کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا قسط 5

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گو ٹرین میں بہت رش تھا لیکن اس کے بعد میں اپنے کیبن میں اکیلا رہ گیا۔ جب گاڑی کسی اسٹیشن پہ رکتی تو نئے مسافر خالی نشستیں دیکھ کے میرے کیبن کی طرف لپکتے۔ ایک آواز آتی ”اس طرف آ جاؤ میری۔ یہاں بہت جگہ ہے“ ۔ کوئی پیچھے سے جواب دیتا، ”ہاں ہیری، یہاں تو ہم سب سما سکتے ہیں۔“ پھر وہ سب اپنے بھاری بھرکم بیگ سنبھالتے ہوئے بہ عجلت کیبن میں گھسنے کی کوشش کرتے تاکہ کوئی اور ان سے پہلے خالی نشستوں پہ قبضہ نہ کر لے۔ اب سب سے آگے والا جس تیزی سے کیبن میں داخل ہوتا اس سے دگنی رفتار سے واپس باہر نکلنے کی کوشش میں اپنے پیچھے آنے والوں پہ جا گرتا۔ پھر یکے بعد دیگرے سب ایک ایک کر کے کیبن میں کے اندر جھانک کے کچھ سونگھتے اور الٹے پاؤں لوٹ جاتے۔

لندن پہنچ کے میں پنیر لے کے سیدھا اپنے دوست کے گھر گیا جہاں اس کا ملازم مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کے بیگم صاحبہ کو میری آمد کی اطلاع دینے چلا گیا۔ میرے دوست کی بیوی نے کمرے میں قدم رکھتے ہی کہا، ”اف میرے خدا۔ ۔ ۔ یہاں کیا ہوا ہے؟ پلیز مجھے جلدی بتاؤ۔ میں بری سے بری خبر سننے کے لئے تیار ہوں۔“ میں نے کہا، کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ آپ خوامخواہ پریشان ہو رہی ہیں۔ دراصل لیور پول میں ٹام مجھے مل گیا تھا اور اس نے وہاں سے گھر کے لیے یہ پنیر بھجوایا ہے۔ اور ساتھ ہی اسے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ میں پنیر کی خریداری میں قطعاً شامل نہیں تھا۔ اس کے بعد میں اپنے گھر چلا آیا۔

دوسری جانب ٹام کو لیور پول میں کچھ زیادہ دن لگ گئے۔ تیسرے دن ٹام کی بیوی کا فون آیا، ”ٹام نے پنیر کے بارے میں تمہیں کچھ بتایا تھا؟“ ۔ میں نے کہا، ٹام نے کہا تھا کہ پنیر کو نم دار ٹھنڈی جگہ پہ رکھا جائے اور اس کی واپسی تک کوئی اس کو ہاتھ نہ لگائے۔ وہ بولی، ”اس کو ہاتھ لگانے کی تو خیر کس میں ہمت ہے۔ ٹام نے اس کو سونگھا تھا؟“ ۔ میں نے کہا، ”یقیناً سونگھ کے ہی خریدا ہوگا۔ بلکہ میرا تو یہ بھی خیال ہے کہ ٹام کو یہ پنیر بہت پسند آیا تھا“ ۔

اس کے بعد فون پہ کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر وہ بولی، ”تم سے ایک مشورہ کرنا تھا۔ اگر میں صفائی والے کو ایک پاؤنڈ دے کے پنیر کو گھر سے دور زمین میں گہرا گڑھا کھدوا کے دبوا دوں تو ٹام ناراض تو نہیں ہوگا؟“ ۔ میں نے کہا، ”وہ سخت ناراض ہوگا۔ اور شاید عمر بھر دوبارہ کبھی نہ مسکرائے۔“ اس نے کہا، ”تو پھر یوں کرتے ہیں کہ ٹام کی واپسی تک تم پنیر اپنے پاس رکھ لو۔ میں ابھی اسے تمہارے گھر بھجوا دیتی ہوں“ ۔

میں نے کہا، ”محترمہ، میں ذاتی طور پہ تو پنیر کی بو کی کچھ زیادہ پرواہ نہیں کرتا لیکن میں جس گھر میں رہتا ہوں، اس کی مالکن بیوہ ہونے کے علاوہ شاید یتیم بھی ہے اور وہ اس بات کے سخت خلاف ہے کہ کوئی اس کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھائے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہاں پنیر کی موجودگی سے وہ یہی سمجھے گی۔ اس کے علاوہ میں خود بھی ایک یتیم بیوہ کے ساتھ ایسا ظلم نہیں کر سکتا“ ۔ اس پہ ٹام کی بیوی نے ایک گہری سانس لے کے فیصلہ کن انداز میں کہا، ”تو پھر صرف ایک ہی راستہ باقی بچا ہے۔ میں بچوں سمیت کسی ہوٹل میں شفٹ ہوجاتی ہوں اور تب تک اس گھر میں واپس قدم نہیں رکھوں گی جب تک یہاں سے اس منحوس پنیر کا آخری ذرہ تک صاف نہیں ہو جاتا۔“ اور اس نے یہی کیا۔

خود ہوٹل منتقل ہونے سے پہلے اس نے گھر اپنی آیا کے حوالے کیا جس کی قوت شامہ اس قدر کمزور تھی کہ جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں کوئی بدبو آ رہی ہے تو اس کا جواب تھا، ”کون سی بدبو؟“ ۔ پھر پنیر کو اس کی ناک کے ساتھ لگا کے کہا گیا کہ اس کو اچھی طرح سونگھو تو کافی دیر سونگھنے کے بعد وہ بولی، ”ہاں۔ لگتا ہے کہیں دور سے خربوزوں کی ہلکی سی مہک آ رہی ہے“ ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ آیا کو کم از کم پنیر سے کوئی خطرہ نہیں اور ٹام کی بیوی بچے سکون سے ہوٹل چلے گئے۔

خیر صاحب، ٹام نے واپس آ کے گھر میں رہنا شروع کر دیا جبکہ اس کی فیملی ہوٹل میں ہی رہی۔ لیکن چند روز بعد جب ہوٹل کے روزانہ کے اخراجات کو ٹام نے پنیر کی قیمت میں شامل کیا تو اسے لگا کہ یہ سودا بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پنیر اسے بہت پسند تھا لیکن اس کی جیب اتنی زیادہ فضول خرچی کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ لہٰذا اس نے پنیر سے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کیا اور اسے قریبی نہر میں پھینک دیا۔

لیکن اگلے روز اسے وہاں سے کشتی بانوں کی شکایت پہ نکالنا پڑا جن کا کہنا تھا کہ انہیں بے ہوشی کے دورے پڑنے لگے ہیں۔ اس کے بعد ٹام رات کے اندھیرے میں پنیر کو چپکے سے قبرستان میں پھینک آیا۔ لیکن یہاں بھی جلد ہی مقامی پادری نے طوفان کھڑا کر دیا کہ یہ مردوں کو قیامت سے پہلے زندہ کرنے کی مذموم کوشش ہے، جو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ اسی طرح کی کچھ اور ناکام کوششوں کے بعد، بالآخر میرے دوست نے ایک دور دراز کے قصبے کے قریب ساحل سمندر پہ ریت میں پنیر کو دفن کر دیا۔ اس کے بعد خدا معلوم پنیر کے ساتھ مزید کچھ ہوا یا نہیں لیکن ہم نے بس اتنا ہی سنا کہ آہستہ آہستہ وہ قصبہ اس بات کے لیے مشہور ہوگیا کہ وہاں کی ہوا میں بڑا دم ہے جو پھیپھڑوں کے لیے بہت مفید ہے۔

خیر، تو یہ واقعہ سنانے کا مقصد یہ تھا کہ اگرچہ میں پنیر کا دلدادہ ہوں لیکن دوسروں کی خاطر میں نے جارج کے اس فیصلے سے اتفاق کیا کہ ہم بوٹ سفاری پہ پنیر ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ اس کے بعد جارج نے کہا کہ سہہ پہر کی چائے کے چونچلے کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ بلکہ بہتر ہوگا کہ ہم شام سات بجے کھانا کھا لیا کریں جو سہ پہر کی چائے اور ڈنر کا بہترین متبادل ہے۔ کھانے کے سامان میں ہم نے مٹن اور بیف کے علاوہ ٹماٹر، پیاز، کچھ سبزیٓاں اور پھل وغیرہ بھی شامل کر لیے۔ پینے کے لیے دیپک نے ایک گاڑھا سا چپچپا ملغوبہ تیار کیا جسے بقول اس کے پانی میں شامل کر کے سکنجبین بنائی جا سکتی تھی۔ اس کے علاوہ بہت سی چائے اور پانی کے ساتھ ساتھ ہم نے احتیاطاً وہسکی بھی رکھ لی کیونکہ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ سفر میں کب کس چیز کی ضرورت پڑ جائے۔

بیئر اور وائن سے البتہ ہم نے اجتناب کیا کیونکہ یہ طبیعت کو بوجھل کرتی ہیں جب کہ بوٹ سفاری پہ آپ کو چاق و چوبند رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خدا خدا کر کے سامان کی فہرست مکمل ہوئی اور اگلے ہی دن ہم سب کچھ خرید کے شام کو سامان پیک کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ ہمارے پاس کپڑوں کے لیے ایک بڑا سوٹ کیس اور کھانے پینے کے سامان اور برتنوں کے لیے کچھ ٹوکرے تھے۔ کمرے کے درمیان میں پڑی ہوئی میز کو ہم نے گھسیٹ کے ایک طرف کر دیا اور اس کی جگہ سامان کا ڈھیر لگا دیا۔ اب اگلا مرحلہ تھا سامان کو پیک کرنے کا تھا جو ظاہر ہے ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ لیکن میرا معاملہ مختلف ہے۔

میرا خیال ہے کہ پیکنگ کے موضوع پہ جتنا علم میرے پاس ہے وہ شاید ہی کسی اور ذی روح کے پاس ہو۔ (پیکنگ کے علاوہ بھی ڈھیروں ایسے موضوعات ہیں، جن کے بارے میں میرا بالکل یہی خیال ہے ) ۔ لہٰذا میں نے دیپک اور جارج سے کہا، پیکنگ تم لوگ مجھ پہ چھوڑ دو۔ مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اس پہ کچھ چوں چرا کریں گے لیکن وہ تو فوراً یوں راضی ہو گئے جیسے یہی سننے کے منتظر تھے۔ جارج پائپ سلگا کے صوفہ پہ لیٹ گیا اور دیپک نے آرام کرسی سے پشت لگا کے ٹانگیں میز پہ رکھیں دیں۔

لیکن میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا۔ میں دراصل یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ میں ہدایات دیتا جاتا ہوں اور تم ان ہدایات کے مطابق پیک کرتے جاؤ۔ ان بدمعاشوں نے جان بوجھ کے میری بات کا بالکل الٹ مطلب نکالا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ چڑ اس بات سے ہوتی ہے کہ جب میں کام کر رہا ہوں، عین اس وقت میرے ساتھی میری نظروں کے سامنے آرام فرما رہے ہوں۔

کچھ عرصہ پہلے میں ایک روم میٹ کے ساتھ رہتا تھا جو یہی کیا کرتا تھا۔ وہ گھنٹوں صوفے پہ لیٹ کے مجھے کام کرتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے کام میں مشغول دیکھ کے اس کا یہ یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ ہاتھ پاؤں توڑ کے بیٹھے رہنا زندگی ضائع کرنے کے مترادف ہے کیونکہ جینے کا صحیح لطف اپنے آپ کو مصروف رکھ کے ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتا کہ خدا جانے مجھے ملنے سے پہلے اس کا وقت کیسے گزرتا تھا، کیونکہ اب تو مجھے کام کرتا دیکھتے ہوئے اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

ایسے سست الوجود لوگوں سے مجھے نفرت ہے کیونکہ میرا مزاج بالکل مختلف ہے۔ مجھ سے یہ برداشت ہی نہیں ہوتا کہ میرے سامنے کوئی کام کر رہا ہو اور میں آرام سے بیٹھ کے دیکھتا رہوں۔ بلکہ میری طبیعت میں ایسی چستی ہے کہ میں فوراً اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کے ادھر ادھر ٹہلتے ہوئے کام کرنے والے کو ہدایات دینے لگتا ہوں۔

اب جارج اور دیپک کی خباثت تو آپ کے سامنے ہے لیکن میں کچھ کہے بغیر کام میں جت گیا اور سوٹ کیس میں ترتیب سے سامان رکھنا شروع کر دیا۔ یہ کام میری توقع سے کہیں زیادہ مشکل نکلا لیکن میں نے ہار نہیں مانی اور بالآخر سارا سامان سوٹ کیس میں ڈال کے اس کو اچھی طرح بند کیا اور گھڑی بھر کو دم لینے کے لیے اس پہ بیٹھ گیا۔

”جوتے گلے میں لٹکانے ہیں؟“ ۔ دیپک بولا۔ اب مجھے احساس ہوا کہ میں جوتے رکھنا واقعی بھول گیا تھا۔ لیکن آپ نے دیپک کی کمینگی ملاحظہ فرمائی؟ یعنی جب تک سوٹ کیس کھلا ہوا تھا، وہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھا رہا اور جیسے ہی میں اس کو مضبوطی سے بند کر کے فارغ ہوا، اس کو جوتے یاد آ گئے۔ اور اوپر سے جارج کی طنزیہ ہنسی جس سے انسان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ اگرچہ میرا خون کھول رہا تھا لیکن میں نے کسی پہ ظاہر نہیں ہونے دیا اور لاپرواہی سے سوٹ کیس کھول کے اس میں جوتے گھسیڑ دیے۔ اس کے بعد میں اس کو دوبارہ بند کر ہی رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنے ٹوتھ برش کا خیال آ گیا۔

ٹوتھ برش رکھا تھا یا نہیں، یہ مجھے کبھی یاد نہیں رہتا۔ مجھے کوئی ایسا سفر یاد نہیں جو اس لعنتی ٹوتھ برش کی وجہ سے بدمزہ نہ ہوا ہو۔ میں ٹرین میں گہری نیند سویا ہوا ہوں تو آدھی رات کو خواب دیکھتا ہوں کہ میں اپنا ٹوتھ برش لانا بھول گیا ہوں۔ اس پہ میں ہڑبڑا کے اٹھتا ہوں اور سارا سامان اتھل پتھل کر کے ٹوتھ برش ڈھونڈ کے اس کو احتیاط سے شیلف پہ اپنی نظروں کے سامنے رکھ کے دوبارہ سو جاتا ہوں۔ صبح اٹھ کے اس خوف سے کہ کہیں ٹوتھ برش ٹرین میں ہی نہ بھول جاؤں، سب سے پہلے اس کو پیک کر دیتا ہوں۔

اس کے بعد باتھ روم جاتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ ابھی دانت تو صاف کیے ہی نہیں۔ اب دوبارہ بیگ کھول کے ٹوتھ برش نکالتا ہوں اور ہاتھ منہ دھو کے ناشتہ کرنے چلا جاتا ہوں۔ ناشتے سے واپسی پہ اخبار پڑھنے لگتا ہوں کہ اتنے میں میرا اسٹیشن آ جاتا ہے اور میں اپنا بیگ اٹھا کے ٹرین سے اتر جاتا ہوں۔ پلیٹ فارم کی سیڑھیاں اترے ہوئے اچانک مجھے یاد آتا ہے کہ ٹوتھ برش تو باتھ روم میں ہی رہ گیا۔ واپس مڑ کے دیکھتا ہوں تو یہ دیکھ کے جان میں جان آتی ہے کہ ٹرین ابھی تک کھڑی ہوئی ہے۔

اب میں بھاگم بھاگ واپس جاتا ہوں تو ایک کوڑھ مغز ٹکٹ چیکر سے سامنا ہوجاتا ہے جو اس پہ مصر ہے کہ میں نیا ٹکٹ خریدے بغیر دوبارہ ٹرین میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس کو اپنا پرانا ٹکٹ دکھا کے ساری رام کہانی سناتا ہوں تو وہ بڑی مشکل سے راضی ہوتا ہے لیکن اتنی دیر میں ٹرین رینگنا شروع کر دیتی ہے۔ جلدی سے ٹرین پہ سوار ہو کے تیر کی طرح اپنے سابقہ باتھ روم کا رخ کرتا ہوں اور اب جو اس کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اندر سے بند ہے۔ اب سوائے اس کے کہ میں ٹرین کی رفتار مزید تیز ہونے سے پہلے اتر جاؤں، اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا میں ایک اور ٹوتھ برش سے ہاتھ دھو کے گھر کا رخ کرتا ہوں اور سارا راستہ آئندہ ایسی صورت حال سے بچنے کی منصوبہ بندی کرتا رہتا ہوں۔
(جاری ہے )

اس سیریز کے دیگر حصےکشتی، تین دوست اور برائے نام کتا (قسط 4 )۔کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا قسط 6
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *