہے۔ اس کی حیثیت باندی سے زیادہ کچھ نہیں۔ معلوم ہے عورت گھر کی زینت ہے۔ مگر اسے با اختیار کرنے یعنی حسب توقع با روزگار ہونے کے لیے مواقع دیے جانے چاہئیں تاکہ کل کلاں اسے زمانہ دھتکار دے تو وہ دارالامان یا دربدری سے درچار ہونے کی بجائے کہیں اچھا کام کر کے اپنے جیون کے وسائل پیدا کرسکے۔
میں ادب اس واسطے بھی پڑھتا ہوں کہ اس نے مجھے امیر غریب کی قید سے آزاد کر دیا ہے۔ مثلاً ایک زمانہ تھا ہوا و ہوس کی تمنا نے بڑی جگہ پائی کہ یہ بن جائے وہ بن جائے یہ دولت یوں سمیٹ لوں یہ نقشہ یوں کھینچ دوں۔ ادب نے تصور زندگی بدل دیا۔ دم تحریر بھی عملی زندگی میں اپنا چلن کچھ یوں ہوگیا ہے کہ بندہ خواہ کتنا ہی بد ذات کیوں نہ ہووے، بیٹھوں گا، گپ بازی کروں گا اور کسی خدمت کے لائق ہوا تو بجا لاؤں گا۔ ادب پڑھنے کا ایک سبب یہ بھی سن لیو کہ یہ مجھے زمان و مکان اور سرحدی مسائل سے بھی آزاد کرتا ہے۔ مجھے ایک ہندو کا دکھ بھی اپنا محسوس ہوتا ہے جتنا کسی مسلم کا۔
جاننا چاہیے کہ ادب نے میرے ان نظریات کو وسعت دی جو راسخ العقیدہ ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ گئو کشی واسطے ہندوستانیوں کے تکلیف دہ ہے۔ میں چاہتا ہوں، دوسرے کے دیوتا کو اذیت کی موت مارنے کی بجائے ایسی قربانیاں کسی مناسب طریقے سے کر لی جائیں کہ پڑوسی کو رنج نہ ہو اور اذیت کا سماں بھی نہ ہو
چند دلچسپ واقعات سنیے۔
لائل پور میں بسلسلہ تعلیم مذہب کی آنکھ بچا کر عیسائیوں کے ساتھ ایک ہی تھالی میں روٹیاں توڑی ہیں۔ سال رفتہ جب سندھ کے دوردراز علاقے سیہون شریف جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں کے دور دراز قصبے مروت میں ہندوؤں کے مندر میں نہ صرف حاضری دینے کا شرف رہا ہے بلکہ ان کے مسائل جاننے کے اشتیاق نے بھی ہاتھ ملانے پہ مجبور کیا۔ ایک بار حیدر آباد سے کراچی جانے کو عازم سفر ہوا تو ایک ہندو ساتھ لگ بیٹھا، نہ کراہت آئی نہ قے آئی بیٹھا اور خوب باتیں واتیں کرتا رہا یہاں تک کہ وہ مکلی قبرستان سے پہلے اتر گیا۔ ایک زمانے میں مجھے لاہور میں نائجیرین پی ایچ ڈی سکالر ’ہوجو‘ سے بھی مکالمے کا اتفاق ہوا جو نسلاً حبشی تھا اور کس قدر بھاری جثے کا حامل تھا۔
لو سوال دام سے نکل رہا ہے۔ بھئی سوال تھا کہ میں ادب کیوں پڑھتا ہوں، ہر چند مرقوم بالا جوابات دوستوں کے لیے تشفی آمیز و بابرکت ثابت نہ ہوں مگر ادب پڑھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب میں اذیت میں ڈولتا ہوں تو یہ میرے درد کو زبان دیتا ہے۔ یہ ایسی مسرت بخش کیفیت ہے کہ جو باتیں عالم جنوں میں مجھے دیواروں سے کرنا پڑتی تھیں۔ وہ ادب نے زبان دے کر خرید لیں۔ ادب نے مجھے دکھ درد خوشی و غمی، نفرت اور غصہ ایسی کثافتوں کے بلیغ مفہوم سمجھائے ہیں۔
ادب نے سماجی رویوں کی تفہیم میں مجھے مدد دی ہے۔ ادب نے میرے اسلوب حیات کو بدل دیا ہے۔ اچھا کپڑا جوتی میسر نہ آئے تو مطلق پروا نہیں رہتی، اچھی کتاب میسر آ جائے تو طبیعت بہار ہوجاتی ہے۔ تمام ہونے سے قبل ادب پڑھنے کا آخری سبب اپنے تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا بھی ہے۔ ادب میرے دکھ، درد، رنج و مسرت میں بیتے ثانیوں کو تحریر میں بدل دیتا ہے۔ جہاں وہ منظر نگاری تشکیل دیتا ہے۔ محاکات نگاری سے کام لیتا ہے۔ اور اسی اپنے سچ کی صورت ادب کے کسی دوسرے قاری کو زبان دیتا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ طبیعتوں کا اختلاف فطری امر ہے مگر جب ادب سماج کا ترجمان ٹھہرتا ہے تو جذبوں کا بھی نمائندہ ہوجاتا ہے اور جذبے جنس سے ماورا اور سرحدوں سے آزاد ہوتے ہیں
مرقوم بالا جن باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ شاید اتنی سنجیدہ نہ ہوں مگر میں ادب پڑھ کر جن زاویوں کی پاتال تک پہنچا ہوں، ان کا تذکرہ اپنے تئیں صفائی سے آپ کی خدمت میں بجا لایا ہوں۔


