کرونا وائرس کے تناظر میں سادہ اور سستی شادی کرنے کا نادر موقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس نے ہم سب کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے اور ہمیں محدود کر دیا ہے۔ جہاں اس نے ہمیں سماجی فاصلہ رکھنے اور اجتماعات و گروہی شکل میں جمع ہونے سے روک دیا ہے وہیں شادی ہالوں کی بندش کی بدولت اس نے شادی بیاہ کی تقریبات کو بھی متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔ پہلے لوگ مہندی، بارات اور ولیمہ کی رسومات شادی ہالوں میں مہمانوں کے ایک جم غفیر کو بلا کر کرتے تھے پر اب شادی ہال بند ہونے کی وجہ سے یہی تقریبات گھروں میں سادگی سے کم مہمانوں کو مدعو کر کے کرنے پر مجبور ہیں کہ کرونا کہ وجہ سے لوگوں کی نقل و حمل محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

تو شادی کی تقریبات گھر پر ہونے اور کرونا وائرس اور اس سے متعلقہ حکومتی ایس او پیز کے تناظر میں مہمانوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے جہاں شادی کی تقریبات سادگی اختیار کررہی ہیں وہیں سستی بھی ہو رہی ہیں یعنی کم مہمانوں کی آمد کا مطلب کم خرچ اور کم خرچ کا مطلب پیسوں کی بچت۔

گویا یہ موقع غریب، مڈل کلاس اور سفید پوش گھرانوں کے لیے نہایت نادر ہے کہ وہ کرونا وائرس کے دور میں اپنے بچوں کی شادیاں سادگی سے کروا دیں کہ شادی بھی کم خرچے میں ہو جائے، ناک بھی نہ کٹے کہ کم مہمانوں کو کیوں بلایا اور کنجوس مکھی چوس جیسے تا عمر ملنے والی طعنوں سے بھی بچ سکیں۔

نہ کارڈ چھپوانے کا خرچہ، نہ مہندی لانے لے جانے کا خرچہ، نہ لائٹنگ کا خرچہ، نہ بینڈ باجوں کا خرچہ، نہ ڈھول کا خرچہ، نہ زیادہ کھانے کا اہتمام کرنے کا خرچہ، نہ مہمانوں کی بڑی تعداد کو دوران شادی گھر ٹھہرانے کی ٹینشن، گویا فائدہ ہی فائدہ۔

وہی پیسے جو ان سب کاموں پر جھوٹی شان اور دکھاوے اور پگڑی اونچی رکھنے کے لیے خرچ بلکہ ضائع ہونے تھے وہی ادھر سے بچ کر کہیں اور خرچ ہوسکتے ہیں تو اس میں برائی کیا ہے۔

صرف غریب ہی کیا امیر بھی جن کے پاس بے تحاشا پیسا ہے وہ بھی شادیاں کرونا وائرس کے خاتمے یا روک تھام کے بعد تک روکے رکھنے کی بجائے کرونا وائرس کے دنوں میں سادگی سے چند مہمانوں کو بلا کر کر لیں تو یہی احسن طریقہ ہوگا۔ جو پیسے ادھر سے بچ جائیں وہ کرونا وائرس کی وجہ سے معاشی مشکلات کا شکار ضرورت مندوں اور مسکینوں میں بانٹ دیں اور سادگی اور غرباء کی مدد سے جنت کی ڈبل ٹکٹ کٹا لیں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔

ہماری پچھلی گلی کے ایک انکل نے اپنے بیٹے کی شادی لاک ڈاؤن میں نہایت سادگی سے کی۔ یہی انکل اپنے تین بچوں کی پہلے شادیاں دھوم دھام سے لاکھوں روپے فی شادی کے حساب سے خرچ کر چکے تھے پر اس بار چند گھر والے جا کر سادگی سے نکاح کر کے بہو لے آئے اور اگلے دن سادگی سے گھر پر کھانا پکا کر ولیمہ کر لیا اور کھانا محلے میں بانٹ دیا کہ کرونا کی وجہ سے سب کو بلا نہیں سکتے تھے۔ شادی ہو گئی اور سستے میں۔ دلہا اور دلہن دونوں کے گھرانوں کے مہمانداری کے اضافے خرچے بچ گئے اور کیا چاہیے تھا۔

بھائی کے ایک واقف کار بابا جی جو ایک پرائیویٹ سکول میں مالی ہیں اور پارٹ ٹائم متمول گھرانوں کے گھر بطور مالی کام بھی کرتے ہیں کافی عرصے سے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے پیسے جوڑ رہے تھے۔ جہیز بن گیا صرف بارات کے کھانے کے لیے کثیر رقم سالوں لگا کر جمع کی، شادی ہال بک کروایا پر کرونا کی وجہ سے شادی سادگی سے گھر پر کرنا پڑی اور جہاں سو ڈیڑھ سو لوگوں کی بارات کے ساتھ آمد متوقع تھی وہیں درجن بھر افراد دلہا کے ساتھ بطور باراتی آئے اور سستے میں شادی ہو گئی۔ بابا جی خوش تھے کہ اتنی بچت ہو گئی ورنہ سالوں کی جمع پونجی باراتیوں کی سیوا پر لگ جاتی۔ وہی پیسے اب کہیں اور خرچ ہوسکتے ہیں۔

دل سے بابا جی کیا ہر باپ سادگی سے ہی اولاد کو بیاہنا چاہتا ہے مگر یہ معاشرہ، اس کی کھوکھلی روایات و اقدار اور ”لوگ کیا کہیں گے“ والا کیڑا لوگوں کو اس سادگی پر عمل کرنے سے روکتا ہے کہ معاشرے سے ٹکرانے کی ہمت کم ہی لوگوں میں ہوتی ہے یا کم لوگ ہی معاشرے کے خلاف جا کر اپنی مرضی کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ایسا حوصلہ ہر کسی میں نہیں ہوتا۔

تو کرونا وائرس کی بدولت جو سنہرا موقع ملا ہے اس سے سب پاکستانی جن کی شادیاں ہونے والی ہیں، طے ہیں یا ہو سکتی ہیں ان کو چاہیے کہ کرونا کے دنوں میں ہی سادگی سے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شادی کریں اور خوش رہیں۔

ایسے بیوقوف جو کرونا کی وجہ سے شادیاں ملتوی کر رہے ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ کرونا کے بعد حالات نارمل ہونے پر شادی کریں گے تو ان سے میری مخلصانہ اپیل ہے کہ خدارا ایسا مت کریں۔ دکھاوے و نمود و نمائش کی مذہب میں کوئی جگہ نہیں۔ آخرت میں حساب آپ نے اللہ کو دینا ہے لوگوں کو نہیں۔ اسلام تو سادگی کا درس دیتا ہے لہذا ان دنوں ہی شادی کریں اور سکون کریں اور یاد رکھیں کی شادی کے لیے لڑکا لڑکی کی مرضی اور ان کے والدین کی رضامندی، ایک عدد مولوی اور چند گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ جم غفیر کی۔ لہذا اسلامی شعائر کے مطابق سادگی سے ان دنوں ہی شادی کر لیں۔ شو مارنے کا زیادہ شوق ہے تو شادی کی تقریب کی ویڈیو بنا کر سب رشتہ داروں کو بھیج دیں کہ بھئی دیکھ لو ہو گئی شادی یہ رہا اس کا ثبوت اور ان کا فیڈ بیک وصول کر لیں۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیشہ شادی سادگی سے کریں لیکن یہ سب کے لیے ممکن نہیں تو بس شادی کے خواہشمند کرونا وائرس کی وبا کے دنوں میں ہی سادگی سے شادی کریں کہ یہی پیسے، توانائی کی بچت اور خدا کی خوشنودی کے حصول کا سبب ہے۔ تو آج کل ہی جلدی شادی کر لیں کیونکہ کسی مہان انسان نے کیا خوب کہا ہے جو مجھے کرونا وائرس اور اس دوران شادی کرنے کے حوالے سے ہی کہا لگ رہا ہے کہ ”وقت تو چلا جائے گا یہ موقع پھر نہیں آئے گا“ ۔ تو پھر دیر کس بات کی۔ کریں بسم اللہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *