بھٹو صاحب ڈاکٹر محمد اجمل پر ناراض کیوں ہوئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر ظفر الطاف کو عبدالحفیظ کاردار، ڈاکٹر اجمل، ایس کے محمود اور ڈاکٹر طارق صدیقی، ان چار افراد سے خصوصی عقیدت و انسیت تھی۔ ان میں سے تین بزرگوں کا تعلق لاہور سے اور ایک یعنی ڈاکٹر طارق صدیقی کا لکھنو اور کراچی سے تھا۔ جان لیں گنتی کے حساب سے تو یہ بزرگ بشمول ڈاکٹر ظفر الطاف پانچ ہی بنتے ہیں مگر چونکہ ڈاکٹر صاحب ان چاروں کو مرشد اور مکرم مانتے تھے لہذا ہم ان کا شمار نصف یعنی ساڑھے میں کرتے ہیں۔

ظفر الطاف صاحب جو بعد میں سنہ 1982 میں برمنگھم یونی ورسٹی سے ´ڈیویلپمنٹ اکنامکس میں کراچی کے میمن پنجابی تاجروں پر پی ایچ ڈی کرکے ڈاکٹر صاحب کہلائے۔ اصلی تے وڈے سی ایس پی تھے۔ 1965 کے سی ایس پی۔ زراعت، واٹر مینجمینٹ کی مہارت میں اپنی مثال آپ۔ بین الاقوامی اداروں سے وابستہ بڑا نام۔ پاکستان کے پہلے سی ایس پی جو تین دفعہ زرعی تحقیقاتی کونسل کے سربراہ اور تین دفعہ فیڈرل سیکرٹری زراعت رہے۔ کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑا نام۔

وزارت زراعت میں ڈیپوٹیشن پر آئی ایک بڑبولی خاتون، پولی ٹینیکل سائنس میں جیسے تیسے ایم اے خاتون، نے ان سے پنجابی کے بوجھ سے دوہری ہکلاتی انگریزی میں کہیں سے سن سنا کر ہماری شکایت لگائی کہ دیوان صاحب نے سر جی آپ کو آدھا مرد کہا ہے۔ تسی بہت لفٹ دین دے او تے بوتا اوکھا ہوندا ہے۔ یہ سن کر وہ مسکراتے۔ آہستہ سے اسے کہا پاگل مت بنو۔ اس کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ ان بڑے افراد کے موازنے میں مجھے بھی محبت سے کہیں فٹ کر دے۔ عین اس وقت فرانس کا کوئی دعوت نامہ ڈاک پیڈ میں برآمد ہوا تو ہمارے شکایت کے ہرجانے میں وہ چاولوں پر کسی کانفرنس میں مون پلے فرانس بھیج دی گئی۔

میر امن دہلوی نے جب اپنے درویشوں کا قصہ چھیڑا تو کہا تھا کہ یہی ہات پاﺅں ناک کان سب دیے، اس پے رنگ بہ رنگ شکلیں جدی جدی بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسرے کا ڈیل ڈول نہیں ملتا۔

سو ان ساڑھے چار درویشوں میں دو صفات مشترک تھیں۔ سب کا رنگ روپ ڈیل ڈول جدی جدی تھا مگر۔ سب کے سب بے حد تعلیم یافتہ، باکردار اور وضع دار لوگ تھے۔ کردار کی اسی پختگی، اصول پرستی اور بے باکی و حق گوئی نے تین کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اور ایس کے محمود کو پہلے ایوب خان اور بعد میں جنرل ضیاالحق کے سامنے اور آدھے درویش یعنی ہمارے مربی مشفق ڈاکٹر ظفر الطاف کو جنرل پرویز مشرف اور حمزہ دودھ والے کے سامنے کھڑا کردیا تھا۔

 جو افراد بھٹو صاحب کے سامنے سینہ سپر ہوئے وہ یہ تین افراد تھے۔ ڈاکٹر طارق صدیقی۔ عبدالحفیظ کاردار اور ڈاکٹر اجمل۔

 کمال یہ ہے کہ عبدالحفیظ کاردار اور ڈاکٹر اجمل تو کئی لحاظ سے بھٹو صاحب کے لیے دیوتا سمان تھے۔ ممبئی میں ذوالفقار علی بھٹو گھنٹو ں اپنے بڑے بھائی امداد علی بھٹو کے ساتھ کاردار صاحب کو کھیلتا دیکھتے تھے۔ امداد علی انہیں انڈین کرکٹ کلب ڈنشا روڈ چرچ گیٹ ممبئی میں چھوڑ کر خود اداکارہ نرگس کے پیچھے خوار ہونے نکل جاتے تھے۔ بھٹو فیملی کا ایک گھر ورلی سی فیس کے علاقے میں تھا اور وہ ان دنوں کیتھی ڈرل جان کینن اسکول۔ ممبئی میں طالب علم تھے۔ یہ حوالہ ہم سے مت منسوب کریں، ہم نے ڈاکٹر صاحب کی زبانی سنا ہے۔

ہماری ضد رہتی کہ کاردار صاحب کے ساتھ ڈاکٹر صاحب ہمارے عمران خان کو بھی” اسکپر“ پکاریں۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہوتا کہ ہماری اس ضد کا سبب ایما سارجنٹ اور زینت امان سے دور افتادہ مگر بے جواز اور شدید الفت ہے۔ کرکٹ کے زیر و بم کا ہمیں ککھ پتہ نہیں۔ اسکپر بہت بڑا ادارہ ہے جب کہ کپتان تو ایک اعلی نسل کا ڈرائیور ہوتا ہے چاہے جہاں بھی ہو۔ کرکٹ ہو، کوئی جہاز ہو، فوج ہو، پولیس ہو۔ وہ مصر ہوتے کہ انسانی خوبیوں میں کاردار صاحب پاکستان کے تمام کپتانوں سے نوری سال آگے تھے۔

ایس کے محمود اور ڈاکٹر طارق صدیقی دونوں سی ایس پی تھے۔ اصلی تے وڈے، آج کل ڈبے کے دودھ والے، رو کے روٹی مانگنے والے، کردار میں لڑکھڑاہٹ، سوچ میں ہکلاہٹ اور زبان گونگی۔ بابا بلیک شپ قسم والے افسر نہیں۔

ڈاکٹر اجمل جو شعبہ نفسیات گورنمنٹ کالج کے بانی سربراہ تھے ان کا ایک کارنامہ اوربھی ہے۔ وہ پاکستانی فوج میں نفسیاتی جنگ کے شعبے کے مشیر تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل پنجاب یونی ورسٹی کے چانسلر اور ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمی کے دور میں مرکزی سیکرٹری تعلیم بھی رہے۔ لاہور ایک عرصے تک ان افراد کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ بھٹو صاحب کے دور میں کاردار صاحب صوبائی وزیر تعلیم تھے اور ڈاکٹر طارق صدیقی محکمے کے سیکرٹری۔ حنیف رامے وزیر اعلیٰ دونوں کے دل و جان سے گرویدہ تھے۔ حنیف رامے جیسا پڑھا لکھا علم دوست وزیر اعلی قیام پاکستان سے آج تک کسی صوبے کو نہیں ملا۔ ان کا مرقع غالب کیا نفیس فن پارہ تھا۔

Dr. Muhammad Ajmal (Center)

پہلے ڈاکٹر اجمل کا معاملہ؛ جو ذرا Mild تھا۔ گرما گرمی نہ ہوئی بس بھٹو صاحب کو ان کی ایک بات بری لگی تو انگارہ مزاج بھٹو نے انہیں آناً فاناً سیکرٹری وزارت تعلیم کے عہدے سے برطرف کردیا ۔

 ایک دوپہر سنہ 1978 لنچ پر ڈاکٹر ظفر الطاف کے اسلام آباد ایف ایٹ میں جبڑہ چوک والے گھر پر عبدالحفیظ کاردار، ڈاکٹر اجمل، طارق سعید ہارون سی ایس پی موجود تھے۔ ہم ایسے میں جونیئر موسٹ افسر ہوتے تھے، افسر مہمانداری۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر ہی پر ایک کمرے میں ہمارا قیام رہتا تھا۔ لنچ پر یہ دلچسپ مرحلہ آیا کہ دونوں یعنی کاردار صاحب اور ڈاکٹر اجمل نے ایک دوسرے سے پوچھ لیا کہ وزیر اعظم ان کی کس بات سے خفا ہوئے کہ انہیں ان کے دونوں کو عہدے سے پلک جھپکتے ہی ہٹا دیا گیا۔

دونوں پرانے لاہوری دوست تھے لہذا پہلے آپ، پہلے آپ، ہوتی رہی پھر ڈاکٹر اجمل کہنے لگے کہ وہ پہل کرتے ہیں۔ بیک گراﺅنڈ انفارمیشن یہ ہے کہ سردار داﺅد افغانستان کے سن 1973 سے1978 کے عرصے میں صدر تھے۔ یہ وہ عرصہ جس میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

سردار داﺅد کا جھکاﺅ روس کی طرف تھا۔ وہ ایک انتہا پسند قوم پرست پختون رہنما تھے۔ پاکستان سے اس قدر ناخوش رہتے تھے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں خود نہ آئے بلکہ وزیر اعظم عبدالرحمن پژواک کو اپنی جگہ بھیج دیا۔ ولی خان کے اور بلوچ قوم پرستوں کے بہت بڑے حامی تھے۔ یہ سب باتیں بھٹو صاحب کے مزاج سے متصادم تھیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ خالد کو سمجھانے کو کہا تو شاہ خالد نے عمرے کے دوران حجر اسود پر ہاتھ رکھوا کر پچاس کروڑ ڈالر کی اضافی امداد کا لفافہ پکڑا کر سردار داﺅد سے وعدہ لیا گیا کہ وہ پاکستان مخالفت سے باز رہیں گے۔

اگست 1976 میں البتہ جب پاکستان آئے تو بھٹو صاحب نے اس دورے میں چالاکی یہ دکھائی کہ ان کی نفیساتی پروفائلنگ (خاکہ نگاری ) کے لیے اکثر سرکاری مجالس میں ڈاکٹر اجمل کو بھی شامل کیے رکھا۔ ایر پورٹ سے سردار داﺅد کو رخصت کر کے جس وقت واپسی ہورہی تھی وزیر اعظم نے اپ ڈیٹ کے لیے ڈاکٹر اجمل کو ساتھ کار میں بٹھا لیا۔

ڈاکٹر اجمل کہنے لگے میں بھٹو کی ذہانت کو اس وقت مان گیا کہ جب اس نے نفسیات کے حوالے سے یہ گہری بات پوچھی کہ ”ڈاکٹر صاحب اگر دوران گفتگو کوئی شخص ایک ہی لفظ بار بار استعمال کرے تو کیا اسے اس کی شخصیت کے حوالے سے Key -Word مانا جاسکتا ہے۔ میں نے یہ بات یوں پوچھی میں نے اور آپ نے دیکھا سردار داﺅد اپنی گفتگو میں لفظ Decent بہت استعمال کر رہا تھا۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ وہ غیر شعوری طور پر اس بات کا اظہار کر رہا ہے کہ وہ بہت نفیس اور اعلی شخصیت کا حامل ہے؟

 میں نے جواب دیا” بے شک پرائم منسٹر۔ آپ نے بہت کمال کا نکتہ نکالا۔ یقینا وہ بہت نفیس اور اعلی شخصیت کا حامل ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ آپ تو جانتے ہیں کہ سردارداﺅد کا تعلق بہت باوقار روایتی شاہی خاندان سے ہے“۔ میرا یہ جواب سن کر دو منٹ کی خاموشی طاری رہی۔ گہری سوچ ان کے کتابی چہرے سے عیاں تھی۔ لگتا تھا کہ کہیں دور چلے گئے ہیں۔ یکایک ان کی جانب سے ایک دھماکہ ہوا۔ ” ڈاکٹر صاحب اللہ کو گواہ بنا کرایمانداری سے مجھے بتائیں کہ میں کون سا لفظ دوران کلام بہت استعمال کرتا ہوں؟“۔

ڈاکٹر اجمل نے ایک لمحے کو سکوت اختیار کیا۔ لنچ کی میز پر ڈاکٹر ظفر الطاف کے ایف ایٹ شاہ فیصل مسجد کے قریب والے گھر پر ہم سب کے چہروں کا بہت دھیمے سے جائزہ لیا اور کہنے لگےاللہ کی گواہی سے کون کافر انکار کرسکتا ہے مگر میں نے بے وقوفی اور ایمانداری ساتھ ساتھ دکھائی جو ایک مہلک مکسچر ہے۔ جواباً کہہ دیا کہ پرائم منسٹر آپ غیر شعوری طور پر Sadist – (اذیت پسند۔ وہ جو دوسروں کو ضرر پہنچا کر شدید لطف لے) کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر اجمل کے اگلے کلمات پنجابی میں تھے مگر ہم اردو میں لکھتے ہیں۔ مجھے لگا کہ بھٹو غصہ سے بھڑک اٹھا ہے۔ اس پر کپکپی طاری تھی۔ عمر اور منصب کا خیال نہ ہوتا تو وہ مجھ پر ٹوٹ پڑتا۔ وزیر اعظم ہاﺅس کی پورچ میں گاڑی سے بغیر خدا حافظ کہے اتر کر اندر چلا گیا۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ میں اپنے گھر رفیع رضا کے ساتھ پہنچا یا عزیز احمد وزیر خارجہ کے ساتھ۔ اگلے دن میری چھٹی ہو گئی۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 23 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *