کیا ہم سچ سننا چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں بچپن سے سچ بولنے اور سچ سننے کی اخلاقی تربیت دی جاتی ہے۔ تاہم ہم بلوغت تک پہنچتے پہنچتے یہ جان جاتے ہیں کہ سچ بولنے سے زیادہ اپنی بقا اہم ہے۔ جب بھی سچ ہمارے احساس تحفظ کے آگے بند باندھتا ہے تو ہمارے اندر بقا کا سیلابی ریلا اس بند کو بہا لے جاتا ہے۔ سچ کے سمندر کو ہم دور سے دیکھتے ہیں اور خوشی خوشی ساحلوں کی ہوا بننا قبول کر لیتے ہیں۔

سچ بولنے سے زیادہ کٹھن اپنے متعلق سچ سننا ہوتا ہے۔ ماہر نفسیات کارل ژونگ کے مطابق ہر انسان کا ایک سایہ یا شیڈو ہوتا ہے۔ سایہ ہمارے اندر کمتر درجے کی مخلوق ہے، وہ ایسے تمام کام کرنا چاہتا ہے جس کی ہم اجازت نہیں دیتے ہیں۔ وہ سبھی کچھ ہے جو ہم نہیں ہیں۔ سایہ ہمارے اندر کا وہ اجنبی ہے جس سے ہم رات کے اندھیرے میں بھی ملنے کے طلبگار نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا ہمارے اجنبی سے ملاقات کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کرے۔ مثال کے طور پر جب ہم شدید غصے کی گرفت میں ہوتے ہیں تو اس کیفیت کے گزر جانے کے بعد ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں کہ ”میں شاید اپنے آپ میں نہیں تھا“ یا ”مجھے تو اندازہ ہی نہ ہو پایا کہ مجھ پر کیا بیت گئی، جو کچھ مجھ پر بیت گئی وہ تو میرا سایہ تھا، جو وحشی تھا، بے قابو تھا اور شخصیت کا حیوانی پہلو تھا۔“

سائے کی ایک دوسری مثال یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے۔ ہم کسی کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو دل کے کسی مخفی گوشے میں ہمیں حسد کی دیمک چاٹنا شروع کر دیتی ہے۔ ہم اس کی کامیابی کے دودھ میں حسد کی مینگنیں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ تنقید کا یہ سارا عمل ”اس کی ساڑھی، میری ساڑھی سے آخر زیادہ سفید کیوں ہے“ کے جذبۂ حسد کے سبب تحریک پکڑتا ہے۔

ہمیں اپنی پیدائش کے ابتدائی سالوں میں یہ باور کروا دیا جاتا ہے کہ زندگی مقابلے کا امتحان ہے اور ہم ریس کے گھوڑے ہیں۔ سونے کا تمغہ اول آنے والے کو ملے گا اور جو اول نہیں آئے گا، اس کی پیشانی پر ناکامی کا کلنک آویزاں ہو گا۔ سکندر تو وہی ہوتا ہے جو فتح سے ہمکنار ہوتا ہے اور ساری کہانیاں بھی سکندروں کے بارے میں تحریر کی جاتی ہیں۔ تاریک راہوں میں مارے جانے والے کامیابی کی کہانی کے کردار نہیں بن پاتے ہیں۔

اقتدار و اختیار سے لطف اندوز ہونے والوں کا سایہ رفتہ رفتہ بڑا ہو جاتا ہے اور جس رفتار سے یہ سایہ بڑھتا ہے، اسی رفتار سے ان کے مہان دیوتا بننے کا عمل بھی زور پکڑتا جاتا ہے۔ جب اہل اقتدار تنہائی میں اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں تو کبھی کبھار ان کی پبلک سیلف کے زرہ بکتر میں شگاف نمودار ہو جاتا ہے تو وہ فوراً اپنے سائے سے منہ موڑ کر یہ کہتے ہیں کہ ”ہم سا ہو تو سامنے آئے“ اور کبھی ان جیسا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا ہے اور اسی لیے وہ اپنی ہی اداؤں پر قربان ہو جاتے ہیں۔

حصول طاقت کی خواہش اور سچ کی تلاش زیادہ دور تک ہمسفر نہیں رہ سکتے ہیں۔ طاقت کا حصول زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے سے ہی ممکن ہے۔ لوگ ہمنوا اس وقت بنتے ہیں جب آپ ان کی حسرتوں کو خوابوں کی شکل میں تبدیل کر دیں۔ حصول طاقت کے متمنی، لوگوں کو خواب دکھاتے ہیں اور پھر خود ہی ان خوابوں کی تعبیر بھی بن بیٹھتے ہیں۔ عوام الناس چونکہ سچ کی تلاش میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے ہیں، اس لیے رخ روشن کو داغدار بتانے والوں کا سماجی بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے اور انہیں نکو بنا کر ان سے نجات حاصل کر لی جاتی ہے۔ مورخ یوول نوح حراری کہتے ہیں کہ حضرت انسان بالعموم طاقت اور اپنی بقا کو سچ پر فوقیت دیتا ہے۔ وہ حقائق دنیا اور کائنات کے سربستہ رازوں کو بے نقاب کرنے کا آرزومند نہیں ہوتا ہے۔ وہ تو بس اس دنیا اور اہل دنیا کو اپنی خواہشات کے حصول کے لیے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ دنیا کے سٹیج پر اس کی کہانی سپرہٹ ہو جائے اور تماشائی اس کو ناقابل شکست ہیرو تسلیم کر لیں۔ تماشائی جب تک ہیرو کے لیے داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہتے ہیں بھلے معلوم ہوتے ہیں لیکن جونہی انہیں ہیرو کی کمر کا موکا نظر آنا شروع ہو جاتا ہے تو وہ ہیرو کی نظروں سے گر جاتے ہیں اور ہیرو انگور کھٹے ہیں کا راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply