ارطغرل ڈرامہ: جوش پکڑیں یا ہوش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک وقت تھا جب پاکستانی ڈرامے اپنے فن کا لوہا منوانے کے لیے دن رات محنت کر رہے تھے۔ ان ڈراموں کی ہدایت کاری، اداکاری اور کہانی آرٹس کا شاہکار ہوا کرتے تھے۔ ان میں مشہور خدا کی بستی، اندھیرا اجالا، انگار وادی اور بہت سے ان جیسے قابل ذکر ہیں۔ شاید ان کی مقبولیت اپنی علاقائی ثقافت اور زبان تھی یا مشرقی روایات۔

ڈرامے کرنے میں ہم سے بہتر کوئی نہیں، ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کی وساطت سے ترکی سے آنے والا ”ارطغرل“ نامی ڈرامہ پاکستانی قوم کی آنکھوں کا تارا بن چکا ہے۔ پاکستانی مرد و خواتین، بچے اور جوان سبھی اس کی جنگجویانہ اداکاری پر ایسے فدا ہو رہے ہیں جیسے پروانے شمع پر۔ شاید اس کی وجہ مسلمانوں کو ظلمت سے نجات دلانے کی ہو۔ مسلمانوں کو ظلمتوں سے نجات کا یاد آیا تو حال ہی میں وہ اسرائیل کی طرف سے ترکی میں امدادی سامان کا بھیجا ہوا طیارہ بھی یاد آیا۔

اب بات یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان کو کیوں لگا ہے کہ ڈرامہ کرنے سے یا دکھانے سے کچھ بدل جائے گا۔ دوسری طرف پاکستانی عوام کو امت مسلمہ کا چورن کھلا دیا جاتا ہے جس میں وہ ہوش کی بجائے جوش پکڑتے ہیں اور یہ تک بھول جاتے ہیں کہ ہمیں حقیقت سے دور کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک اور مثال حالیہ دنوں میں ایک ڈرامہ ”عہد وفا“ نامی تھا۔

پھر ایک مخصوص کتاب کی تشہیر جو کہ عمران خان صاحب کی طرف سے کی گئی۔ وہ کتاب خلافت عثمانیہ کی عکاس ہے جبکہ پاکستان جیسے مسلکی منافرت والے ملک میں ایسی چیزوں کو ہوا دینا جلتی پر تیل چھڑکنے سے ہرگز کم نہیں۔

دوسری جانب اسی ڈرامے ارطغرل کے کرداروں کی زندگیوں کو سوشل میڈیا پر کچھ لبرلز نے واضح کیا تو ان کی زندگیاں پاکستانی مسلمانوں سے بالکل مختلف ( لبرل ) تھیں۔ جن پر پاکستانی ناظرین کی طرف سے شدید تنقید بھی کی گئی۔

ارطغرل کا تاریخ کے اصل ارطغرل سے کوئی تعلق نہیں۔ تاریخ کا ارطغرل تو شاید مسلمان بھی نہیں تھا اور اگر مسلمان تھا بھی تو صلیبیوں اور منگولوں کے خلاف جہاد کی وہ ساری تفصیلات جو ڈرامہ کی زیب و زینت ہیں تاریخی شواہد سے ثابت نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ڈرامہ آپ کو پسند ہے تو اسے فکشن / افسانہ سمجھ کر ضرور دیکھئے، لیکن یہ جان کر کہ اس کا اسلام یا ترک مسلم تاریخ سے دور دور کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ مصنف کی ذہنی اختراع ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری زندگیوں سے ایسے کھلواڑ کو ختم کیا جائے۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور اس طرح کے دوسرے علوم جن کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے کو عام کیا جائے نا کہ عوام کو تلواروں کی جھنکار سنا کر پھر سے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *