اوزار سے الگورتھم تک تہذیب کا سفر

ابتدائی ارتقائی عمل میں، اوزار بنانے کی صلاحیت ہی وہ نمایاں خاصیت تھی جس نے انسان کو بود و باش میں کرہ ارض پر بسنے والے دیگر انواع سے ممتاز کر دیا تھا۔ اوزار سازی میں ہتھیار پہلا اہم قدم تھا۔ جب انسان نے درخت کی شاخوں سے لاٹھی بنائی، پتھر تراش کر نوکیلے اوزار بنائے، اور جسمانی ساخت میں خود سے زیادہ طاقتور جانوروں پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کھلے آسمان تلے یا غاروں میں رہنے والے

Read more

جنگ نہیں امن چاہیے

  دہشت گردی کے بارے میں یول نوح حراری نے کہا ہے کہ دہشت گرد مچھر کی طرح کسی چینی دکان (نازک شیشے کے سامان کی دکان) میں کھڑے بدمست بھینسے کے کان میں بھنبھنا کر اس کو بد حواس کر دیتا ہے اور باقی کام بھینسا کر دیتا ہے۔ جموں و کشمیر کی سیاحتی وادی پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد جنوبی ایشیا  کے دو ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملک بھارت اور پاکستان ایک بار پھر آمنے

Read more

سیپینز۔ بنی نوع انسان کی مختصر تاریخ (یووال نوح ہراری)

  تقریباً ساڑھے تیرہ ارب سال قبل، کائنات ایک عظیم دھماکے سے وجود میں آئی، جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اس دھماکے سے مادہ، توانائی، وقت اور خلاء پیدا ہوئے۔ کائنات کی ان خصوصیات کا مطالعہ طبیعیات کہلاتا ہے۔ بگ بینگ کے تقریباً تین لاکھ سال بعد ، مادہ اور توانائی ایٹموں کی صورت میں منظم ہونا شروع ہوئے، اور ایٹم پھر مالیکیولز میں تبدیل ہوئے۔ ایٹموں اور مالیکیولز کے تعامل کا علم کیمیا کہلاتا ہے۔ پھر سیارہ زمین

Read more

چارلس ڈارون سے کون خوفزدہ ہے؟

  (یووال نوح ہراری کی کتاب ہومو ڈیوس سے ایک مضمون کا ترجمہ) گیلپ سروے ( 2012 ) کے مطابق صرف 15 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ ہوموسیپینز قدرتی انتخاب کے ذریعے ارتقا پذیر ہوئے ہیں اور کسی بھی الہامی مداخلت کے بغیر۔ 32 فیصد لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت میں لاکھوں سالوں میں دوسرے جانداروں سے ارتقا پذیر ہوا ہو لیکن یہ سارا عمل خدا کی ہدایت پر ہوا ہو

Read more

بچے فکشن کیوں پڑھیں؟

کلاس سے نکلنے کے بعد میں عموماً آہستہ چلتا ہوں تاکہ کسی بچے کو اگر مجھ سے کوئی سوال وغیرہ پوچھنا ہو تو وہ آسانی سے رسائی حاصل کرسکے ایسے ہی ایک دن ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا سر! یہ لیں آپ کا ناول مجھے فلاں استاد نے کہا ہے کہ آپ ناول وغیرہ نہ پڑھا کریں۔ یہ وقت کا زیاں ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک اور دفعہ کالج کے کچھ طالب علم آئے تھے کلاس میں بچوں

Read more

تیسری دنیا، ماہرِ تعلیم اور ایتھیسٹ کی کتاب

کتابیں علم، سیکھنے اور تنقیدی سوچ کی تشکیل میں معلومات کے ارتقا پذیر کردار کو سمجھنے کے لیے ایک اہم وسیلہ ہیں خاص کر میرے جیسے افراد کے لئے جن کے پاس ریسورس کے نام پر ساری زندگی صرف کتابیں ہی میسر رہی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کتابوں اور ان کے موضوعات میں بھی بہت جدت آئی ہے اور پڑھنے والوں کے ذوق میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ حال ہی میں ایک فلسطینی ملحد کی کتاب پڑھنے کا

Read more

صحیفوں کا سفر ( 100 سے زائد کتابیں پڑھنے کی کتھا)

چند روز قبل ہارورڈ بزنس ریویو میں ایک مضمون پڑھا۔ عنوان تھا: How I Read 100 Books in a Year! یقیناً آپ کے طبق روشن ہوئے ہوں گے ۔ میرے بھی ہوئے تھے۔ جلدی سے پورا مضمون پڑھا۔ مصنف یوٹیوبرز سے متاثر تھا، لہٰذا اس نے آئیں بائیں شائیں تو خوب کی مگر کہیں بھی ایک سو کتابیں، پوری ایک سو وہ بھی ایک سال میں، جو پڑھیں ان کا ذکر نہ کیا۔ میں نے اس دن کے بعد سے

Read more

فلسفہ قوم پرستی کیا ہے؟

  قوم پرستی ایک انتہائی اہم ڈاکٹرائن ہے جس کا مقصد قومی ریاست کی تشکیل کرنا ہے۔ ایک قوم ایک ملک کا نظریہ دراصل قوم پرستی کی اساس ہے۔ قوم پرستی ایک سیاسی، سماجی اور ثقافتی نظریہ ہے جو کسی خاص قوم کے لوگوں کے درمیان اتحاد، شناخت اور خودمختاری کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نظریہ اس تصور پر مبنی ہے کہ قوم، ریاست کی بنیاد ہونی چاہیے اور ہر قوم کو اپنے مفادات، زبان، ثقافت اور خودمختاری

Read more

نازک وقت کا تقاضا، صلاحیت اور بقا کا سوال

ایک بات اپنے ذہن میں بالکل واضح فرما لیجئیے کہ دنیا میں کسی اخلاقیات اور انصاف کا کوئی وجود موجود نہیں ہے، آج کی اس جدید ترقی یافتہ دنیا میں بھی کوئی انصاف کا ترازو لیے انصاف نہیں بانٹ رہا، نہ یہ کسی کی بھی ترجیع ہے، یہاں گروہ ہیں، ان کے مفادات ہیں، اور ان کے شکار ہیں، بس فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے یہی سب کچھ ویرانوں اور جنگلوں میں ہوتا تھا، آج اس عظیم الشان

Read more

یہودیت اور عیسائیت کی کہانی، ہراری کی زبانی

نوح ہراری کی تازہ کتاب Nexus اگرچہ معلومات کی تاریخ پر ہے مگر انہوں نے اس سے ملتے جلتے کئی دوسرے موضوعات بھی چھیڑ رکھے ہیں۔ یہودیت کس طرح وجود میں آئی اور اس کی کوکھ سے عیسائیت نے کیسے جنم لیا؟ ان سوالوں کے سیر حاصل جوابات موجود ہیں۔ ہراری ایک تاریخ دان ہے۔ وہ چیزوں کو اسی اینگل سے دیکھتا ہے۔ لہٰذا ان کی ہر بات سے متفق ہونا لازم نہیں اور عقیدے کی عینک سے جانچنے کی

Read more

غور و فکر کی معدومیت

جس طرح زندگی کے ہر پہلو میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اسی طرح ہمارا دنیا کو دیکھنے کا طریقہ کار اور نقطہ نظر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ انسان کی سماجی تاریخ اس تبدیلی اور جمود کی حالتوں کی جدلیات سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔ جس دور میں آج ہم رہ رہے ہیں اس کو انفارمیشن اور ڈیجیٹل کا دور کہا جاتا ہے۔ اس میں معلومات اور اشیا با آسانی میسر ہوتی ہیں اور نظر آتی ہیں۔ اس لئے آج

Read more

یوول نوح ہراری کی "سیپینز: نوع انسانی کی مختصر تاریخ”

یوول نوح ہراری کی ”سیپینز: بنی نوع انسان کی مختصر تاریخ“ ہومو سیپینز کے ظہور سے لے کر آج تک کے وقت میں پھیلی ہوئی تاریخ کا ایک دلچسپ جائزہ پیش کرتی ہے۔ ہراری نے اس کتاب کو چار اہم حصوں میں تقسیم کیا ہے : شعوری انقلاب، زرعی انقلاب، انسانیت کا اتحاد، اور سائنسی انقلاب۔ ہر حصہ اہم دورانیوں اور اعمال کا جائزہ لیتا ہے جنہوں نے انسانی معاشروں اور جانی مانی دنیا کو، تشکیل دیا ہے۔ حصہ اول:

Read more

اکیسویں صدی کے اکیس اسباق (خلاصہ)

یوول نوح ہراری کی فکری صلاحیت پیچیدہ نظریات سے قابل رسائی اور آسان فہم بیانیوں کو کشید کرنے کی صلاحیت میں چمکتی ہے۔ وہ انسانی حالت کے بارے میں اپنی گہری بصیرت سے دنیا بھر کے قارئین کو مسحور کر دیتا ہے۔ سیپینز (Sapiens) اور ہومو ڈییس (Homo Deus) جیسے اپنے زیادہ فروخت ہونے والے کاموں کے ذریعے، ہراری انسانی تاریخ کی پیچیدہ راہداریوں کو روشن کرتا ہے اور فکر انگیز مستقبل کا تصور پیش کرتا ہے۔ ہراری روایتی دانش

Read more

خواب دیکھنے سے محروم بدنصیب نسل

سرمایہ دار مزدور اور ہنر مند کو صرف اتنا ہی دیتا ہے، جس سے وہ صرف زندہ رہ سکے۔ وہ کبھی اپنا منافع تقسیم نہیں کرتا۔ صدر ایوب کے دور تک پاکستان کا نوے فی صد سرمایہ بتیس خاندانوں میں مرتکز ہو چکا تھا، اس وقت ہاؤسنگ اور سروسز سے لے کر خوراک تک، صحت سے لے کر تعلیم تک، عام آدمی کے لیے جو بھی بہتری اور آسانی آئی، وہ ان خدمات اور سہولیات کے گورنمنٹ سیکٹر میں ہونے

Read more

گڑا ماضی اور آج کا گڑا

آج دن کو جب کالج اوقات میں اچانک تیز بارش کے ساتھ شدید ژالہ باری شروع ہو گئی تو ملازم دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور استغفار پڑھتے ہوئے بولا کہ سر ہمارے گناہوں کی وجہ سے دیکھیں کتنا بڑا اور زیادہ ”چندرا“ شروع ہو گیا ہے آپ جلدی سے گاڑی اندر کھڑی کر لیں۔ مجھے اس کی اس سادگی پر بہت ہنسی آئی اور میں نے لطافت سے عرض کیا کہ نواز گناہ تو ہم انسانوں کے کردہ ہیں

Read more

سعودیہ، ایران پراکسی وار اور مسئلہ فلسطین

اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر کی ثالثی میں چار روزہ ”عارضی جنگ بندی“ کے معاہدے کے بعد (جس میں دو روز کی توسیع ہو گئی ہے ) سے مشرق وسطیٰ اور بالخصوص غزہ کچھ سنبھلنے کی طرف گامزن ہے اور فلسطینیوں کی امداد کے لیے کئی تنظیمیں سر گرم ہیں۔ اس معاہدہ کے تحت 50 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، 4 روز تک کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو گا

Read more

مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں کو کس تیزی سے بدل دے گی؟

مصنوعی ذہانت (AI) ایک تیزی سے ترقی پذیر شعبہ ہے جو روبوٹ کو انسانی عقل کی نقل کرنے اور ایسی سرگرمیاں انجام دینے کے قابل بناتا ہے جن کے لیے عام طور پر انسانی ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ AI نے حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر ترقی کی ہے، بہت سے مختلف کاروباروں اور روزمرہ زندگی کے شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے۔ اس آرٹیکل میں، ہم مصنوعی ذہانت (AI) کے آئیڈیا، ٹیکنالوجی جو اس کی مدد کرتی ہے،

Read more

کتاب تبصرہ: آنگن از خدیجہ مستور

خدیجہ مستور کے ناول کی کہانی کوئی تاریخی کہانی نہیں، یہ ہر دور کی کہانی ہے۔ یہ آج کی کہانی ہے۔ اسے پڑھتے آپ کو لگے گا یہ آپ کے شہر آپ کی آج کی ریاست کی کہانی ہے۔ یہ دو نظریوں میں جینے اور ان کے ٹکراؤ کی زد میں آ کر ٹوٹ بکھرنے کی کہانی ہے۔ یہ شراب کی تلاش میں نکلتے اور اس کی چاہ میں مٹ جانے کی کہانی ہے۔ اس ناول کا ہر کرداروں علامتی

Read more

کچھ سیاسی تشدد کے بارے میں

سوشل میڈیا کی قباحتیں اپنی جگہ پر مگر اس کا یہ فائدہ کیا کم ہے کہ گاہے گاہے اس پر ان موضوعات پر گفتگو چھڑجاتی ہے جن پر ہمارے تعلیمی اداروں اور مین سٹریم میڈیا نے کبھی نظر ہی نہیں ڈالی۔ ایسے کئی موضوعات سوشل میڈیا یا پھر مختلف ویب سائٹس پر نظر آتے ہیں۔ انہی میں سے ایک موضوع جو گزشتہ دنوں زیر بحث رہا وہ تشدد کی سیاسی جدوجہد میں افادیت کے بارے میں تھا۔ گو یہ بحث

Read more

عصری تاریخ کا قضیہ

عصری تاریخ کے قضیہ کی ہمارے ہاں الجھنے کی بڑی ٹھوس وجوہات ہیں۔ پہلی اور سب سے بڑی وجہ تو یہ کہ ہم مجموعی طور پر تاریخ کے تشکیلی پروسس کو ہی سمجھنے کو تیار نہیں۔ بنیادی طور پر ہم خوابوں، سرابوں اور خواہشوں کی بنیاد پر تصوراتی قسم کی تاریخ بننے کے عادی ہیں (جسے تاریخ کہنا بھی گناہ ہے ) ۔ دوسری وجہ جو پہلی وجہ کا ہی ضمیمہ ہے، وہ یہ کہ ہم ”سنہرے ماضی“ کی متھ

Read more

کتاب پر ایک نظر :”Sapiens“

اسرائیلی تاریخ دان یوال نوح حراری کا بین الاقوامی سطح پر کافی چرچا ہے۔ ان کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب 2014 ء میں ان کی لکھی گئی ایک کتاب کا ”Sapiens, A Brief History of Humankind“ کے عنوان کے ساتھ عبرانی زبان سے انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ یہ کتاب راتوں رات مشہور ہوئی اور رفتہ رفتہ ساٹھ زبانوں نے اس کو اپنی آغوش میں جگہ دی۔ بعد میں ان کی دو کتب اور بھی آ گئیں۔ حال ہی

Read more

سست آدمی نے زبان ایجاد کی

سیریز کا لنک: سست آدمی کے انسانیت پر احسانات تمام ممالیہ جانوروں کا نرخرا گلے میں اوپر کی طرف ہوتا ہے جبکہ صرف انسانوں کا نرخرا گلے میں نیچے کی طرف ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے باقی تمام ممالیہ بیک وقت کھا بھی سکتے ہیں اور سانس بھی لے سکتے ہیں، لیکن انسان وہ واحد ممالیہ ہے جو اپنی خوراک اپنی ناک کی نالی میں پھنسا کر دم گھٹنے سے راہی ملک عدم ہو سکتا ہے۔ انسان بھی پہلے

Read more

عمران خان کے بعد

خرید و فروخت کا بازار گرم ہے۔ وفاداریاں مال تجارت کی طرح بک رہی ہیں، لوگ قول و قرار سے ایسے پھر رہے ہیں جیسے زبانیں ان کی اپنی نہ ہوں بلکہ کسی نے زبردستی منہ میں ٹھونس دی ہوں۔ وہ حادثہ جو گزشتہ ساڑھے تین برس سے چپکے چپکے پرورش پا رہا تھا اب گبھرو جوان ہو کر دارالخلافہ کے آنگن میں آن کھڑا ہوا ہے۔ دور تک ساتھ چلنے کا وعدہ کرنے والے ہواؤں کے رخ کے ساتھ

Read more

پاکستان اور دوسرے ممالک کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا تقابلی جائزہ

آج سے بیس تیس پہلے زمانہ طالبعلمی میں جب سو کے اٹھتے تھے تو پی ٹی وی پر قرآن پاک کی ترجمے کے ساتھ تلاوت لگا کرتی تھی، دعا ہوا کرتی تھی اور پھر صبح کی نشریات کا آغاز نعت سے ہوا کرتا تھا، بچوں کے لیے کارٹون اور بڑوں کے لیے معلوماتی پروگرام ہوا کرتے تھے۔ مستنصر حسین تارڑ جیسے ادیب لوگ اس ٹرانسمیشن کو ہوسٹ کیا کرتے تھے۔ شام چار بجے بچوں کے لیے ڈرامے اور رات آٹھ

Read more

تین جلیل القدر دانشور: حسن نثار، آفتاب اقبال اور ارشاد بھٹی

بچپن کے دنوں میں ہمارے گاؤں میں ایک سرکاری مڈل سکول ہوا کرتا تھا۔ اس کے ایک استاد ”اللہ بخش“ (مرحوم) بڑی دلچسپ شخصیت ہوا کرتے تھے۔ بھلے وقتوں میں شاید انہوں نے ایک دو ایم اے بھی کھڑکا رکھے تھے۔ ”استادی“ کے ساتھ ساتھ وہ کچھ لوکل اخباروں میں کسی بڑے شخص کی وفات کی خبر، کسی قومی سانحے پہ اظہار افسوس یا کسی ہومیوپیتھک سے مسئلے پہ کوئی مضمون نما چیز بھی لکھ دیتے، پھر کبھی طبیعت جوش

Read more

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی (2)

مشہور قول ہے کہ مطالعے سے آدمی بیدار ہوتا ہے، مکالمے سے اس میں تمیز آتی ہے اور لکھنے سے اس کی شخصیت نکھر جاتی ہے۔ مطالعے کی عادت اختیار کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے گویا دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تیار کرلی ہے۔ آپ کے گھر میں ایک ایسی جگہ ضرور ہونی چاہیے جہاں آپ تنہائی میں اپنی کتابوں کے سطور سے گفتگو کرسکیں اور اپنے تخیلات کی

Read more

مسیحی ماحولیات اور مسلم معاشیات

تحریر: یوول نوح حراری – ترجمہ: زبیر لودھی  اگرچہ سائنس ہمیں تکنیکی سوالات جیسے خسرہ کے علاج کے طریقہ کار کے واضح جوابات مہیا کرتی ہے، لیکن پالیسی کے سوالات کے بارے میں سائنس دانوں میں کافی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ تقریباً تمام سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے، لیکن اس خطرے کے بہترین معاشی رد عمل کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں

Read more

کیا مذہب اب انسانیت کے کام آ سکے گا؟ 

تحریر: یوول نوح حراری – ترجمہ: زبیر لودھی اب تک جدید نظریات، سائنسی ماہرین اور قومی حکومتیں انسانیت کے مستقبل کے لیے ایک قابل عمل وژن بنانے میں ناکام ہیں۔ کیا اس طرح کا نظریہ انسانی مذہبی روایات کے کنواں سے نکالا جاسکتا ہے؟ ہو سکتا ہے اس کا جواب بائبل، قرآن یا وید کے صفحات پر ہمارا انتظار کر رہا ہو۔ سیکولر لوگ اس طرح کے خیال پر تضحیک اور شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ

Read more

اکیسویں صدی کے اسباق یا اہداف؟

اسرائیلی نژاد امریکی مصنف پروفیسر یوول نوح ہراری کو پی ہنگٹن کی طرح دنیا بھر میں شہرت و پذیرائی ملی ہے اول الذکر کو متنازعہ خیالات کے اظہار پر جبکہ ثانی الذکر کو سائنسی اختراعات سے اخذ شدہ حیرت انگیز استددلال اخذ کرنے کی بنیاد پر۔ یوال براری کی کتاب 21 lessons for the 21 century. جس کا اردو ترجمہ جناب ناصر فاروق نے۔ اکیسویں صدی کے 21 اسباق۔ کیا ہے۔ مترجم نے اپنے ذاتی خیالات جو خالصتاً ًدائیں بازو کے

Read more

اسرائیل بمقابلہ فلسطین۔ حقائق کیا ہیں؟

حقائق کیا ہیں؟ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کے سپرد کر گیا تھا، اقوام متحدہ نے 1947 میں فلسطین کو یوں تقسیم کیا کہ فلسطین کے ساتھ اسرائیل کا قیام بھی عمل میں آ گیا مگر یہ تقسیم ایسی تھی کہ کہیں فلسطینی علاقہ تھا تو کہیں اسرائیلی اور ان علاقوں کے ٹکڑے آپس میں گڈ مڈ تھے۔ تاہم دونوں ریاستیں رقبے میں تقریباً برابر تھیں۔ سن 48 ء میں عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ جنگ چھیڑ دی، اسرائیل جنگ جیت گیا اور نتیجے میں اس نے مزید فلسطین کے مزید ایک تہائی علاقے پر قبضہ کر لیا۔

بعد میں مغربی پٹی اور یروشلم کا کچھ علاقہ اردن کے پاس جبکہ غزہ کا علاقہ مصر کے قبضے میں چلا گیا۔ فلسطینی بیٹھے بٹھائے گھر سے بے گھر ہو گئے۔ 67 ء میں پھر عرب ممالک نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اس مرتبہ اسرائیل نے غزہ، مغربی پٹی، گولان کی پہاڑیاں اور جزیرہ نما سنائی پر قبضہ کر کے تمام عرب ممالک کے کس بل نکال دیے۔ گویا 47 ء میں جن دو ریاستوں کا رقبہ برابر تھا، 67 ء میں اس میں سے ایک ریاست کا وجود ہی ختم ہو گیا جبکہ دوسری ریاست، اسرائیل، کا رقبہ قبضے کے بعد دگنے سے بھی بڑھ گیا۔

Read more

ادب اور فلٹر والا کیمرہ

ادب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے جس میں ہمیں اس معاشرے کا حقیقی عکس دکھائی دیتا ہے۔ اسی میں ہمیں معاشرے کے تمام خد و خال اور نقوش دکھائی دیتے ہیں اسی میں ہمیں اس کی خوبصورتی اور دلکشی کے ساتھ اس کی ہر کجی اور کمزوری بھی بعینہ دکھائی دیتی ہے۔ اسی آئینے میں معاشرے اپنا آپ سنوارتے اور اپنے کمزوریوں اور کجی کو دور کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یا اگر موجودہ حالات میں اس کی تعریف کی

Read more

کیا مذاہب کا مستقبل کا خطرے میں ہے؟

گزشتہ ہفتے ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں اشتعال انگیز احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا، جو ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران تحریک لبیک کے مشتعل کارکنان کی جانب سے سڑکوں کو بلاک کر کے نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ پورا ہفتہ صورتحال کافی پریشان کن رہی۔ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر الجھن محسوس ہوتی ہے

Read more

یوول نوح حراری اور ماحولیاتی چیلنج

انسانیت کو آنے والی دہائی میں ایٹمی جنگ سے زیادہ ایک نئے خطرے کا سامنا ہے، جو شاید 1964ء تک سیاسی راڈار پر درج نہیں تھا اور اس خطرے کا نام ہے ماحولیاتی تباہی۔ انسان متعدد انداز میں عالمی حیاتیات کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ ہم ماحول سے زیادہ سے زیادہ وسائل لے رہے ہیں، جبکہ اس میں بے تحاشا مقدار میں گندگی اور زہر کو خارج کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مٹی، پانی اور فضاء کی

Read more

جوہری چیلنج اور قوم پرستی

آئیے ہم انسانیت کے روگ یعنی جوہری جنگ سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں۔ جب گل داؤدی والا اشتہار 1964 میں نشر ہوا (کیوبن میزائل بحران سے دو سال بعد ) جوہری طور پر فنا ہو جانے کا واضح خطرہ تھا۔ عام لوگوں اور پنڈتوں کا بھی یہی خیال تھا کہ انسان اتنے عقل مند نہیں ہیں کہ جنگ کی تباہی کا رخ موڑ سکیں اور یہ محض اس وقت کی بات تھی جب سرد جنگ جھلسا دینے والی

Read more

عالمی مسائل کے عالمی جواب درکار ہیں

(یوول نوح حراری – مترجم: زبیر لودھی) یہ حقیقت عیاں ہے کہ پوری انسانیت اب ایک ہی تہذیب کی تشکیل کر رہی ہے، تمام لوگوں کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے اور مواقع مشترک ہیں۔ لیکن پھر بھی برطانوی، امریکی، روسی اور متعدد دوسرے گروہ قوم پرست تنہائی کی طرف کیوں رجوع کرتے ہیں؟ کیا قوم پرستی کی طرف لوٹنا ہماری عالمی دنیا کے بے مثال مسائل کا اصل حل پیش کرتا ہے یا یہ ایک ایسی فرار پسندی ہے

Read more

ارتقائی نظریہ وجود بمقابلہ الہامی نظریہ وجود

انسان ایک سماجی جانور ہے ۔ سماج کے بتدریج ارتقاء کو تاریخ کا نام دیا جاتا ہے۔ جدید دور کا انسانی سماج مذہب، وطن، قوم اور نسلی تفاخر جیسے اجزاء کا مجموعہ ہے، اسی بابت جدید دور کا انسان اپنے مذہب، وطن اور نسلی تاریخ کی کھوج اپنا پیدائشی حق گردانتا ہے۔ اگر مذہبی، قومی اور نسلی تاریخ پر تفاخر کو تمام مذاہب، اقوام اور نسلوں کی حمایت حاصل تو بحیثیت انسان جب انسان یا کائنات کے وجود (تاریخ) کو

Read more

شعور و آگہی کا پیامبر: ڈاکٹر بلند اقبال

نیٹ ورکنگ اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں بک ریڈنگ کا رجحان ماندسا پڑتا جا رہا ہے اور ای بک کلچر بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے اور آج کا انسان اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ یہ انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ

Read more

فیس بک کی غیر جانب داری پر سوالات: سوشل میڈیا کمپنی پر انڈین سیاست میں دوہرا رویہ اپنانے، بی جے پی کے سیاستدانوں سے قربتوں کے الزامات

امریکی اخبار ‘وال سٹریٹ جرنل’ کے مطابق فیس بک نے آر ایس ایس اور نظریاتی طور پر اس کے قریب سمجھی جانے والی حکمراں جماعت بی جے پی کی مدد کی ہے۔

Read more

لواطت اور ہماری سماجی ذمہ داریاں

2013 کے موسم گرما کے ایک حبس زدہ شام معمول کے مطابق میں ایئرفون کانوں میں ٹھونسے ریت کے ٹیلوں کو پھلانگتا، دور ایک ٹیلے کی طرف جا رہا تھا، تاکہ وہاں سے اردگرد کے گھروں سے دور بیٹھ کر ریڈیو سے لطف اندوز ہوں۔ کانپتے ہانپتے ٹیلے پر پہونچا، اور سستانے لگا کہ جس اونچے ٹیلے پر میں بیٹھا تھا، اس کے بائیں سائیڈ میں اس سے قدرے چھوٹا ریت کا ٹیلہ تھا، جس پر ایک کیکر کا درخت

Read more

کیا گوگل، بائیو میٹرک، جی پی ایس اور الگورتھم کی دنیا میں ہماری انفرادی شناخت گم ہو جائے گی؟  

جو عمل ادویات کے شعبہ میں پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اب وہی عمل زیادہ سے زیادہ شعبوں میں شروع ہونے والا ہے۔ سب سے اہم ایجاد بائیو میٹرک سینسر ہے جسے لوگ اپنے جسم کے اوپر یا اندر لگا سکتے ہیں اور جو بیالوجیکل عمل کو الیکٹرانک معلومات میں تبدیل کرتا ہے۔ جس کو کمپیوٹر اپنے پاس محفوظ بھی رکھ سکتا ہے اور اس کا تجزیہ بھی کر سکتا ہے۔ جب کمپیوٹر کے پاس آپ سے متعلق کافی زیادہ

Read more

بریگزٹ ریفرینڈم میں یہ کیوں پوچھا گیا کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟

لبرل کہانی انسانی آزادی کو سب سے اہم قدر کے طور پر پسند کرتی ہے۔ اس کہانی کی دلیل یہ ہے کہ تمام تر اختیارات بالآخر فرد واحد کی آزادانہ مرضی سے حاصل ہوتے ہیں، جن کا اظہار جذبات، خواہشات اور انتخابات میں ہوتا ہے۔ لہذا یہ جمہوری انتخابات کی حمایت کرتا ہے۔ معیشت کے دائرہ کار میں لبرل ازم کا ماننا ہے کہ گاہک ہمیشہ درست ہوتا ہے، اسی بنا پر یہ آزادانہ تجارت کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ذاتی معاملات میں لبرل ازم لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ (جب تک دوسروں کی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کرتاہے ) اپنی بات سنیں، اپنی ذات کے ساتھ سچے رہیں اور اپنے دل کی پیروی کریں۔ کیونکہ اس کے مطابق دوسروں کی ذاتی آزادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔

Read more

یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر 9)۔

عالمی بنیادی مدد کیا ہے؟

عالمی بنیادی مدد کا مطلب انسانوں کی بنیادی ضروریات کی دیکھ بھال کرنا ہے، تاہم اس امر کے لیے کوئی قابل قبول تعریف نہیں ہے۔ خالصتاً بیالوجی کے نقطہ نظر سے ایک سیپئن کو زندہ رہنے کے لیے پندرہ سو سے دو ہزار کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ کی طلب عیاشی ہے۔ تاہم تاریخ میں ہر ثقافت نے اس بنیادی حیاتیاتی ضرورت سے زائد خواہشات کو بھی بنیادی ضرورت کے زمرے میں شامل رکھا ہے۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں چرچ کی خدمات کو کھانے پینے سے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس نے آپ کے جسم کی بجائے آپ کی ابدی روح کا خیال رکھا تھا۔ آج کے یورپ میں تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کو بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اب انٹرنیٹ تک ہر مرد، عورت اور بچے کی رسائی ضروری ہے۔ اس کرہ ارض پر موجود ہر شخص کو (ڈھاکہ کی طرح ڈیٹرائٹ میں بھی) بنیادی مدد فراہم کرنے کے لیے اگر 2050 میں متحدہ عالمی حکومت گوگل، ایمیزون، بیدو اور ٹین سینٹ کو ٹیکس دینے پر راضی کرلیتے ہیں تو وہ دو الفاظ ’بنیادی‘ اور ’ضروریات‘ کے فلسفہ کو کس طرح سے سلجھا پائیں گے؟

مثال کے طور پر بنیادی تعلیم میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا بنیادی تعلیم میں محض لکھنا اور پڑھنا سیکھنا کافی ہے یا پھر اس میں کمپیوٹر

Read more

اختر رضا سلیمی کی ناول نگاری

ناول نگاری ادبی اصناف میں ایک ایسی صنف ہے جو مصنف کے خیال کے اظہار کے لیے اپنا دامن اتنا وسیع کر دیتی ہے کہ جس کی وسعت کو سمندری وسعت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ ناول بے شتر مہاڑ گھوڑا ہے جس کی کوئی روک ٹوک نہیں بل کہ جتنا وسیع خیال کا دامن ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ محنت اور جتن ناول نگار کو لکھنے کے دوران میں کرنے پڑتے ہیں۔ وہ تب جاکر

Read more

ایویں مار نہ شاکر قسطاں وچ

عجیب زمانہ ملا ہے ہمیں جینے کو۔ اطلاعات ہیں کہ مینہ کی طرح برستی ہیں۔ اب کس کس خبر کی تحقیق کی جائے کہ سچ ہے یا جھوٹ۔ سچ یہ ہے کہ جھوٹ بھی جب کانوں سے ٹکراتا ہے تو سننے والے پر اثرات بہرحال مرتب کرتا ہے۔ بہرحال انفرمیشن کا یہ برستا پانی جب خوف اور اندیشوں کی آنچ پر کھولتا ہے تو عجیب عجیب خیالوں کی بھاپ اٹھ کر حواس کو گھیرنے لگتی ہے۔ کیا بنی آدم کا

Read more

یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر6)۔

آرٹ سے لے کر ہیلتھ کیئر تک ہر فیلڈ میں روایتی ملازمتوں کو جزوی طور پر نئی انسانی ملازمتوں کی تخلیق سے پورا کیا جائے گا۔ آج جو میڈیکل ڈاکٹر بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج پر توجہ دیتے ہیں، شاید ان کی جگہ مصنوعی ذہین ڈاکٹر لے لیں۔ خاص اسی امر کی بدولت انسانی ڈاکٹروں اور لیب معاونین کو اہم تحقیقات کرنے، نئی ادویات کی تیاری اور جراحی کے جدید طریقہ کار وضع کرنے کے لیے زیادہ رقم دستیاب ہوگی۔

مصنوعی ذہانت مختلف انداز میں نئی انسانی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں مصنوعی ذہانت سے مقابلہ کرنے کی بجائے، اس سے خدمات لینے اور فائدہ اٹھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر ڈرون کی وجہ سے بہت سے انسانی پائلٹوں کی ملازمت ختم ہو گئی ہے، لیکن ڈرونوں کی مرمت کرنا، انہیں ریموٹ کنٹرول سے قابو کرنا، ان کے مہیا کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا اور سائبر سکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں ملازمت کے بہت سے مواقع پیدا ہوچکے ہیں۔

امریکی مسلح افواج کو شام میں اڑنے والے ہر بغیر پائلٹ ’پرڈیٹر‘ یا ’ریپر ڈرون‘ کو چلانے کے لیے تیس افراد کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب

Read more

جذبات کی آخری صدی

آج کل بہت سے دانشور اور قلمکار کرونا کے بعد ابھرنے والی دنیا کے بارے میں مختلف پیشین گوئیاں کر رہے ہیں۔ خار زار سیاست سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک نئے ورلڈ آرڈر کے بارے بات چیت کر رہے ہیں جس میں طاقت کا منبع تبدیل ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ ماہرین معیشت معاشی زبوں حالی کی بری خبریں سنا رہے ہیں جبکہ انسانی ثقافت اور معاشرے پر نظر رکھنے والے لوگ بدلتے ہوئے انسانی تعلقات اور معاشرتی برتاؤ کی بات کر رہے ہیں۔

Read more

کیا ہم سچ سننا چاہتے ہیں؟

ہمیں بچپن سے سچ بولنے اور سچ سننے کی اخلاقی تربیت دی جاتی ہے۔ تاہم ہم بلوغت تک پہنچتے پہنچتے یہ جان جاتے ہیں کہ سچ بولنے سے زیادہ اپنی بقا اہم ہے۔ جب بھی سچ ہمارے احساس تحفظ کے آگے بند باندھتا ہے تو ہمارے اندر بقا کا سیلابی ریلا اس بند کو بہا لے جاتا ہے۔ سچ کے سمندر کو ہم دور سے دیکھتے ہیں اور خوشی خوشی ساحلوں کی ہوا بننا قبول کر لیتے ہیں۔

Read more

کیا کورونا تصور حیات بدل رہا ہے؟

( چوالیس سالہ یووال نوح ہراری اسرائیل کی ہیبرو یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتے ہیں اور ان کا شمار جواں فکر مورخوں کی نئی عالمی کھیپ میں ہوتا ہے۔ تاریخی ارتقا اور مستقبل کے موضوع پر ان کی تین معرکتہ الا آرا کتابیں شایع ہو چکی ہیں، سیپینز (بنی نوع انسان کی تاریخ ) ، ہومودیوس ( مستقبل کی مختصر تاریخ ) اور اکیسویں صدی کے لیے اکیس اسباق۔ ان کتابوں کے چالیس سے زائد زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں کورونا کی وبا کے تعلق سے یوال کا ایک مضمون ”کیا کورونا موت و حیات کے بارے میں ہمارا طرز عمل بدل سکے گا“ شایع ہوا۔ پیش خدمت ہیں اس مضمون کے اقتباسات ) ۔

Read more

یوول نوح حراری: مچھر مارنے سے خیالات کے قتل تک (قسط نمبر 2 )۔

مچھر مارنے سے خیالات کے قتل تک نظام زندگی میں ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دراندازی کی وجہ سے بدحواسی اور سر پر منڈلاتی موت کا خوف بڑھ گیا۔ لبرل سیاسی نظام صنعتی دور میں بھاپ سے چلنے والے انجن، تیل صاف کرنے کے کارخانے اور ٹیلی ویژن کے انتظام و انصرام سنبھالنے کے لیے وجود میں آیا۔ لیکن اب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی کے آگے بڑھتے ہوئے انقلاب کا مقابلہ کرنا اس نظام کے بس کی بات

Read more

یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے 21 سبق (قسط نمبر 1)۔

باب نمبر 1: فریب نگاہ تاریخ کے اختتام کو موخر کردیا گیا ہے انسان حقائق، اعداد یا حسابی مساوات کی بجائے کہانیوں میں سوچتا ہے۔ ہر شخص، گروہ اور قوم کی اپنی کہانی اور دیو مالا ہوتی ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے دوران نیویارک، لندن، برلن اور ماسکو جیسی عالمی اشرافیہ نے تین بڑی کہانیوں (فاشزم، کمیونزم اور لبرل ازم) کی بنیاد رکھی، جو دعوی کرتی تھیں کہ وہ مکمل ماضی کا احاطہ کرتی ہیں او رپوری دنیا کے مستقبل

Read more