عینی آپا کی باون گز کی دنیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بے شمار تجربات اور وسیع مطالعہ کی بنیاد پر آپ غور کریں تو صرف آگ کا دریا کو یہ امتیاز حاصل نہیں کہ یہ ڈھائی ہزار برسوں کا قصہ ہے، ان کی عام کہانیوں میں بھی، قصہ چاہے ایک خاندان کا کیوں نہ ہو، لیکن یہ خاندان پھیلتے پھیلتے صدیوں کی داستان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات محض قصے کہانیوں تک محدود نہیں، کتابوں کے دیباچے، مقدمہ یا پیش لفظ لکھتے ہوئے بھی وہ ایک ایسی فاسٹ ٹرین میں سفر کرتی ہیں، جہاں قصے، واقعات وقت کے کسی ایک لمحہ سے جست لگا کر لا مکانوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

دلی سلطنت بھی۔ مغلیہ سلطنت، عہد وکٹوریہ، خلافت عثمانیہ کی تباہی۔ پندرہویں صدی کا یورپ، ہسپانیہ، پرتگالی، گوا، مغربی کلچر سے پارسی کلچر تک، موسیقی سے مصوری تک، کہیں روہیلہ پٹھانوں کا ذکر، کبھی یورپ اور لکھنؤ کی تہذیب اور طرز معاشرت پر صفحہ در صفحہ، ترقی پسندوں اور سرخوں پر بے لاگ تبصرہ، قدیم ہندوستان سے آزاد ہندوستان تک کو سمجھنے کی کوشش، آکسفورڈ سے کیمبرج کے ذکر کے ساتھ مشرق یورپ اور سابق سوویت یونین کے تذکرے۔ ۔ امریکن مشتریوں، مشرق کی کلونیل، تہذیب، کیٹس، شیلے، ٹیگور کا تذکرہ، اہل لکھنؤ اور سوز خوانی کا فن، تعزیہ داری، محرم کے جلوس، مختلف شہروں کی رام لیلا، پشاور، چٹا گانگ سے قرول باغ تک۔ ۔ ۔ مغربی پینٹنگز سے لے کر پردہ نشیں عورتوں تک۔ ۔ ۔ ان کا قلم چھلاوہ تھا۔ رکتا ہی نہیں تھا۔ اس لیے ایک قصہ شروع ہوتے ہوئے ہزار داستانوں میں پھیلتا چلا جاتا۔

اردو افسانوں نے قرة العین حیدر سے قبل یہ رنگ کہاں دیکھا تھا۔ پریم چند سے لے کر منٹو، بیدی، عصمت اور کرشن چندر کی کہانیوں کے رنگ مختلف تھے۔ ایک کہانی شروع ہوتی تھی اور ختم ہوجاتی تھی۔ وقار عظیم سے لے کر اب تک فکشن اور افسانے کی جو تعریف گھڑی گئی، قرة العین حیدر کی کہانیاں اس تعریف سے مختلف تھیں۔ اور اسی لیے جب ان کی کہانیاں قاری اور نقاد کے سامنے آئیں تو حیرانیوں کے در کھلتے چلے گئے۔ موضوع، اسلوب، رنگ و آہنگ، ماحول، فضا، کہانی بیان کرنے کا انداز سب کچھ مختلف تھا۔

اور یہ رنگ اس سے قبل کی کہانیوں میں کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ رومانی کہانیوں سے نکل کر ابھی ابھی ہمارا فسانہ ترقی پسندی اور نئی نئی جدیدیت کی آغوش میں سمٹنے کی تیاری کر رہا تھا، اور یہ نیا انداز جہاں سرخے بھی معتوب تھے اور جدیدیت کے استعاراتی و علامتی نظام سے بھی گریز کیا گیا تھا۔ اس لیے شروعات میں حملے دونوں طرف سے ہوئے لیکن آخر اس نئے اسلوب کی مخالفت کب تک ممکن تھی۔ ناول اور کہانیوں کا ہر صفحہ یہ اعلان کرنے کے لیے کافی تھا کہ اردو زبان میں ایک ایسی بلند و بالا شخصیت کی آمد ہوچکی ہے، جس کی تحریر کے سامنے مغرب کے بڑے شاہکار بھی کمزور اور پھیکے لگتے ہیں۔ حاضرین ان خیالات کا اظہار بھی قرة العین حیدر کی افسانوی کائنات کے حوالے سے نقاد حضرات بار بار کرچکے ہیں۔ پھر جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں، اس میں نیا کیا ہے؟ قرة العین حیدر کے حیات و فن سے متعلق پرانی باتوں کو بار بار دہرانا کیا تضیع اوقات نہیں؟

ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ پرانی پرتیں ادھیڑنے سے کبھی کبھی چھن کر کوئی نئی بات سامنے آجاتی ہے۔ میں اس سوال کو پھر سے دہراتا ہوں کہ آخر قرة العین حیدر کی تحریروں میں ایسی کون سی بات تھی کہ ہزاروں معترضین بھی پیدا ہوئے اور اس سے کہیں زیادہ قصیدے پڑھنے والے۔ کالج کے دنوں میں جب پہلی بار ’آگ کا دریا‘ کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو چار صفحہ سے زیادہ پڑھنے کی خواہش نہیں ہوئی۔ کہانیاں لکھنے کی شروعات تک میں دو بار اس ناول کے مطالعہ سے گزر چکا تھا۔

ناول کے آغاز میں ایلیٹ کی نظم نقل کی گئی اور نقاد حضرات ایلیٹ کے تصور وقت کو لے اڑے۔ پھر کسی نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ مجھے شدت سے احساس ہے کہ اس ناول میں صرف ایک ہی کردار ہے، اور اس کردار کا نام ہے قرة العین حیدر۔ گوتم نیلامبر کی شکل ہو یا دو ہزار سے زائد برسوں کی داستان کا ہر مسافر، حیات و ممات اور کائنات سے وابستہ ہر فلسفے کے پیچھے عینی بی کا ہی چہرہ ہے۔ شعور کی رو زندہ پرستان کی جن وادیوں میں بھی لے گئی ہو، لیکن مرکز تو ہندوستان ہے۔

قدیم سے جدید تہذیبوں کے الگ الگ دریا جس سمندر میں مل رہے تھے۔ وہ عینی کا ملک تھا۔ اور سمندر کے دھارے میں طلسم ہوشربا، الف لیلیٰ، میجک ماؤنٹین، پنچ تنتر کی طرح ہزار کہانیاں شامل ہوتی چلی گئی تھیں۔ یہاں ایک نکتہ اور بھی ہے، 71 سال کی عمر میں لالہ رخ کے نام سے قرة العین حیدر کی جو پہلی کہانی ایک شام شائع ہوئی، بعد کے تمام ا فسانے اور ناول اسی کہانی کا ایکسٹینشن تھے۔ عمر کی سیڑھیاں طے کرتے ہوئے کثیر مطالعہ، مشاہدہ اور تجربے سے وہ اس میں اضافہ کرتی چلی گئیں۔

ایک شام ایک لڑکی کی کہانی ہے، جو آسکر وائلڈ کی کتاب پڑھ رہی ہے، ریڈیو سے اختری فیض آبادی کی تانیں سن رہی ہے۔ لیمپ کے نیلے شیڈ پر چینی نقش و نگار کو غور سے دیکھتی ہے۔ سگریٹ، بوہیمیا، لمبے لمبے فرانسیسی دریچے، حجاب کے افسانے، نیپولین، لارڈ نیلسن کی باتیں، لیڈی ہملٹن کا ذکر، سوشلزم، کمیونزم، فاشزم، نازی ازم کا تذکرہ۔ ۔ ۔ کافی ہاؤس میں ہونے والی الوداعی پارٹی، لیفٹننٹ کرنل خالو جان، اور پرویز رومانی جو ترقی پسند شاعری کرتے تھے۔

ان سے آگے بڑھیے تو کافی ہاؤس کے کامریڈ ز، ڈھیلی ڈھالی پتلونیں، شعر و شاعری کی محفل، ادب برائے حیات اور سرمایہ داروں کی باتیں۔ اینگلو انڈین لڑکی، آرکسٹرا، پام کے گملوں کے درمیان ادب کی باتیں، پیٹی کوٹ اور رعنائی جیسے افسانوں کا ذکر۔ ۔ ۔ اور آخر میں آزادی کو ترستا ہوا غلام ہندوستان۔ زندگی کی محض سترہ بہاریں دیکھنے والی ایک لڑکی مکمل سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ غلام ہندوستان، تہذیبوں کے تصادم، سرمایہ داری، ادب میں آنے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہی ہے، بلکہ تہذیبوں کا یہی سلسلہ پھیلتے پھیلتے آگ کا دریا، گردش رنگ چمن، کار جہاں دراز ہے، سیتا ہرن اور عینی بی کی مختلف کہانیوں تک چلا جاتا ہے۔

ویران ماضی کے لینڈ اسکیپ سے حال کی پتھریلی سڑکوں تک چلتے ہوئے وہ فلیش بیک، زوم اور کیمرے کی مختلف تکنیک کو سامنے رکھتے ہوئے خاموشی سے ایک کے بعد ایک منظر ہمارے سامنے رکھ دیتی ہیں۔ جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے، ایک دانشور کی طرح اپنے وژن اور فلسفوں کو لے کر وہ خود بھی سامنے آجاتی ہیں۔ غلام ہندوستان کے تصور کے باوجود اس 71 سال کی لڑکی کے اندر کوئی منفی فکر نہیں ہے۔ بوہیمین کلچر، نو آبادیاتی نظام، نئے نئے ترقی پسند سرخوں کی فوج پر خاموشی سے تبصرہ کرتی ہوئی، وہ پارٹی اور رقص و سرور کی محفلیں آراستہ کرتی ہے۔

وہ نظام سے شاکی ہے لیکن ہر رنگ میں بھرپور زندگی جینے کی آرزو بھی پوشیدہ ہے۔ عینی کو جذبات کی نمائش پسند نہیں۔ رلانا دھلانا مقصود نہیں۔ وہ ایک ایسی داستان گو ہیں، جن کی ترکش میں ہزاروں تیر اور زنبیل میں ہزاروں لاکھوں نہ ختم ہونے والے افسانے پوشیدہ ہیں۔ وہ انتہائی کمال و مہارت سے ایک ایک کر کے انہیں نکالتی چلی جاتی ہیں۔ مجموعی طور پر جائزہ لیں تو یہاں صدیوں کی گونج ہے، لیکن اس گونج میں رنج و الم کی داستان کی گنجائش نہیں۔

کارمن میں ایک شام کی یہی لڑکی ایک بڑی سیلی بریٹی بن کر غلطی سے غریب لڑکوں کے ہاسٹل پہنچ جاتی ہے۔ یہ لڑکی کہیں چمپا بن جاتی ہے، کہیں سیتا رام چندانی۔ یہ لڑکی ’ڈالن والا‘ کے مختلف کرداروں اور واقعات میں شامل نظر آتی ہے۔ اسی طرح جلاوطن کی چھمو بیگم، کنول رانی، کشوری کے خیالوں میں کئی جگہ اس لڑکی کا عکس نظر آتا ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی ثریا اور سلمیٰ میں اسی لڑکی کی جھلک ہے۔ بلکہ ثریا کی کہانی نئے واقعات اور انجام کے ساتھ سیتا ہرن میں بھی دہرائی گئی ہے۔

عینی کے لفظوں میں، آج کی دنیا ایک عظیم الشان بلیک مارکیٹ ہے۔ جس میں ذہنوں، دماغوں، دلوں اور روحوں کی اعلیٰ پیمانے پر خرید و فروخت ہوتی ہے۔ بڑے بڑے فنکار، دانشور اس چور بازار میں بکتے ہیں۔ کہانی کے آخر میں ثریا جمشید کے ساتھ یورپ چلی جاتی ہے۔ سیتا ہرن کی سیتا رامچندانی مردوں کو کھیلنے والی فطرت کے ساتھ جب خود کو تنہا محسوس کرتی ہے اور عرفان کو تلاش کرنے پیرس جاتی ہے تو عرفان شادی کر کے کہیں اور جا چکا ہوتا ہے۔

کہانی ایک، واقعات ہزار۔ اسلوب میں وہی رنگ و آہنگ، جو عینی کی پہلی کہانی میں موجود تھا۔ اور بر س ہا برس گزرنے کے بعد بھی یہی مخصوص رنگ مختلف کرداروں اور نئے واقعات کے ساتھ عینی کی ہر کہانی میں موجود رہا۔ عینی کے فن پارے پر ظ انصاری کا تبصرہ یاد کیجئے، جسے دیکھو باون گز کا ۔ لیکن اس تبصرہ سے عینی کا ادبی قد کم نہیں ہوجاتا۔ صدیوں کے تہذیبی سفر میں انحطاط پذیر معاشرہ ان کا محبوب موضوع تھا۔ اور اس موضوع میں دنیا بھر کے مسائل، دنیا بھر کی قومیں، قدیم ہندوستان، ہندوستان کے رسم و رواج، تقسیم، غلامی، ہجرت، اور دیکھے سنے ہزاروں کردار، اور ہزار کہانیاں شامل ہوتی چلی گئیں۔

اپنے انوکھے اسلوب اور داستانی طرز بیان پر ان کو قدرت کاملہ حاصل تھی۔ وہ اپنے مخصوص اسلوب اور طرز بیان کی موجد بھی تھی اور خاتم بھی۔ فکشن میں داستان گوئی کا فن ان کے ساتھ ہی رخصت ہوا۔ ان پر ایلیٹ کلاس والوں کی کہانی لکھنے یا بورژوائی فکر رکھنے کا الزام لگانا غلط ہے۔ کیونکہ ان کی بیشتر کہانیوں میں دونوں طرح کے کردار گلے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ ان کی اعلیٰ شخصیت ہی تھی کہ مصوری کے میدان میں قدم رکھا تو لندن میں ان کی پینٹنگز کی نمائش ہوئی۔

لکھنؤ گھرانے سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ صحافت کے میدان میں قدم رکھا تو پاکستان سے لندن اور امریکہ تک نئی دنیاؤں کو فتح کرتی چلی گئیں۔ پاکستان جانے کے بعد ہندوستان کی شہریت حاصل کرنی چاہی تو وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو تک آگے کھڑے نظر آئے۔ وہ ایک ایسی سے لی بریٹی تھیں، جس کے لیے ایک بڑی دنیا اور حکومت کرنے والوں کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ اور اسی لیے افسانوں سے ناول تک کردار و واقعات کا جو ہجوم یا سرمایہ ان کے پاس تھا، وہ کسی کے پاس نہ تھا۔

کردار و واقعات کو دیکھنے، پرکھنے اور سمجھنے کا جو صحافتی اور سیاسی شعور ان میں تھا، وہ وسیع مطالعہ، مشاہدہ کی دین تھا اور ان میں ان کی سیر و سیاحت کو بھی دخل تھا۔ جو عالمی شہرت انہیں حاصل ہوئی۔ یہ اعزاز بھی ہر کسی کو نہیں ملتا۔ ان سب کے باوجود ایک سطح ایسی ہے جہاں وہ مجھے کمزور نظر آتی ہیں۔ ان کے بیشتر نسائی کردار کمزوری کی علامت ہیں۔ وہ عورتوں کو حرافہ، چڑیل، قطامہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں کھلے خیالوں والی ثریا کا جمشید کے ساتھ جانا یا پھر سیتا ہرن میں سیتا رامچندانی کا آخر میں کسی مرد کے لیے مجبور ہونا محض کہانی کی مانگ نہیں ہو سکتی، یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ ایسی عورتیں ہمارے معاشرے میں ہر جگہ مل جاتی ہیں۔

جلا وطن کہانی میں یہ مکالمہ دیکھیے۔ ’لڑکیوں کی عجب بے ہودہ قدم ہے۔‘ اس سلسلے کو آگے بڑھائیے تو نہ وہ ممتاز شیریں سے خوش تھیں نہ پروین شاکر سے۔ قرة العین حیدر کے لفظوں میں کہوں تو دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں، جس کی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔ کردار و واقعات کے نفسیاتی تجزیے کے نام پر وہ ناراض ہوجاتی تھیں۔ اس لیے اس مضمون میں شروع سے آخر تک میں نے کہیں بھی علم نفسیات پر گفتگو نہیں کی۔ لیکن بہر حال اس نکتہ کو علم نفسیات سے ہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نام نمود، شہرت، عزت، پیسہ سب کچھ تھا ان کے پاس، مگر زندگی ادھوری تھی۔ ناول سے افسانوی کائنات تک ان کی داستان گوئی میں یہ ادھورا رنگ صاف نظر آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *