بیما، لبوان باجو، کوموڈو – قسط 4

اب یہ تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ کم از کم آج کی فلائٹ تو ہمارے بغیر ہی جائے گی۔ ہم نے مردہ دلی سے سامان اٹھا کے ایک وین میں رکھا اور ٹریول ایجنسی کا رخ کیا۔ وہاں بھی ہمارے ساتھ تقریباً وہی کچھ ہوا جو ائرپورٹ پہ ہوا تھا یعنی ایجنسی والے سارا ملبہ ائر لائن پہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بالآخر ہم وہاں سے اگلے روز کے لیے کنفرم ٹکٹ لے کے ہی ٹلے۔ ایجنسی نے ہماری رہائش کے علاوہ بالی کی سیر کے لیے ایک وین کا انتظام بھی کر دیا۔

Read more

بالی، بیما، لبوان باجو (قسط 3 )۔

Author: Douglas Adams اگلی صبح ہم بالی کے لیے پرواز کر گئے جو وائلڈ لائف کے سب سے مشہور براڈکاسٹر سر ڈیوڈ ایٹن بوروح کے بقول دنیا کی حسین ترین جگہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں وہ بالی نہ مل سکا جو انہوں نے دیکھا تھا۔ جب سر ایٹن بوروح یہاں آئے تھے تو یہ جگہ یقیناً بہت مختلف ہوگی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے مقبول سیاحتی مقامات کی طرح بالی بھی برباد ہو چکا ہے۔ ہمیں

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا (قسط 7)

ہم نے جارج کا لحاف کھینچ کے ایک طرف پھینکا اور اس کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کے اس کو بستر سے اٹھا کے فرش پہ کھڑا کر دیا۔ دیپک نے کہا، ”جاگ جا میرے پیارے چرسی، تم نے ہمیں ساڑھے چھے بجے جگانا تھا، اور اب دس بجنے والے ہیں۔“ جارج نے دوبارہ بستر میں گھسنے کی کوشش کی لیکن ہم نے اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی۔ چند لمحے ٹھنڈے فرش پہ ننگے پاؤں کھڑے رہ کے نیند کا

Read more

مڈغاسکر، آئے آئے (2)۔

Author: Douglas Adams مترجم: اظہر سعید آئے آئے کو دیکھ کے میں کچھ چکرا سا گیا تھا۔ مجھے اچانک احساس ہوا، کہ ایک ایسی مخلوق کا فرد ہزاروں میل کی مسافت طے کرکے ایک لیمر کو دیکھنے آیا ہے جس کے اجداد نے لیمروں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ نیویارک سے پیرس اور پھر پیرس سے انتناناراؤو ائرپورٹ تک میں ایک جیٹ طیارے کے ذریعے پہنچا تھا۔ وہاں سے ڈیجو سوریز تک ہم ایک

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا قسط 6

میں نے ذہن بہت پہ زور دیا لیکن یاد نہ آیا کہ ٹوتھ برش رکھا تھا یا نہیں۔ طوہاً و کرہاً سوٹ کیس دوبارہ کھول کے ایک ایک چیز پھر باہر نکالی۔ اس کے بعد ہر کپڑے کو جھاڑا، سوٹ کیس کے تمام خانوں کو درجنوں بار ٹٹولا۔ پھر سوٹ کیس کو الٹا کے زور زور سے ہلایا جلایا۔ جارج اور دیپک کے ٹوتھ برش مجھے اس دوران بیسیوں دفعہ ملے لیکن اپنا کہیں نظر نہ آیا۔ بالآخر تقریباً دو

Read more

قسط 1 مڈغاسکر ، آئے آئے

آبزرور کلر میگزین والوں نے پتہ نہیں کیا سوچ کے 1985 میں یہ فیصلہ کیا کہ مجھے مارک کارواڈائن کے ہمراہ لیمر کی ناپید سمجھی جانے والی ایک قسم، ”آئے آئے“ کو ڈھونڈنے کے لیے مڈغاسکر بھیجا جائے۔ ہم تینوں میں سے کوئی اس سے پہلے ایک دوسرے سے نہیں ملا تھا۔ میں مارک سے کبھی نہیں ملا تھا، مارک مجھے کبھی نہیں ملا تھا اور آئے آئے کو ہم دونوں سمیت کسی نے بھی کئی سالوں سے نہیں دیکھا تھا اور اب ماہرین کی اکثریت کا گمان تھا کہ لیمر کی اور بہت سی اقسام کی طرح، آئے آئے بھی ناپید ہو چکا ہے۔

مارک، ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے منسلک ایک تجربہ کار ماہر حیاتیات تھا جس کے کاندھوں پہ اس مہم کی ساری ذمے داری تھی۔ میرا کام یہ تھا کہ ایک ایسے شخص کا کردار ادا کروں جو حیاتیات کی الف بے سے بھی ناواقف ہونے کے باعث اس مہم کے دوران تمام مراحل پہ حیران پریشان ہوتا رہے اور آئے آئے کو بس اتنا ہی کرنا تھا کہ وہ کسی درخت کی شاخوں میں اس طرح چھپ کے بیٹھا رہے کہ کسی کو نظر نہ آ سکے۔ چونکہ آئے آئے لاکھوں سالوں سے یہی کرتے آئے ہیں، اس لیے اس کا کام سب سے آسان تھا۔

آئے آئے عجیب و غریب شکل و صورت کا ایسا شبینہ لیمر ہے جسے بظاہر مختلف جانوروں کے اعضا کو جوڑ کے بنایا گیا ہے۔ یہ دیکھنے میں

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا قسط 5

گو ٹرین میں بہت رش تھا لیکن اس کے بعد میں اپنے کیبن میں اکیلا رہ گیا۔ جب گاڑی کسی اسٹیشن پہ رکتی تو نئے مسافر خالی نشستیں دیکھ کے میرے کیبن کی طرف لپکتے۔ ایک آواز آتی ”اس طرف آ جاؤ میری۔ یہاں بہت جگہ ہے“ ۔ کوئی پیچھے سے جواب دیتا، ”ہاں ہیری، یہاں تو ہم سب سما سکتے ہیں۔“ پھر وہ سب اپنے بھاری بھرکم بیگ سنبھالتے ہوئے بہ عجلت کیبن میں گھسنے کی کوشش کرتے تاکہ کوئی اور ان سے پہلے خالی نشستوں پہ قبضہ نہ کر لے۔ اب سب سے آگے والا جس تیزی سے کیبن میں داخل ہوتا اس سے دگنی رفتار سے واپس باہر نکلنے کی کوشش میں اپنے پیچھے آنے والوں پہ جا گرتا۔ پھر یکے بعد دیگرے سب ایک ایک کر کے کیبن میں کے اندر جھانک کے کچھ سونگھتے اور الٹے پاؤں لوٹ جاتے۔

لندن پہنچ کے میں پنیر لے کے سیدھا اپنے دوست کے گھر گیا جہاں اس کا ملازم مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کے بیگم

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا (قسط 4 )۔

کپڑوں کے علاوہ ذاتی استعمال کی اشیا میں ہم نے رومال، بنیانیں، زیر جامے اور جوتے وغیرہ بھی شامل کرلئے جس کے بعد خوراک کے انتخاب کی باری آئی۔ جارج روز مرہ کے معاملات میں بہت سگھڑ واقع ہوا ہے، چنانچہ اس نے بڑے سلیقے سے متوقع ضروریات کی فہرست مرتب کرنی شروع کی۔ جارج نے کہا کہ دن کا آغاز ناشتے سے ہوتا ہے لہٰذا ناشتے سے ابتدا کرتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں چاہیے ایک عدد فرائنگ پین۔ دیپک بولا، فرائنگ پین مجھے تو ہضم نہیں ہوتا۔ اس پہ دیپک کو مجھ سے ڈانٹ پڑی کہ مسخرہ پن کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھے کیونکہ منصوبہ بندی سنجیدگی کی متقاضی ہے۔

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا(قسط 3)

اس لیے بارش میں کیمپنگ کا پروگرام مسترد ہوگیا اور یہ طے ہوا کہ کھلے موسم میں ہم کیمپنگ کریں گے جبکہ ابر آلود شامیں کسی ہوٹل یا سرائے میں گزاریں گے۔ اس فیصلے کی مانی نے بھی بھرپور تائید کی کیونکہ ہوٹلوں اور مسافر خانوں کے اندر اور ارد گرد مانی کی دلچسپی کا سامان یعنی کتے، بلیاں اور چوہے وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ بوٹ سفاری کے دوران شب بسری کا مسئلہ حل ہوجانے کے بعد اب صرف

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا (قسط 2)۔

پہلی دونوں تجاویز مسترد ہونے کے بعد ہم نے سوچا کہ کیوں نہ دریائے ٹیمز میں ایک ہفتے کے لئے بوٹ سفاری پہ چلیں۔ دریا کی سیر کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ بحری سفر کی یکسانیت کے برعکس ارد گرد کے مناظر بدلتے رہتے ہیں اس لیے انسان بور نہیں ہوتا۔ دوسرا کشتی کھینا کافی مشقت کا کام ہے، جس سے بھوک بھی کھل جاتی ہے اور نیند بھی اچھی آتی ہے۔ اب ہم تینوں تو اس پہ متفق ہو گئے لیکن مانی کچھ زیادہ خوش نہیں تھا۔ اوہ، معاف کیجئے گا، میں مانی کا تعارف کروانا تو بھول ہی گیا۔

مانی دراصل میرے مسکین صورت کتے کا نام ہے۔ مانی دیکھنے میں اتنا مرنجاں مرنج اور شریف النفس لگتا ہے کہ اس کو دیکھ کے نیک سیرت بزرگ خواتین کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ اس وقت اس کے چہرے پہ کچھ ایسا تاثر ہوتا ہے کہ جیسے اس کی روح دنیا میں ہونے والی نا انصافیوں اور ظلم و ستم کی وجہ سے بے حد مضطرب ہے اور وہ دنیا کی بہتری کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب مانی میرے پاس آیا نیا نیا آیا تھا تو مجھے لگتا تھا کہ لچوں لفنگوں سے بھری یہ دنیا اس فرشتہ صفت معصوم ہستی کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے کسی وقت اچانک آسمان سے فرشتے اتریں گے اور مانی کو کسی اڑن کھٹولے میں بٹھا کے لے جائیں گے۔

لیکن آنے والے دنوں میں ٓآہستہ آہستہ مانی کے جوہر کھلنے لگے تو میں بتدریج اس فکر سے آزاد ہوتا گیا۔ مجھے بارہا اپنے

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا

 Translation of Jerome’s novel "Three Men in a Boat (Nothing to say about the Dog)”.

ہم تین دوست تھے۔ جارج، دیپک اور میں۔ اور تینوں کی حالت بہت پتلی تھی۔ جارج اور ولیم کو گاہے بگاہے چکر آتے تھے، اور میرا جگر ہڑتال پہ تھا۔ باقی دو کا تو معلوم نہیں لیکن مجھے اپنی علالت کا علم ”شفائے جگر“ نامی گولی کا اشتہار پڑھ کے ہوا تھا۔ اس پمفلٹ کے بغور مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ اس میں ضعف جگر کی جتنی بھی علامات درج تھیں وہ سب کی سب مجھ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔

Read more