سیانے کی بات: ٹینڈے سے ٹِنڈ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں گرمیوں کا موسم جہاں اور بہت سی سوغاتیں لے کر آتا ہے وہاں ایک سوغات ٹِنڈ بھی ہے۔ گویا ایک خاص عرصے میں جس طرح ہمارے ہاں ٹِینڈوں کا موسم ہوتا ہے ویسے ہی ٹِنڈوں کا موسم بھی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کے نام ہی نہیں شکل میں بھی اچھی خاصی مماثلت پائی جاتی ہے اور چھونے میں بھی دونوں ایک جیسے ”کُولے“ یعنی نرم و ملائم اور ریشمی محسوس ہوتے ہیں۔ ویسے ان کی کچھ کچھ مماثلت انڈوں سے بھی ہے جسے کسی نام نہاد شاعر نے اپنے شعر میں یوں بیان کیا ہے

دور سے دیکھا انڈے اُبل رہے تھے

قریب سے دیکھا گنجے اچھل رہے تھے

ہمیں نہیں معلوم کہ انڈوں اور گنجوں میں بھی اس قدر قریبی مماثلت ہوسکتی ہے کہ بقولِ شاعر انہیں دور سے دیکھنے پر بندہ دھوکہ کھا جائے۔ ممکن ہے یہ شاعرانہ تعلی ہو۔ اگر ایسا ہے تو پھر بھی غنیمت ہے کیونکہ اس شعر میں شاعر اگر انڈوں کو اچھلنے اور گنجوں کو اُبلنے کا حکم دے دیتا تو شاعر کا قلم کون پکڑ سکتا تھا۔ اس لئے کہ شاعر اپنی ریاست کا بادشاہ ہوتا ہے وہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ ہمارے ہاں من مرضی کرنے کے حوالے سے جتنا منہ زور ہمارا شاعر، ہے شاید ہی کوئی اور ہو، ڈکٹیٹر بیچارے تو خواہ مخواہ بدنام ہیں۔ البتہ سیم تن بتان سنگی کو استثنیٰ ہے۔ ناری اگن کی لاگ عربی اور ہندی میں ایک جیسی آنچ دیتی ہے۔

خیر ہمیں شاعروں اور ڈکٹیٹروں سے کیا لینا دینا خاص طور پر اس نازک موڑ پر جب کہ ٹِنڈ جیسا حساس موضوع زیر گفتگو ہے۔ آپ ٹِنڈ کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ کریں کہ ہیر رانجھے سے لے کرآج تک کی تقریباَ تمام عشقیہ داستانوں سے پتا چلتا ہے کہ ٹِنڈ اور عاشقوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ راویان خوش بیاں گواہ ہیں کہ عشق کے سفر میں کئی ایسے”مقامات“ آتے ہیں جہاں عاشق پر ٹِنڈ واجب ہوجاتی ہے۔ اس مقام پر یا اس سے کچھ پہلے اگر عاشق اپنی ٹِنڈ خود کروا لے تو فبہا وگرنہ یہ نیک کام پھر محلے والوں کو نائی بلوا کر خود کروانا پڑتا ہے اس موقع پر سر کے بالوں کے ساتھ اکثر عاشق کی مونچھیں اور بھنویں بھی صاف کروا دی جاتی ہیں۔

”جو مزا ٹِنڈ میں نہ شہر میں نہ پِنڈ میں“ یہ قول ممکن ہے آپ نے بھی سُن رکھا ہو۔ مگر واضح رہے کہ سننے اور محسوس کرنے میں بڑا فرق ہے جسے وہی سمجھ سکتا ہے جس نے”بقلم خود“ کبھی ٹِنڈ کروائی ہو یا کسی نے اُس کی ٹِنڈ کی ہو۔ آپ پوچھیں گے بھلا ٹِنڈ کروانے اور ٹِنڈ ہونے میں کیا فرق ہے۔ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ صاحب ٹِنڈ کروانے اور ٹِنڈ ہونے کا فرق تو آپ کوعین ”موقع واردات“ پر پکڑے جانے والا کوئی عاشقِ نامراد یا اناڑی چور ہی بتا سکتا ہے۔

البتہ ہم آپ کو یہ بتا سکتے ہیں کہ اپنی مرضی ہو یا زبردستی، دونوں صورتوں میں ٹِنڈ کروانا آسان کام نہیں ہے۔ کیا کیجئے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح۔ ٹنڈ کروانے کے لئے بالوں کی قربانی سے بھی پہلے بندے کو اپنی عزتِ نفس قربان کرنا پڑتی ہے۔ یہ جو ہم ٹی وی ٹاک شوز میں آئے روز بڑی بڑی سیاسی شخصیات کو ”ٹِنڈ“ کرواتے دیکھتے ہیں تو یہ”بھلے مانس“ بھی سرِ عام اس لئے اپنا تماشا بنوا رہے ہوتے ہیں کیونکہ سیاست میں آنے سے پہلے ان میں سے اکثر اپنی عزت نفس کا سودا کر چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انکی کہیں بھی”ٹِنڈ“ کر دی جائے انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا خاص طور پر جب ایسے فرمانبرداروں کے لئے ہر طرح کے ہیر سٹائل کی’’وِگ“ کی سہولت موجود ہو۔ وگ کا ذکر ہو تو چکری راجگان کا برانڈ یاد رکھیے گا، اور وہ بھلا سا شعر بھی، میرا میکہ ہو یا سسرال، مجھے دونوں طرف کا خیال۔

پتا نہیں اس موئی ٹِنڈ کے موضوع میں ایسی کیا پھسلن ہے کہ بار بار ہمارا قلم بہک کر اِدھر اُدھر ہوجاتا ہے۔ بات ہورہی تھی ٹِنڈ کی جو اکثر بندے گرمیوں میں ٹھنڈی ٹھار ہواوں کا مزا لینے کے لئے کرواتے ہیں اور ایک ٹکٹ میں سہولت اور بچت کے دو دو مزے ایک ساتھ لیتے ہیں۔ گویا گرمیوں میں ٹِنڈ کروانا ”ٹو اِن ون“ پیکج ہے۔ جو کسی کو ”سوٹ“ کر جائے تو بغیر کسی اضافی خرچے کے یہ پیکج ”تھری اِن ون“ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مگریہ ایک”لکی پیکج“ ہے جو خال خال ہی کسی خوش نصیب کے حصے میں آتا ہے۔ اس لئے کہ شاید ہی کوئی ماں کا ”نیلا،پیلا یا لال“ ایسا ہوگا جس کو ٹِنڈ سوٹ کرجائے۔ وگرنہ ہم نے تو اکثر یہی دیکھا ہے کہ ا چھے خاصے ہیرو بندے کا منہ بھی ٹِنڈ کروا کے کسی چور یا چبڑ جیسا لگنے لگتا ہے۔ اس کا صحیح معنوں میں اندازہ ہمیں اُس وقت ہوا جب ہم نے اپنے مسلسل گرتے ہوئے بالوں کی دوبارہ افزائش کیلئے زندگی میں پہلی اور آخری بار ٹِنڈ کروائی۔ سچی بات ہے کہ ٹِنڈ کروانے سے پہلے ٹِنڈ کے حوالے سے ہمارے ذہن میں ہزار طرح کے خدشات تو پہلے ہی موجود تھے لیکن اس کے اپنے حُسن پر مرتب ہونے والے منفی ”آفٹر ایفیکٹس“ کی شدت کا ہمیں ہرگز اندازہ نہیں تھا۔ بُرا ہو اُس سیانے کا جس کا یہ قول ہے کہ انسان کی آدھی خوبصورتی اُس کے بالوں میں ہوتی ہے۔ یہ تو ہمیں ٹِنڈ کروا کر اندازہ ہوا کہ وہ سیانا نری بکواس کرتاتھا، ہماری تو ساری خوبصورتی ہی بالوں میں تھی۔ جیسے ہی ٹِنڈ کرواکے ہم نے پہلی بار آئینے میں اپنی شکل دیکھی تو ہمارا ہاسا اور”تراہ“ ایک ساتھ نکل گئے جس کے بعد ہمارے منہ سے بے اختیار یہ ”تبریٰ“ نکلا ”اوے سیانیا تیرا ککھ نہ رہے“۔ آج ہمیں ٹِنڈ کروائے پورا ایک ہفتہ ہوگیا ہے ہم اپنے سر اور منہ کو لوگوں سے چھپائے دن گن گن کر اپنے ”منہ متھے“ کے دوبارہ ”نارمل“ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن اس ”کدو کش“ تجربے سے ایک بات ہمیں اچھی طرح سمجھ آگئی ہے کہ کسی بھی ”سیانے“ کی بات پر آنکھیں بند کر کے ہرگز یقین نہیں کرنا چاہیے اورکوئی بھی کام کرنے سے پہلے ہمیں اپنی عقل استعمال کر کے اچھی طرح اُس کے نتائج پر غور کر لینا چاہیے۔ کاش یہ بات جو ہمیں ٹِنڈ کروانے کے بعد سمجھ آئی ہے ہمارے صاحبانِ اختیار و اقتدار ٹِنڈ کروانے سے پہلے سمجھ جایا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *