میری بیٹی جیسی لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اس وقت کراچی کے اسٹیڈیم روڈ پر واقع، لال رنگ کی بلڈنگ والے بہت بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں موجود ہوں اور وہیں سے یہ سطور لکھ رہا ہوں۔

کل ہی کی بات ہے۔ میں ہسپتال کے کوریڈور میں فزیشن ڈاکٹر سعدیہ شیخ کے کنسلٹنٹ روم کے باہر پریشانی اور انتظار کے عالم میں کھڑا تھا۔ مجھے انتظار تھا اپنے بلاوے کا۔ کھڑے کھڑے تھک گیا تو دیوار سے پشت ٹکادی۔ کچھ اور لوگ بھی منتظر کھڑے تھے۔ اچانک میری بیٹی سے بھی کم عمر کی ڈاکٹر لڑکی میرے قریب آئی اور ایک بڑا سا چاکلیٹ میرے ہاتھ میں تھمادیا۔۔۔!

وبا کے ان دنوں کی وجہ سے میرے چہرے پر ماسک تھا اور اس ڈاکٹر بچی کا چہرہ بھی ماسک سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں نے سوچا کہ اس نے شاید غلطی سے چاکلیٹ میرے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے۔ جب تک میں میں نے یہ بات سوچی اور کچھ کہنا چاہا، اس سے پہلے ہی اس نے کہا، “کھا لیجئے سر، آپ کے لئے ہی ہے۔”

میں نے احسان مندی سے زیادہ پیار بھری نظر سے، ماسک کے اوپر سے نظر آتی اس کی آنکھوں میں دیکھآ تو اس نے کہا، “سر آپ پانی پیئیں گے؟”

اس کے جذبے کو محسوس کرکے میرا دل بھر آیا۔۔۔ اور میں کوشش کے باوجود ایک لفظ بھی نہیں بول سکا تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ بہت تیزی سے گئی اور ایک کرسی کھینچتی ہوئی لے کر آئی۔ پاس پہنچ کر اس نے کہا، “سر آپ بیٹھ جائیں۔”

میں نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔ اب بھی کچھ بول نہیں پایا تو سر جھکا کر خاموشی کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ تھوڑی دیر میں ہی پانی لے کر میرے پاس پہنچ گئی۔ مجھے پانی پلا کر اور اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر وہ چلی گئی۔

میں سوچ میں پڑ گیا۔ نہ ہی وہ میری رشتہ دار تھی اور نہ ہی کسی کالج میں میری سٹوڈنٹ رہی تھی۔ وہ اردو اسپیکنگ تھی اور میں بنیادی طور پر سندھی رائیٹر۔ میرے چہرے پر ماسک بھی تھا، جس کی وجہ سے اس خوش فہمی کی گنجائش بھی نہیں تھی کہ اس نے مجھے پہچان کر میرا خیال رکھا ہو۔۔۔!

کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر سعدیہ شیخ سے ملنے کے بعد میں کمرے سے نکلنے والا تھا کہ وہ ڈاکٹر لڑکی اندر آکر بیٹھ گئی۔ میں نے جانے سے پہلے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، “شکریہ بیٹی۔”

وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور جواب میں اس نے پہلے کی طرح مجھے سر کہنے کی بجائے، دعائیہ انداز سے کہا، “انکل۔۔۔ سلامت رہیں۔”

میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ میں نے شفقت سے کہا، “میری بیٹی بھی ڈاکٹر ہے اور تم میری بیٹی جیسی ہی ہو۔۔۔”

اس کو پیار سے دیکھ کر کمرے سے نکلا تو ایسا لگا کہ وہ بھی میری بیٹی ہی ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے، اگر مجھے اس کا نام بھی معلوم نہیں۔۔۔!

کوریڈور میں سے واپس جاتے ہوئے اور اپنی بیٹی جیسی ڈاکٹر بچی کے لئے سوچتے ہوئے، انسانیت میں میرا یقین پہلے سے زیادہ پختہ ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *