جانور راج! – فارم کیسا بن گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال گزرے۔ موسم آتے اور جاتے رہے، جانور کی مختصر زندگیاں گزر گئیں۔ ایک وقت آیا کہ سوائے کلوور، بنجامن، منوا اور چند سؤروں کے سوا کوئی بھی ایسا نہ رہ گیا جسے انقلاب سے پہلے کا زمانہ یاد ہو۔

میورئیل مر چکی تھی؛ بلیو بیل، جیسی اور پنچر مر گئے تھے۔ جانی صاحب بھی مر گیا تھا۔ وہ کسی دور گاؤں میں ایک چانڈو خانے میں مرا تھا۔ سنو بال کو بھلا دیا گیا تھا۔ سوائے ان چند کے جو اسے جانتے تھے، باکسر کو بھی بھلا دیا گیا تھا۔ کلوور اب ایک بوڑھی، فربہ گھوڑی تھی، جس کی آنکھیں بہتی تھیں اور گھٹنوں کو گٹھیا مار گیا تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کی عمر سے بھی دو سال پھلانگ چکی تھی، مگر حقیقت میں کوئی بھی جانور کبھی بھی ریٹائرڈ نہیں ہوا تھا۔

چراگاہ کا ایک کونہ بوڑھے جانوروں کے لئے مختص کرنے کی بات، مدت ہوئی، چھیڑی نہ گئی تھی۔ نپولین اب ڈیڑھ سو کلو کا ایک پختہ سؤر تھا۔ چیخم چاخ اس قدر چربا گیا تھا کہ اب بمشکل ہی آنکھیں کھول کر دیکھ پاتا تھا۔ صرف بوڑھا بنجامن سوائے ناک کے ذرا مزید سرمئی ہونے کے علاوہ ویسا ہی تھا، اور باکسر کی موت کے بعد سے مزید بیزار اور کم گو ہو گیا تھا۔

فارم پہ اب کئی مخلوقات تھیں، گو یہ اضافہ اتنا نہ تھا جتنا ابتدائی سالوں میں متوقع تھا۔ بہت سے جانور جو پیدا ہوئے تھے ان کے لئے انقلاب فقط ایک دھندلی سی روایت تھی جو سینہ بسینہ چل رہی تھی، اور باقی ماندہ خریدے گئے تھے جنہوں نے اپنی آمد سے پہلے ایسی کسی شے کے بارے میں کچھ نہ سنا تھا۔ فارم پہ کلوور کے علاوہ اب تین گھوڑے تھے۔ وہ مضبوط اور اچھے جانور تھے، محنتی کارکن اور اچھے ساتھی، مگر بے حد احمق۔ ان میں سے کوئی بھی حروف تہجی کو ”ب“ سے آگے یاد نہ کر پایا۔ انہوں نے انقلاب اور اصول حیوانیت کے بارے میں خاص کر کلوور نے جسے وہ ماں جیسی عزت دیتے تھے، جو بھی بتایا، قبول کر لیا؛ مگر وہ اسے کچھ سمجھے بھی، اس بارے میں شک ہی تھا۔

فارم اب زیادہ خوش حال تھا، اور زیادہ منظم: اس میں دو کھیتوں کی توسیع بھی ہوئی تھی جو مسٹر اللہ دتہ سے خریدے گئے تھے۔ پون چکی، آخر کار، مکمل ہو گئی تھی اور فارم کی اپنی تھریشر اور بھوسہ اٹھانے کی مشین تھی، اور کئی نئی عمارات بھی اس میں شامل کی گئی تھیں۔ نوید مسرت نے اپنے لئے ایک منی سی ٹم ٹم خرید لی تھی۔ پون چکی مگر بجلی بنانے کے لئے استعمال نہ ہوئی۔ اسے مکئی پیسنے کے لئے استعمال کیا گیا اور بڑا مالی فائدہ اٹھایا گیا۔

جانور ایک اور پون چکی بنانے کے لئے سخت محنت کرتے تھے، جس پہ کہ بتایا گیا، مکمل ہونے پر ، ڈائنمو لگیں گے۔ مگر وہ سکھ، جن کے بارے میں سنو بال نے جانوروں کو خواب دکھایا تھا، وہ بجلی سے روشن تھان، گرم اور ٹھنڈے پانی (کے فوارے ) اور تین دن کا ہفتہ، ان کے بارے میں اب کبھی بات نہیں ہوتی تھی۔ نپولین نے ایسے خیالات کو حیوانیت کی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی۔ اصل خوشی، اس نے کہا، محنت کرنے اور جزرسی سے رہنے میں پنہاں ہے۔

کسی طور، یہ لگتا تھا کہ فارم جانوروں کو ، سوائے کتوں اور سؤروں کے، ذرا بھی خوش حال کیے بغیر خود ترقی کر گیا تھا۔ شاید یہ کسی حد تک اس لئے بھی تھا کہ وہاں، بہت سے کتے اور بہت سے سؤر تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ مخلوقات اپنے حسابوں کوئی کام نہیں کرتی تھیں۔ کرتے تھے، جیسا کہ چیخم چاخ، فارم کی تنظیم اور نگرانی کے غیر مختتم کام بتاتے نہ تھکتا تھا۔ اس کا بہت سا کام کچھ اس نوعیت کا تھا کہ باقی جانور وہ سمجھنے کے لئے، کچھ زیادہ ہی نادان تھے۔

مثال کے طور پہ، چیخم چاخ نے انہیں بتایا کہ سؤر روزانہ، کچھ پراسرار چیزوں پہ بے تحاشا محنت کرتے ہیں، جنہیں ’فائل‘ ، ’منٹس‘ اور ’یادداشتیں‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کاغذ کے لمبے لمبے پرچے ہوتے تھے جنہیں باریک باریک لکھائی سے بھرا جانا ضروری ہوتا تھا، اور جیسے ہی وہ اس طور بھرے جاتے تھے، ان کو بھٹی میں جلا دیا جاتا تھا۔ یہ فارم کے وسیع تر مفاد میں تھا، چیخم چاخ نے کہا۔ مگر پھر بھی، نہ تو سؤروں نے اور نہ ہی کتوں نے کبھی اپنی محنت سے کوئی خوراک اگائی اور وہ بہت سے تھے اور ان کی بھوک خوب کھلی ہوئی تھی۔

باقیوں کے لئے، ان کی زندگی، جیسا کہ انہیں یاد تھا، ایسی ہی تھی جیسی ہمیشہ ہوتی تھی۔ وہ عموماً بھوکے ہوتے تھے، وہ پیال پہ سوتے تھے، وہ تالاب سے پانی پیتے تھے، وہ کھیتوں میں کام کرتے تھے، سردیوں میں انہیں ٹھنڈ لگتی تھی اور گرمیوں میں مکھیاں ستاتی تھیں۔ بعض اوقات ان میں سے جو بوڑھے تھے، اپنی دھندلی یادیں کھنگالتے تھے اور یہ پتا لگانے کی کوشش کرتے تھے کہ انقلاب کے اوائل میں جب، جانی صاحب بس ابھی نکالا ہی گیا تھا، معاملات آج سے بہتر تھے یا بد تر۔

وہ یاد نہیں کر سکتے تھے۔ ایسا کچھ بھی نہ تھا جس سے وہ اپنی موجودہ زندگیوں کا تقابل کر سکتے :ان کے پاس سوائے چیخم چاخ کے اعداد و شمار کی فہرست کے کچھ بھی نہ تھا جو ہمیشہ ہر شے کو بہتر سے بہتر کی طرف گامزن ظاہر کرتی تھی۔ جانوروں کو یہ مسئلہ لا ینحل لگا؛کسی بھی صورت میں اب ان کے پاس ان چیزوں پہ غور و فکر کرنے کا کم ہی وقت ہوا کرتا تھا۔ صرف بوڑھا بنجامن اپنی لمبی زندگی کی ہر تفصیل کو یاد رکھنے کا دعویٰ کرتا تھا اور یہ جاننے کا دعویٰ کرتا تھا کہ معاملات نہ کبھی پہلے بہتر تھے اور نہ ہی کبھی مزید بدتر یا بہتر ہوں گے۔ بھوک، سختیاں، اور مایوسیاں ہی، وہ کہتا تھا، زندگی کا کبھی نہ بدلنے والا قانون تھا۔

اور اب بھی جانوروں نے ہمت نہ ہاری تھی۔ مزید یہ کہ انہوں نے ایک لمحے کو بھی جانور راج کا باسی ہونے کے فخر اور تکریم کونہ بھلایا تھا۔ وہ آج بھی سارے دیہات میں، پورے انگلستان میں فقط ایک ہی فارم تھا، جو جانوروں کی ملکیت تھا اور اسے جانور ہی چلا رہے تھے۔ ان میں سے ایک بھی، کم عمر ترین بھی، وہ بھی جو فارم سے دس بیس میل دور سے لائے گئے تھے وہ بھی، اس پہ فخر کیے بغیر نہ رہتے تھے۔ اور جب وہ بندوق کے داغے جانے کی آواز سنتے اور سبز جھنڈے کو ڈنڈے پہ لہراتے دیکھتے تو ان کے دل ایک کبھی نہ دبنے والے فخر سے بھر جاتے اور گفتگو گزرے ہوئے شاندار دنوں، جانی صاحب کو دفعان کرنے، (حیواینت) کے سات اصولوں کے لکھے جانے، ان عظیم جنگوں جن میں حملہ آور انسانوں کو شکست دی گئی تھی، کی طرف مڑ جاتی تھی۔

کوئی بھی پرانا خواب بھلایا نہیں گیا تھا۔ جمہوریہ ہائے حیوان، جس کی کہ میجر نے پیش گوئی کی تھی، جب، انگلستان کے ہرے بھرے کھیت انسانوں کے قدموں سے پامال نہیں ہوں گے، اس خواب پہ آج بھی یقین کیا جاتا تھا۔ ایک روز یہ ہونا تھا: ممکن ہے جلد نہ ہو، ممکن ہے آج جینے والوں کے جیتے جی نہ ہو، مگر پھر بھی یہ ہوگا۔ حتیٰ کہ ’وحوش انگلستان‘ کی دھن بھی، چاہے رازداری ہی سے مگر یہاں وہاں گنگنائی جاتی تھی: کسی بھی قیمت پہ سہی مگر یہ ایک حقیقت تھی کہ فارم پہ ہر جانور کو یہ یاد تھی، گو کوئی اسے بآواز بلند گانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔

ممکن تھا کہ ان کی زندگیاں مشکل ہوں اور یہ کہ ان کی تمام امیدیں پوری نہ ہوئی ہوں ؛مگر وہ جانتے تھے کہ وہ دیگر جانوروں جیسے نہ تھے۔ اگر وہ فاقے کھینچتے تھے تووہ کسی ظالم مخلوق کا پیٹ بھرنے کے لئے نہیں کھینچتے تھے؛ اگر وہ مشقت کرتے تھے تو کم سے کم اپنے لئے تو کرتے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مخلوق دو ٹانگوں پہ نہیں چلتی تھی۔ کوئی مخلوق دوسری کو ’آقا‘ نہیں کہتی تھی۔ سب جانور برابر تھے۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج! باکسر کی یاد میں عشائیہجانور راج! مت کیجیو اعتبار ہستی، ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ آخری قسط
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *