غریب آدمی کی کار کیسے چلائی جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان کے ہر گھر میں موجود دو پہیوں پر مشتمل یہ گاڑی 1885ء میں جرمنی میں ایجاد کی گئی تھی جو پیٹرول سے چلنے والی پہلی موٹر سائیکل تھی جسے ”رائیڈنگ کار“ کا نام دیا گیا (1867ء میں بھاپ سے چلنے والی موٹر سائیکل ایجاد کی گئی تھی)۔ پہلی جنگ عظیم (1914 ء تا 1918ء) میں یہ گاڑی بڑی کار آمد ثابت ہوئی جسے گھڑ سواروں کے متبادل کے طور پر استعمال کیا گیا اور اسے بطور ملٹری پولیس، فرنٹ لائن فوجیوں سے رابطہ کرنے کے لئے، پیغامات پہنچانے اور جاسوسی کے لئے زیر استعمال لایا گیا، اس دوران ایک برطانوی موٹر سائیکل کمپنی نے تیس ہزار موٹر سائیکل برطانیہ کے اتحادیوں کو بیچ دیے تھے، جن کے کارآمد استعمال کو بہت سراہا گیا تھا۔

آج کل جاپان، چین اور انڈیا کے موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں نے پوری دنیا میں اس کی مارکیٹ اپنائی ہوئی ہے۔ اس کا استعمال سب سے زیادہ ایشیائی اور افریقی ممالک میں کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کے غریب لوگوں کے لئے اپنی روز مرہ کے کام کاج سرانجام دینے کے لئے کم قیمت اور کم ایندھن خرچ کرنے پر باقی گاڑیوں کی نسبت زیادہ فاصلہ طے کرنے والی یہ گاڑی بلاشبہ کسی نعمت سے کم نہیں۔

لیکن آج کل لوگوں کی اپنی ہی لاپرواہی کی بدولت یہ نعمت زحمت کا شکل اختیار کر گئی ہے۔ ایک سروے کے مطابق باقی گاڑیوں کی نسبت موٹر سائیکل کے رونما ہونے والے حادثات اور اس سے مرنے والوں کی شرح دس گنا سے زائد ہے۔ جس طرح ہر مشین کو استعمال کرتے وقت احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اسی طرح موٹر سائیکل زیر استعمال لانے سے پہلے احتیاط بہت ضروری ہے۔

موٹر سائیکل پر بیٹھنے سے پہلے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر کا ادراک بہت ضروری ہے ان کے علاوہ اس پر بیٹھنے کی زحمت مت کیجئے ورنہ کافی سنگین نقصان کا خطرہ ہر وقت آپ کے چاروں طرف منڈلا رہا ہوگا۔

1: سب سے پہلے باقی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی طرح آپ کو روڈ سائنس کے بارے میں جان کاری بہت ضروری ہے۔ ٹریفک کے قوانین اور روڈ استعمال کرنے کے اصولوں کو اچھی طرح ذہن نشین کر کے بروئے کار لانا چاہیے۔

2: موٹر سائیکل روڈ پر لانے سے پہلے ایک ماہر موٹر سائیکل سوار سے کسی وسیع خالی میدان میں اس کے چلانے کی مکمل ٹریننگ لینی چاہیے اور جب تک استاد آپ کو روڈ پر آنے کی اجازت نہ دے تب تک روڈ پر گاڑی لانے کی ضد سے گریز کریں چاہے آپ کو مکمل عبور حاصل کرنے کے لئے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔ کیونکہ باقی گاڑیوں کی نسبت موٹر سائیکل چلانے کے لئے زیادہ مہارت درکار ہوتی ہے۔

3: ہمیشہ ہیلمٹ کا استعمال موٹر سائیکل چلاتے وقت انتہائی ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق ہیلمٹ نہ استعمال کرنے والے افراد کے سر کی چوٹ حادثہ کے وقت ہیلمٹ پہننے والے سے پانچ گنا زیادہ سنگین اور وبال جان ہوتی ہے۔ لہٰذا ہیلمٹ پہننے کو یقینی اپنا کر خود کو موٹر سائیکل چلاتے وقت اس کا عادی بنانا چاہیے۔

4: تحقیق سے ثابت ہے کہ تین میں سے دو حادثات موٹر سائیکل سوار کا بڑی گاڑیوں کے ڈرائیور کو نظر نہ آنے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ آپ جب بھی کسی کار وغیرہ کے پیچھے چل رہے ہو تو سب سے پہلے اپنا ہیڈلائٹ آن کرو، پھر اس کے بلائنڈ سپاٹ (جہاں سے ڈرائیور کو آپ دکھائی نہ دے رہے ہو) سے نکل کر اس کے دائیں ریئر ویو مرر کے سیدھ میں خود کو لاؤ پھر اؤر ٹیک کرنا چاہو تو اپنا دایاں ریئر ویو مرر چیک کر لو، آپ کے پیچھے آنے والے گاڑیوں کو سگنل دو اور اپنا سپیڈ مناسب مقدار میں بڑھا کر آگے بڑھ کر ہیڈ لائٹ آف کر لو۔

5: اسی طرح اگر کوئی آپ کو ہارن دے تو بدلے میں اس کے ساتھ ریس مت رکھو شاید اس کو جلدی ہو یا آپ کو اس سے کوئی خطرہ ہو یا آپ پیچھے آنے والی گاڑیوں سے لاعلم ہو لہٰذا آپ ریئر ویو مرر چیک کر کے آرام سے روڈ کے بائیں جانب ہو کر پوری خوش دلی سے اس کو راستہ دو۔

6: اگر آپ کی طبیعت ناساز ہے تو گاڑی چلانے کی زحمت مت کرو۔

7: موٹر سائیکل چلاتے وقت کبھی بھی ہیڈ فون کا استعمال مت کرو یہ ہیلمٹ نہ پہننے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ ہوا کی آواز سے آپ کو ہیڈ فون کی آواز بلند رکھنا پڑے گی تبھی آپ کو گانا سنائی دے گی جو نتیجتاً اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ آپ لاعلم ہو جاؤگے کہ روڈ پر کیا چل رہا ہے، خصوصی طور پر پیچھے کی ٹریفک سے آپ کی لاعلمی آپ کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

8: ہمیشہ رائیڈ پر نکلنے سے پہلے اپنی گاڑی کے ٹائر، کسی قسم کا لیکیج، مرر، کلچ، گئیر، بریکس اور فیول لیول لازمی ڈبل چیک کر لینا ضروری ہے۔

9: گاڑی چلاتے وقت ہمیشہ اچھے موڈ میں ہونا لازمی ہے۔ ہر وقت یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ چاہے غلطی کسی کی بھی ہو، میں نے کسی کو کوئی مالی یا جانی نقصان نہیں پہنچانا۔

10 : انسان غلطیوں کا پتلا ہے، کبھی آپ غلطی کرو گے تو کبھی کوئی دوسرا۔ لہٰذا خود میں بہت برداشت پیدا کرو اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر کے ان سے سیکھنے کی کوشش کرو۔

11 : کبھی کسی کے ساتھ روڈ پر ریس لگانے کی کوشش مت کرو، آپ اپنی منزل کی طرف آرام سے آگے بڑھو اور سپیڈ کو ذہن میں رکھ کر گاڑی چلاؤ۔

12 : اچھا ڈرائیور اور رائیڈر وہ ہے جو اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے بغیر کسی دوسرے کو اذیت دیتے ہوئے، اسی طرح وہ نہ خود کو اور نہ ہی گاڑی کو کوئی نقصان پہنچائے۔

ان احتیاطی تدابیر پر اگر عمل کیا جائے تو پوری زندگی آپ جو چاہو چلاؤ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *