وقار نے فحش ویڈیو کیوں لائک کی اور اس پر عوام نے کیسا ری ایکشن دکھایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری قوم میں منافقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور اس کے قول و فعل میں واضح تضاد موجود ہے۔ یہ بظاہر تو نیک، پارسا، پرہیزگار اور متقی بننے کا ڈھونگ کرتی ہے مگر حقیقت میں ایسی ہے نہیں۔ فحش مواد کے حوالے سے بھی ہر فرد دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے زندگی میں کبھی ایسا مواد نہیں دیکھا، وہ تو ایسے مواد کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں مگر فحش مواد یا پورن سائٹس دیکھنے والوں کی فہرست میں جگمگاتا نام ہمارے سارے خود ساختہ شرافت کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے مگر ہم پھر بھی اسے یہود و نصاریٰ کی سازش کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ہماری قوم فحش مواد بڑے شوق سے دیکھتی ہے پر چھپ چھپ کر۔

اٹھائیس مئی کو جب قوم ایٹمی دھماکوں کی بائیسویں سالگرہ منا رہی تھی تبھی وقار یونس کے ٹویٹر اکاونٹ سے ایک فحش ویڈیو لائیک کی گئی جس پر کچھ ٹویٹر اکاونٹس نے اس کی نشاندہی کی جس پر لوگ دھڑا دھڑ وقار یونس کے ٹویٹر اکاونٹ کا وزٹ کر کے خود اپنی آنکھوں سے متعلقہ فحش ویڈیو کے لائیک کیے جانے کا نظارہ کرتے رہے۔ یوں جلد یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی اور سوشل میڈیا پراس کے چرچے ہونے لگے اور یوں ”وقار یونس“ کے ہیش ٹیگ سے یہ ٹویٹر ٹرینڈ بن گیا جس پر صارفین نے اپنی اپنی آرا کا کھل کر اظہار کیا اور سب کہہ دیا جس میں سے کچھ آرا وقار یونس کے حق اور کچھ مخالفت میں رہیں۔

پاکستانیوں کی اکثریت نے اس واقعے پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے خوب اوور ایکٹنگ کی اور مختلف طرح کے خیالات کا اظہار کیا تاہم اس واقعے پر وقار کے سب ہم پیشہ کرکٹرز چپ ہی رہے۔ ایک صارف ریحان نواب نے وقار کی طرف داری کرتے ہوئے کہا اگر وقار پورن دیکھ رہے تھے تو ان کو ایسی ویڈیو کو لائیک کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ پبلک فگر ہیں اور سب ان کا یہ لائیک دیکھ سکتے ہیں لہذا ان کا اکاونٹ ہیک ہی ہوا تھا۔

احمد وقاص گورایا جن کی ہر خبر پر گہری نظر ہوتی ہے ان ابتدائی لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے فحش ویڈیو لائیک کرنے کی خبر ٹویٹ کی تھی انہوں نے بعد ازاں وقار کی ویڈیو پیغام کے ذریعے دی جانے والی وضاحت پر ان کو مفید مشورے سے بھی نوازا اور ٹویٹر پر دوبارہ ایسا مواد دیکھنے سے منع کیا کہ لائیک ہو سکتا ہے۔

زاہد مقبول نے اکاونٹ ہیک ہونے والی بات تسلیم کرلی اور کہا کہ ہیکر نے ہی یہ کر کے وقار کو بدنام کرنے کی عظیم ترین سازش کی۔
ایک انڈین صارف نے اس ایشو کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وقار نے ویڈیو دیکھتے ہوئے عوام کے بارے میں سوچا ہو گا کہ ”ان کو کیا پتا چلے گا“ جبکہ پتا چل گیا۔

ایک ٹویٹر صارف نے اس واقعے پر پاکستانیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ”دیکھتے سب ہیں پر بتاتا کوئی نہیں“

ایک اور صارف نے اکاونٹ ہیکنگ کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فحش ویڈیو خود لائیک کی گئی ہے اور ہیکر صرف ایک فحش ویڈیو لائیک کرنے کے لیے اکاونٹ ہیک نہیں کر سکتا بس اب وقار غلطی مان نہیں رہے۔

ایک اور صارف حافظ خدا یار نے سب کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ یہ جو وقار پر اس ایشو پر تنقید کر رہے ہیں ان کے اکاونٹس چیک کریں تو وقار ان کے سامنے فرشتہ لگیں گے۔

صحافی احتشام الحق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے وقار یونس کو بھی نہیں بخشا۔

سدرہ کنول نے سب ٹرولز کو شرم دلاتے ہوئے ٹویٹ کی کہ صرف ایک لائیک سے وقار یونس کو جانچنے کی کوشش نہ کریں، پاکستان میں صرف وقار ہی پورن نہیں دیکھتے بلکہ پاکستان کے زیادہ تر مرد و خواتین بھی دیکھتے ہیں جس کی وجہ اس مواد کی با آسانی دستیابی ہے۔

ایک ہندوستانی صارف نے وقار یونس سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کو اس طرح وقار کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے ہمیں وقار کی یہ وضاحت مان لینی چاہیے کہ اکاونٹ ہیک ہوا تھا۔ کم ازکم یہ آفریدی کی طرح تو نہیں جو انڈیا کے اندرونی معاملات جیسے کشمیر پر بیان بازی کرتا ہے نہ ہماری فوج کو گالی دیتا ہے۔ تو جانے دو۔

الغرض ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے اس ایشو پر ہر طرح کی رائے کا اظہار کیا اور انتیس مئی کو اس حوالے سے وقار یونس نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ایک مختصر ویڈیو بیان اپلوڈ کیا جس میں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے میرا ٹویٹر اکاونٹ ہیک کر لیا، میں جب صبح سو کر اٹھا تو مجھے پتا چلا میرے اکاونٹ سے ایک انتہائی نازیبا ویڈیو کو لائیک کیا گیا یہ میرے اور میری فیملی کے لیے بڑی افسوسناک، تکلیف دہ اور شرمناک بات ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ سوشل میڈیا ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کا ذریعہ ہے، اس انسان نے پہلی مرتبہ نہیں اس سے پہلے بھی میرا اکاونٹ ہیک کیا ہے یہ انسان تو باز نہیں آئے گا لیکن میں نے فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ مجھے اپنی فیملی زیادہ عزیز ہے اس لیے میں آئندہ سوشل میڈیا استعمال نہیں کروں گا، میں معذرت خواہ ہوں اگر کسی کو اس سے تکلیف ہوئی ہے۔

اس طرح وقار نے اس واقعے کو ہیکر کی کارستانی بتا کر خود کو بے قصور قرار دیا اور ساتھ ہی سوشل میڈیا چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا مگر عوام کی اکثریت نے اس ہیکنگ والی بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور اسے اب بھی وقار ہی کی غلطی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ کوئی ہیکر صرف ویڈیو لائیک کرنے کے لیے تو کسی بڑی سلیبریٹی کا اکاونٹ ہیک کر نہیں سکتا اور اگر اکاونٹ ہیک ہوگیا تھا تواسے واپس کیسے لیا گیا اور اگر اکاونٹ پہلے بھی ہیک ہوتا رہا تو اس کی رپورٹ کہیں کیوں نہیں کروائی گئی تاکہ ہیکر پکڑا جائے۔

بہرحال اس واقعے پر پاکستانی عوام کے ردعمل نے ان کی منافقت کا پول کھول دیا۔ خود چھپ چھپ کر فحش مواد دیکھنے اور نہ ماننے والی پارسا قوم نے اس واقعے پر دل کھول کر وقار کا مذاق اڑایا کیونکہ وقار کے خلاف ثبوت سامنے تھا۔ ایسا مواد عوام کی اکثریت کی رسائی میں ہمہ وقت رہتا ہے اور حکومت کے بین کرنے کے باوجود پراکسی کے ذریعے اس تک رسائی عام ہے۔ بہرحال اس واقعے پر میں یہی کہوں گی کہ ہمیں وقار کا مذاق اڑانے کی بجائے ان کی ہیکر والی کہانی کو ہی سچ مان لینا چاہیے اور اس واقعے کی مزید تشہیر سے باز رہنا چاہیے کہ قومی ہیرو کا اتنا تو حق بنتا ہے ناں۔

آخر میں یہی کہوں گی کہ
وقار اس واقعے سے پہلے بھی ہمارے لیے محترم تھے اور اب بھی ہیں۔
پاکستان زندہ باد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *