مزاحمتی دور میں لاہور کے جیالوں و متوالوں کی کارروائیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جبر، دھونس اور دھاندلی کے نظام اور مارشل لاء کے خلاف سیاسی کارکنوں کی مزاحمت کی کہانیاں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سنہری لفظوں میں لکھی جاتی رہیں گی مگر جبر کے مختلف ادوار میں ان گنت کارکنوں کی طرف سے انجام دیے جانے والے بے مثال کارناموں کی ان کہی داستانیں محض لوگوں کے سینوں میں دفن ہیں اور منظر عام پر نہیں آ پائیں۔

مارشل لاؤں کے سیاہ ادوار میں سیاسی کارکنوں کی مزاحمت اور سادگی کی ملی جلی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، ان میں کہیں پیپلزپارٹی کے ”جیالوں“ کی سادہ دلی کے قصے شامل ہیں تو کہیں مسلم لیگی ”متوالوں“ کی خفیہ کارروائیوں کے دلچسپ واقعات، البتہ ان سب میں جو چیز مشترک ہے وہ ہے اپنی قیادت سے عشق کی حد تک کمٹمنٹ اور اس کے لئے جاں نثاری کا جذبہ۔۔۔

لاہور جو کبھی بھٹو کی سیاست کا مرکز اور پیپلز پارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا، اس شہر نے لازوال وفاداری کے جذبے سے مالا مال منفرد شخصیت کے حامل درجنوں جیالوں کو جنم دیا۔ ان میں سے گدھا گاڑی پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا لگا کر ٹیپ ریکارڈر پر ایک چھوٹے لاؤڈ۔ اسپیکر پر پارٹی ترانے بجاتے گٹہ بیچتا پھرتا بھٹو کا دیوانہ سائیں ہرا، مانی پہلوان اور دلاور بٹ جیسے جیالوں سے تو اس دور کے سبھی سیاسی کارکن واقف ہوں گے لیکن اندرون شہر کا ”ذوالفقار ڈالر“ شاید عام سیاسی کارکنوں کی شناسائی کے دائرے میں نہ ہو۔

نام سے تو وہ ذوالفقار تھا۔ اپنے قائد بھٹو کا ہم نام مگر اپنے مزاج اور کردار میں بھی تلوار ہی تھا۔ طبعاً دیوانہ سا جیسے ذہنی طور پر ہلکا سا کھسکا ہوا ہو، قدرے ”بے لگام“ شخصیت کا مالک۔ اسی لئے پارٹی کے بعض لیڈر آپسی اختلافات اور اندرونی سیاست کے لئے بھی اسے استعمال کر لیتے تھے جیسے۔ روایتی کارکن سے لیڈر بننے تک کا سفر طے کرنے والے جہانگیر بدر کے پارٹی کے ایک جاگیر دار رہنما فاروق لغاری (سابق صدر مملکت) سے اختلافات تھے چنانچہ جب وہ ایک دفعہ پارٹی کارکن ساجدہ میر کے گھر لنڈا بازار آئے تو جہانگیر بدر نے ذوالفقار ڈالر ہی کے ذریعے فاروق لغاری کے خلاف ”پارٹی کارکنوں کی نعرے بازی“ کروائی۔

ملک میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ تھا، ملکی تاریخ کا بدترین مارشل لاء۔ ”ایم آر ڈی“ کے نام سے جمہوریت کی بحالی کی تحریک اور انتظامیہ کی ٹینشن، دونوں زوروں پر تھے۔ لاہور میں گوریلا وار کی طرز پر احتجاجی مظاہرے اور پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی کا سلسلہ صبح سے جاری تھا۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو جہاں موقع ملتا ٹولیوں کی شکل میں نمودار ہوتے اور فوجی حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دیتے جن کی پکڑ دھکڑ کے لئے پولیس کی واقعی دوڑیں لگی ہوئی تھیں۔ ذوالفقار ڈالر ایک دوسرے جیالے کے ہمراہ ٹاؤن ہال کے قریب پولیس کے ہتھے چڑھ گیا، ایس ایچ او تھانہ پرانی انارکلی کی جان میں جان آئی کہ مارشل لاء حکام کی طرف سے ہر ایس ایچ کو کچھ نہ کچھ گرفتاریاں ہر حال میں عمل میں لانے کے سخت احکامات تھے۔

ایس ایچ او ان دونوں جیالوں کو گاڑی میں ڈال کر تھانے لے گیا اور انہیں کسی کے سپرد کیے بغیر، اپنے کمرے میں بٹھا کر ان کی بابت کسی کو کچھ بتائے بنا عجلت میں واپس تھانے سے باہر چلا گیا جبکہ تھانے میں موجود دیگر اہلکار اپنے دھیان میں لگے ہوئے تھے۔ ڈالر کو سگریٹ کی طلب ہوئی تو اٹھتے ہوئے ساتھی جیالے سے کہا ”میں ذرا سگٹ لے آواں“ (میں ذرا سگریٹ لے کر آتا ہوں) اور آرام سے تھانے سے باہر نکل گیا۔ واپڈا ٹریڈ یونین والے جیالے خالد بٹ بتاتے ہیں ”ڈالر کے ساتھی نے سکون کا گہرا سانس لیا کہ چلو ہم میں سے ایک تو پولیس کی گرفت سے نکل جانے میں کامیاب ہوا کہ پانچ دس منٹ بعد کیا دیکھتا ہے ڈالر سگریٹ پیتا ہوا اور سگریٹ کے 2 پیکٹ تھامے اسی آرام سے واپس ایس ایچ او کے کمرے میں داخل ہورہا ہے جس آرام سے وہ نکل گیا تھا“

ملک میں جنرل پرویز مشرف کی زیر قیادت فوجی اقتدار کا ابتدائی دور تھا۔ چودہ ماہ بعد 2000ء میں 9 اور 10 دسمبر کی درمیانی رات معزول اور زیر حراست وزیر اعظم نواز شریف اپنے بیوی بچوں، والدین، بھائیوں، حتیٰ کہ تمام گھریلو ملازموں سمیت 18 افراد کا لشکر لے کر طویل جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے سعودی عرب چلے گئے۔ رائے ونڈ روڈ پر ان کے فارم ہاؤس ”جاتی عمرہ“ کے تمام ٹیلی فون کاٹ دیے گئے تھے جو شریف فیملی کی رہائش گاہ تھی۔

لاہور کے ایک لیگی متوالے ڈاکٹر مخدومی مرحوم نے چند دیگر کارکنوں کے ہمراہ پی ٹی سی ایل میں ملازم ایک دوسرے ”متوالے“ سے کہا۔ ”یار، میاں صاب دے فون تے restore کرواؤ“ ( میاں نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی عمرہ کے ٹیلی فون کنکشن تو بحال کرواؤ ) تو اس متوالے نے کہا ”مینوں لکھ کے دے دوو، کروا دنا واں“ ( مجھے لکھ کر دے دو، کروا دیتا ہوں )

ڈاکٹر مخدومی مرحوم نے اسی وقت ایک درخواست لکھ دی، پی ٹی سی ایل میں ملازم متوالے نے متعلقہ ریونیو آفس میں ایک ساتھی متوالے سے کہا کہ اس کمپلینٹ کا اندراج کر کے مراکہ ایکسچینج سے جاتی عمرہ کے یہ تمام نمبر restore کروا دے کیونکہ رائے ونڈ روڈ پر واقع جاتی عمرہ اور دیگر نواحی علاقوں کو ملتان روڈ کی مراکہ ایکسچینج کنٹرول کرتی تھی۔ اگلے 3 دن تک جاتی عمرہ کے تمام ٹیلی فون فعال رہے، چوتھے روز پتہ چل پایا تو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے لاہور کی ڈیفنس ایکسچینج پر چھاپہ مارا اور سیدھے آپریشن روم MDF میں انچارج ایگزیکٹو انجینئر کے کمرے میں جا دھمکے اور پوچھ گچھ شروع کر دی کہ وہ کون ہے جس نے شریف فیملی کے فون کھلوائے۔

پی ٹی سی ایل میں ملازم متوالا بتاتا ہے ”ہمیں بھی خبر ہو گئی کہ ایجنسیاں آ گئی ہیں اور جاتی عمرہ کے فون کھلوانے والوں کی ٹوہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ میں نے فوراً ریونیو آفس والے ساتھی کو فون کر کے ساری صورتحال بتائی اور اس سے کہا کہ وہ لوگ ہمیں ڈھونڈ رہے ہیں، تم ایسا کرو اس تاریخ میں حاضری رجسٹر میں اپنی P کو بال پین سے A بنا دو مطلب“ present ”یعنی“ حاضر ”کو“ absent ”یعنی“ غیر حاضر ”میں بدل دو“ اور کہہ دینا مجھے کچھ علم نہیں، میں تو اس دن آیا ہی نہیں تھا۔ یوں خفیہ ایجنسیوں کے کھوجی ہم تک پہنچ ہی نہیں پائے ”۔

اسی طرح 1992 کی ”لانگ مارچ“ تحریک کے دوران ایک بار شہید محترمہ بے نظیر بھٹو گوجرانوالہ میں ایک جگہ سے move کرکے دوسری جگہ جانے لگیں تو اپنی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو مسلسل ٹوہ میں لگی خفیہ ایجنسیوں کی نظروں سے بچانے کی خواہش ظاہر کی، سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر گاڑی چلا رہے تھے، اس سے پہلے کہ گاڑی منظر عام پر آتی، انہوں نے شہید قائد سے کہا ”محترمہ آپ ایک منٹ کے لئے خود کو bend کر کے سر نیچے چھپا لیں، کوئی بھی آپ کو دیکھ نہیں پائے گا“ اور ”گفیہ والوں“ کو چکمہ دے کر لاہور کا یہ جیالا آرام سے اپنی لیڈر کو لے کر منزل کی طرف نکل گیا، محترمہ کے تعاقب پر مامور تمام خفیہ اہلکار یہی سمجھے جہانگیر بدر اکیلے ہی کہیں نکلے ہیں اور بے نظیر بھٹو ابھی اندر ہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *