کعبے پر پڑی جب پہلی نظر سفرنامہ حج۔ 3

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب مسجد نمرہ کے باہر سڑک پر مزدلفہ جانے کے لئے تیار کھڑے تھے۔ مغرب ہو گئی تھی لیکن ابھی تک روانگی نہیں ہو رہی تھی۔ پتہ چلا کہ سعودی حکام نے راستہ بند کیا ہوا ہے جو روانگی کا وقت ہونے پر ہی کھلے گا۔ کچھ ہی دیر بعد آہستہ آہستہ قافلہ آگے سرکنا شروع ہو گیا۔ ہم سب بھی ہجوم کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہو گئے۔ اگست کا وسط تھا اسی کے لحاظ سے موسم میں بھی کافی حدت تھی۔ چلتے چلتے پتہ نہیں کب ڈاکٹر صاحب اور ان کی فیملی ہم سے بچھڑ گئے۔

میرا خیال تھا کہ وہ ہمارے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ وہ بھیڑ کی وجہ سے کہیں کھو گئے تھے ان کو نہ پا کر ہم سڑک کی ایک جانب کھڑے ہو کر ان کا انتظار کرنے لگے۔ آدھا گھنٹہ انتظار کے باوجود جب وہ کہیں نظر نہیں آئے تو ہم نے بھی چلنے کا ارادہ کیا۔ مجید صاحب اور ان کی خاتون خانہ ہمارے ساتھ تھے۔ ہم چلتے ہوئے صبح والے بس ٹرمینل پر پہنچے تا کہ صبح کی طرح کچھ سفر بس کے ذریعہ طے کر لیں۔ میں سب کو باہر کھڑا کر کے ٹرمینل کے اندر گیا۔

وہاں اس وقت بہت ہی زیادہ رش تھا۔ خواتین کے ساتھ وہیل چیئر لے کر بس پر سوار ہونا بہت مشکل نظر آیا۔ باہر آ کر سب کو اندر کی صورت حال بتائی تو بیٹی نے کہا پاپا جان پیدل ہی چلتے ہیں۔ میں مما جان کی وہیل چیئر دھکیل لوں گی۔ بیٹی نے صبح بھی بہت ہمت کی تھی۔ مجھے پہلے ہی صبح اس کا پیدل چل کر آنے کا بہت دکھ تھا۔ وہ زندگی میں کبھی بھی اتنا پیدل نہیں چلی تھی اور وہ بھی اتنی گرمی میں۔ میں نے اسے کہا کہ بیٹا وہیل چیئر کی آپ فکر نہ کرو۔

ہم نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیا۔ سڑک کے دونوں کناروں پر پانی کے فوارے اب بھی صبح کی طرح چل رہے تھے۔ روشنی کا بھی بہت اچھا انتظام تھا۔ ہمارے ساتھ ہزاروں لوگ پید ل مزدلفہ کی طرف رواں دواں تھے۔ پیدل چلنے والے رستے سے تھوڑی دور دوسری ٹریفک کے لئے ایک اور سڑک تھی جس پر ہزاروں بسیں۔ کاریں اور ٹیکسیاں چیونٹی کی رفتار سے رینگ رہی تھی۔ ہم تھوڑی تھوڑی دیر بعد رکتے، کچھ دیر سستانے کے لئے سڑک کے کنارے بیٹھ جاتے اور پھر چل پڑتے۔

تقریباً دو گھنٹے کی مسافت کے بعد ہمیں مزدلفہ کا بورڈ نظر آ گیا۔ بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے سفر کا پڑاؤ آ گیا ہے۔ جہاں ہم نے آج کی رات گزارنی ہے۔ یہیں سے ہم نے شیطان کو مارنے کے لئے کنکریاں چننی ہیں۔ ہم نے مزید آدھا گھنٹہ چلنے کے بعد ایک جگہ رکنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ رات آپ نے مزدلفہ میں ہی گزارنی ہوتی ہے۔ مزدلفہ میں گزارنا حج کے واجبات میں سے ہے۔ جہاں ہم نے بیٹھنے کا ارادہ کیا تھا اس جگہ کے نزدیک ہی مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے طہارت خانے بنے ہوئے تھے۔ ہم نے سڑک کے کنارے سے ذرا ہٹ کر اپنی چٹائیاں بچھائیں اور ان پر بیٹھ گئے۔ سڑک پر اب بھی لوگ رواں دواں تھے۔ ہمیں بیٹھا ہوا دیکھ کر

دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے ارد گرد کافی تعداد میں لوگوں نے اپنا قیام کر لیا تھا۔ ہم سب نے وضو کیا۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھا ادا کیں۔ کھانے کی جو چیزیں پاس تھا ان سے اپنے پیٹ بھرے اور آرام کر نے کے لیے چٹائیوں پر لیٹ گئے۔ نیچے زمین گرم تھی، ساتھ لوگوں کا شور بھی تھا اس لئے نیند نہیں آ رہی تھی۔ لیکن پھر بھی ہم سب تھکاوٹ سے بے سدھ سے ہو گئے تھے۔

مزدلفہ میں قیام کا مقصد اللہ تعالی کے انعامات کا شکر بجا لانا ہے۔ کہ اللہ نے نعمت اسلام سے ہمیں نوازا اور ہدایت سے سرفراز کیا۔ اپنے مقدس گھر کی زیارت نصیب فرمائی۔ حجاج اکرام میدان عرفات میں اللہ کی حمد و ثناء اور تسبیح و تقدس کے ساتھ خوب کثرت سے دعا کرتے اور توبہ استغفار کرتے ہیں۔ مزدلفہ میں کثرت سے یاد الہی کا حکم ہے اللہ تعالی فرماتا ہے۔ “پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو اور اس کو اس طرح یاد کرو جس طرح اس نے تمہاری رہنمائی کی، یقیناً تم لوگ اس سے پہلے گمراہ تھے”۔ البقرہ 198۔

مزدلفہ میں اترنا اور یہاں رات گزارنا راحت و آرام کی خاطر بھی ہے۔ کیونکہ حجاج میدان عرفات میں مغرب تک کھڑے دعاؤں میں مشغول رہے۔ زوال کے بعد سورج غروب ہونے تک وہ ان قیمتی لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کوشاں رہے۔ پھر غروب آفتاب ہوتے ہی عرفات سے نکلنے کا حکم ملا۔ اگر راستے میں بغیر کچھ آرام و راحت کیے سفر جاری رکھنے اور سیدھا منیٰ جانے کا حکم دیا جاتا تو یہ ان کے لئے مزید مشقت اور تکلیف کا باعث ہوتا۔

دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد جسمانی راحت کے لئے ضروری تھا کہ رات راستے میں گزارتے چنانچہ مزدلفہ میں اترنے اور یہاں رات گزارنے کا حکم دیا گیا۔ میں نے سب کے لئے شیطان کو مارنے کے لئے کنکریاں چنیں اور گن کر علیحدہ علیحدہ تین تھیلیوں میں ڈال لیں۔ کچھ زائد بھی رکھ لیں کہ اگر کہیں گر گئیں تو پھر کیا کریں گے۔ ابھی ہمیں نیند آئے تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک دم ایک شور اٹھا۔ میں نے اٹھ کر دیکھا تو دو حاجی صاحبان ایک دوسرے سے گالم گلوچ کر رہے تھے۔

ایک بنگلا دیشی حاجی صاحب دوسرے لیٹے ہو ئے پاکستانی حاجی کے اوپر سے گزر گئے تھے جس پر جھگڑا ہو گیا تھا۔ بڑی مشکل اور سب کے سمجھانے بجھانے پر وہ چپ ہوئے ورنہ نوبت مار کٹائی تک پہنچ چکی تھی۔ ایسے واقعات دو تین اور مقامات پر بھی نظر آئے۔ یہاں تو صبر سے کام لینا تھا سب نے۔ اسی طرح سوتے جاگتے فجر کا وقت ہو گیا۔ اٹھ کر دیکھا زیادہ تر لوگ ابھی بھی سوئے ہوئے تھے۔ وضو کے لئے قطار میں لگنا پڑا لیکن جلد ہی باری آ گئی۔

بیٹی اور خاتون خانہ کو اٹھایا۔ مجید صاحب پہلے ہی جاگ گئے تھے۔ سب نے فجر کی نماز ادا کی۔ ۔ ہم چونکہ منیٰ سے کافی دور مزدلفہ کی حدود میں تھے اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں کچھ فاصلہ اور طے کرلینا چاہیے۔ ہم نے اپنا سامان سمیٹا اور چلنے کے لئے تیار ہو گئے۔ خاتون خانہ پیدل چلنے پر زور دے رہی تھیں لیکن ان کی تکلیف کے پیش نظر اور کچھ فاصلہ تیزی سے طے کرنے کے لئے میں نے ان کو وہیل چیئر پر ہی بٹھایا اور چل پڑے۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ہم مزدلفہ کے منیٰ والے

کونے پہنچ گئے یہاں سے منیٰ ایک کلو میٹر رہ گیا تھا۔ ہم سڑک کے کنارے ایک طرف ہو کر رکے اور بیٹھ کر پو پھٹنے کا انتظار کرنے لگے۔ ابھی سورج نکلنے میں کافی وقت تھا۔ سورج نکلنے سے کچھ دیر پہلے ہم منیٰ کی طرف روانہ ہو ئے۔ ہم نے فیصلہ یہ کیا تھا کہ پہلے اپنے کیمپ میں چلتے ہیں اور وہاں خیمے میں ریسٹ کرنے کے بعد شیطان کو کنکریاں مارنے جائیں گے۔ طواف زیارت اگلے دن یعنی گیارہ ذوالحج کو کرنے جائیں گے۔ ابھی صبح سویرے کا وقت تھا اس لئے کیمپوں میں جانے والے سب ہی راستے کھلے ہوئے تھے ورنہ بعد میں زیادہ تر راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔

ہم باآسانی صبح سات بجے اپنے کیمپ پہنچ گئے تھے۔ خواتین اپنے خیمے میں میں چلی گئیں۔ خیمے میں پہنچے تو گرمی میں پیدل سفر اور تھکاوٹ سے برا حال تھا اس لئے بستر پر لیٹتے ہی نیند نے آ گھیرا۔ پھر تین چار گھنٹے کوئی ہوش نہیں رہا۔ بارہ بجے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب بھی پہنچ گئے ہوئے تھے اور گہری نیند سو رہے تھے۔ ان کو اٹھانا مناسب نہیں لگا۔ میں نے سوچا کہ پہلے کنکریاں مار کر آتے ہیں۔ کوشش کریں گے کہ ظہر کی نماز مسجد خیف میں ادا کریں۔ بیٹی اور میں تیار ہوئے تو خاتون خانہ بھی جانے کے لئے بضد تھیں کہ میں بھی آپ کے ساتھ پیدل چلوں گی۔ ان کی ٹانگ کی تکلیف کے باعث ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس لئے ان کو منع کیا اور کہا آپ آرام کرو آج میں آپ کے حصہ کی کنکریاں مار دوں گا کل آپ خود چل کر مار لینا۔
جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *