اوریانا فلاچی۔ تند و تیز انٹرویو کرنے والی بے لاگ صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”مجھے آپ سے اس ’چادر‘ کے بارے میں بہت ساری باتیں پوچھنی ہیں۔ مثال کے طور پر: یہ وہی چادر ہے، جس کو پہننے کے لیے مجھے زبردستی پابند کیا گیا۔ ۔ ۔ جب میں آپ سے انٹرویو کرنے آ رہی تھی اور جس کو پہننے کے لیے آپ ایرانی خواتین کو زبردستی مجبور کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ میں صرف اس ظاہری کپڑے کے ٹکڑے کی بات نہیں کر رہی، بلکہ یہ کپڑا جس پابندی کو ظاہر کر رہا تھا، میرا اشارہ اس طرف ہے۔ میرا مطلب ہے کہ آپ کے انقلاب کے بعد، امتیازی طور پر فقط ایرانی خواتین کو یہ پردہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وہ مردوں کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھ نہیں سکتیں، وہ ان کے ساتھ دفاتر میں کام نہیں کر سکتیں۔ وہ کسی سمندر میں یا سوئمنگ پول میں مردوں کے ساتھ تیر نہیں سکتیں۔ ان کو ہر کام یہ برقعہ پہن کر مردوں سے علیحدہ کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ ۔ ۔ بائی دی وے، مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ برقعہ پہن کر پیراکی کیسے کی جا سکتی ہے؟“

یہ انتہائی تند و تیز سوالات، ”نتائج“ کی فکر کیے بغیر 1979 ء میں ایران کے دارالحکومت ’تہران‘ میں ایران کے پہلے سپریم لیڈر، روح اللہ موسوی۔ آیت اللہ خمینی سے ان کے مشہور ایرانی انقلاب کے فوراً بعد، معروف و دلیر اطالوی صحافی، اوریانا فلاچی نے (جن کو ”اوریانا فلاشی“ بھی کہا جاتا ہے ) بڑی جرات، بہادری اور صحافتی اعتماد سے کر رہی تھیں، جس انٹرویو کے لیے انہیں اس وقت کے ایرانی سرکاری حکام کی جانب سے برقعہ پہن کر آنے کے لیے پابند کیا گیا تھا۔

”ان میں سے کسی بھی بات سے تمہارا کیا واسطہ؟ اگر تمہیں اسلامی لباس پسند نہیں ہے، تو تم مت پہنو! کیونکہ یہ ’نوجوان‘ اور ’عزت دار‘ خواتین کے لیے ہے!“ امام خمینی نے بظاہر دھیمے لہجے میں، مگر دراصل سخت غصے میں رد عمل کے طور پر انہیں یہ سخت جواب دیا۔ ان کے آخری جملے کا بلا واسطہ پیغام یہی تھا کہ: ’سوال کرنے والی نہ ہی نوجوان تھی اور نہ ہی معزز!‘

اوریانا تحمل سے جواب میں امام سے مخاطب ہوتے ہوئے گویا ہوئیں : ”امام صاحب! آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے یہ بتایا۔ میں ابھی کے ابھی قرون وسطیٰ کی اس گندگی سے جان چھڑا لیتی ہوں!“ اور یہ کہہ کر اوریانا نے وہ برقعہ امام خمینی کے سامنے اتار کر پھینک دیا اور دنیا بھر کی خواتین پر لگی ہوئی بے جا پابندیوں کے خلاف کھلا احتجاج کر کے، مرد و زن کی برابری کا ببانگ دہل اعلان کیا۔

اوریانا فلاچی اور ایرانی پریذیڈنٹ بنی صدر

اٹلی کے خوبصورت شہر ”فلورنس“ میں 29 جون 1929 ء کو پیدا ہونے والی یہی معروف و متنازع صحافی، مصنفہ، سیاسی انٹرویوئر اور انقلابی۔ ’اوریانا فلاچی‘ ، جس کو ہم ان کے ”لیٹر ٹو دی چائلڈ نیور بارن“ (کبھی نہ پیدا ہو سکنے والے بچے کو لکھا گیا خط) ، ”دی ریج اینڈ دی پرائیڈ“ (غصہ اور فخر) ، ”انشاء اللہ“ ، ”نیویارک اسٹوریز“ (نیویارک کے قصے ) ، ”دی فورس آف ریزن“ (منطق کی طاقت) اور ”انٹرویو ود ہسٹری“ (تاریخ سے بات چیت) جیسی کتب کی بدولت پہچانتے ہیں، جن میں نہ صرف ان کے بے لاگ اور نڈر انٹرویوز، بلکہ ان کے صحافتی تجربات کے قصے بھی بے باک انداز میں تحریر ہیں۔ انگریزی کے علاوہ ان کی کئی کتب اطالوی زبان میں بھی ہیں، جن میں سے متعدد سے اردو قارئین ابھی تک محروم ہیں۔

اوریانا فلاچی کا نام اور کام، پہلی بار فسطائیت (فاشزم) کے خلاف آواز اٹھانے والی صحافی کے طور پر دوسری جنگ عظیم کے دوران ابھرا۔ جس میں انہوں نے انتہائی بے خوفی کے ساتھ مختلف ممالک میں جنگ کے میدانوں سے براہ راست رپورٹنگ کی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد انہوں نے اس دور کے مشرق اور مغرب کے منظرنامے پر نمایاں اثرات چھوڑنے والے ان عالمی سیاستدانوں سے انتہائی منفرد انٹرویوز کیے، جن میں سے اکثر متنازع اور سخت گیر سمجھی جانے والی شخصیات ہیں۔ ان کے ساتھ اوریانا کے کیے ہوئے انتہائی مشکل اور غصہ دلانے والے سوالات نے، ان انٹرویوز کی اہمیت کو اور بڑھا دیا۔

14 شخصیات سے کی ہوئی یہ تاریخی انٹرویوز، ”انٹرویو ود ہسٹری“ (جس کا اردو میں ترجمہ ”تاریخ کا دریچہ“ کے عنوان سے شایع ہوا ہے۔ ) کے نام سے کتابی صورت میں شایع ہوئے تو دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ یہ کتاب سب سے پہلے اطالوی زبان میں اٹلی سے 1973 ء اور 1974 ء میں شایع ہوئی، جس کے بعد 1976 ء میں اس کا انگریزی ترجمہ شایع ہوا، جس کے آج تک سینکڑوں ایڈیشنز شایع ہو کر بک چکے ہیں اور اردو سمیت دنیا کی بیشتر زبانوں میں اس کے تراجم ہو چکے ہیں۔

اس کتاب میں دو خاتون شخصیات (سابق اسرائیلی وزیراعظم اور تعلیم دان، ’گولڈا میئر‘ اور بھارت کی سابق وزیراعظم ’اندرا گاندھی‘ ) سمیت اس وقت کے امریکی وزیرخارجہ، ہنری کیسنجر، سابق وزیراعظم پاکستان، شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہنشاہ ایران،۔ محمد رضا شاہ پہلوی، آزادیٔ فلسطین کے انقلابی رہنما۔ یاسر عرفات، اردن کے شاہ حسین، نگوئن وان تھیو، جنرل گیاپ، ولی برانت، پیٹرو نینی، ڈوم ہیلڈر کیمارا، صدر بشپ میکیریس اور الیگزینڈر پیناگولز کے انٹرویوز شامل ہیں۔

ہنری کیسنجر نے بعد میں، فلاچی کے ساتھ کی ہوئی اپنی اس بات چیت کو کسی بھی صحافی کو دیا ہوا اپنا ’سب سے تباہ کن انٹرویو‘ قرار دیا تھا۔ فلاچی نے 2001 ء میں ورلڈ ٹریڈ ٹاور نیویارک اور واشنگٹن۔ ڈی۔ سی۔ پر القاعدہ کی جانب سے کیے گئے حملوں پر بھی اپنی روایتی بے خوفی کے ساتھ اپنا انتہائی سخت موقف دیا، جو بھی مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں میں متنازع بنا۔ فلاچی نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی اپنے کسی بیان، انٹرویو یا رپورٹ کی تردید یا اس بابت معذرت نہیں کی۔

یہ منفرد اور اپنی نوعیت کی واحد صحافی، آخری عمر میں ’اسلاموفوبیا‘ کا شکار بھی ہو گئیں اور اس ضمن میں ان کے سخت انتہا پسند نظریات سامنے آئے، جس کی وجہ سے ان کے مداح ترقی پسند حلقوں کی جانب سے بھی ان کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

فلاچی نے اپنی عمر کے آخری برس ’بچے گرانے‘ (ابارشن) کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ، سماج میں غیر مروجہ رسومات، مثلاً: طبعی تکلیفوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے خودکشی کی اجازت (یوتھونیزیا) اور ہم جنس شادیوں کی حمایت میں تحریکیں چلاتے اور اس حوالے سے لکھتے گزارے۔ وہ 77 برس کی عمر میں پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر کے باعث 15 ستمبر 2006 ء کو، اپنے شہر پیدائش ’فلورنس‘ (اٹلی) میں ہی وفات پا گئیں اور وہیں ابدی آرامی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *