رضاکار بنانے والی فیکٹری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کسی کی بات کیوں مانتے ہیں؟ اس کی دو سادہ سی وجوہات ہیں۔ یا تو آپ اس سے محبت کرتے ہیں اور یا پھر آپ کا اس سے مفاد وابستہ ہوتا ہے۔

ایک بحث بہت تواتر سے سننے کو مل رہی ہے کہ لوگ لاک ڈاؤن میں حکومتی ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ ہمارا عمومی رویہ کلاس روم میں پچھلی نشستوں پر بیٹھے طلبا والا ہے انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کلاس روم میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ استاد زیادہ سخت مزاج کا حامل ہو تو پھر اپنی رف کاپی پر جملے لکھ کر ساتھیوں کو پاس کرنے یا چھوٹی چھوٹی رسید نما پرچیاں بناکر اپنے دل میں اٹھنے والے جوار بھاٹا کو قریبی ساتھیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

بحیثیت قوم ہمارا رویہ بھی ان پچھلی نشستوں پر بیٹھے طلبا جیسا ہو گیا ہے۔

میرے جو چند عزیز یورپ میں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں ان سے گاہے بگاہے جب بھی بات چیت ہوتی ہے تو ان کے ہاں کے انتظامات کے حوالے سے سیر حاصل معلومات مل جایا کرتی ہیں اور پھر ان معلومات کی بنیاد پر اپنے پاکستان میں کیے جانے والے اقدامات کا تقابلی جائزہ میرا ہمیشہ سے ایک پسندیدہ کام رہا ہے۔

حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ذمہ داروں اور ڈیجیٹل سکرین پر بیٹھے شرفا کی طرح میرے ذہن میں بھی یہ سوال گردش کرتا رہتا ہے کہ آخر ہم نالائق طلبا کی طرح اپنی مرضی کرنے پر کیوں بضد ہیں؟ کیا ہمیں اپنے مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔

انہی سوالات کے ساتھ ہی میڈیا رپورٹرز ہمیں چھیپا اور ایدھی جیسے رضاکاروں کو ماڈل کالونی کراچی میں بے لوث خدمت کرتے ہوئے دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اگلے دن ایک نئے رضاکار کو اخبار اپنی خبروں میں اہمیت دے دیتا ہے کہ جو وہاں پر موجود لوگوں کو مفت پانی پلاتا نظر آتا ہے اور اس کے بعد کچھ میرے جیسے جذبہ حب الوطنی اور ایثار سے گندھی تحاریر لکھ لکھ کر سوشل میڈیا پر اس نوجوان کو خراج تحسین پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی اثنا میں پاکستان کے قرب و جوار میں ایسی تحاریر کو پڑھنے والے لاکھوں نوجوان خود کو مستقبل کا ایدھی اور چھیپا اور سیلانی بنتا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایدھی، چھیپا اور سیلانی تینوں کا تعلق کراچی سے ہے اور یہ تینوں کراچی سے ہی کیوں ہیں؟
آخر اس طرز کی خدمت کا بیڑا اٹھانے میں باقی صوبوں والے پیچھے کیوں ہیں؟
کیا یہ ریاستی نظام کی ناکامی ہے یا ان اشخاص کی بڑائی؟

دراصل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے انتظامات کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں اور نالائق طلبا کو اپنی گپ شپ سے فرصت نہیں بس اسی دورانیے میں چند ایک لوگ اپنوں کا احساس کرتے ہوئے اپنا قدم پہلے بڑھا دیتے ہیں۔ دراصل جہاں جہاں ریاستی ذمہ داریوں کی بات آتی ہے کوئی نہ کوئی رضا کار اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے قربانی دینے کو تیار ہوتا اور میڈیا اسے ہیرو کا روپ دے کر اس جیسے کئی اور رضا کار پیدا کر دیتا ہے۔

ان رضاکاروں کو ملنے والی ستائش، رضا کار پیدا کرنے والی ایک فیکٹری کا کام کرتی ہے جبکہ دوسری جانب ایک بحث مسلسل سننے کو ملتی ہے کہ لوگ لاک ڈاؤن کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے جس سے نقصان بھی ان کا اپنا ہوگا۔ جی ہاں بالکل نقصان کو سنبھالنے والے رضاکار بھی تو اپنے ہی ہیں وہ ہمیں سنبھال لیں گے آپ کو فکر کاہے کی؟
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *