یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا المیہ یہ ہے کہ منصوبہ بندی کی صلاحیت ہم میں نہیں۔ پیشگی آزمائش کا ادراک کرتے ہوئے اقدامات آج تک ہم سے نہیں ہوئے۔ ہمیشہ اولے پڑنے کے بعد سر ڈھانپنے کا خیال آتا ہے۔ بلکہ نقصان اٹھانے کے بعد بھی رد عمل میں سنجیدگی کی بجائے اچھل کود زیادہ ہوتی ہے۔ اس بندر کی طرح جس کے دیگر ہمسائے اپنے جنگل کے شیر کی جارحیت سے بہت تنگ تھے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی شیر کا نوالہ بن جاتا۔ اس مصیبت سے نمٹنے کی کوئی تدبیر جنگل کے رہائشیوں کے پاس نہ تھی۔

آخر ایک دن بندر نے سب جانوروں کو جمع کر کے کہا میں تمہاری مشکل حل کر سکتا ہوں بشرطیکہ تم مجھے اپنا لیڈر تسلیم کرلو۔ جانور بیچارے مجبور تھے لہذا وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر آمادہ ہو گئے۔ کچھ وقت ہی گزرا تھا ایک لومڑی چیختی چلائی آئی کہ شیر پھر ہرن کے بچے کو اٹھا لے گیا۔ یہ سن کر بندر یہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا کہ شیر کی یہ مجال اور لپک کر درخت پر چڑھ گیا۔ اس کے بعد بندر ایک درخت سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے پر کودنے لگا۔ کسی نے کہا کہ اتنی دیر میں تو شیر نے ہرن کے بچے کے تیا پانچہ بھی کر چکا ہوگا۔ جواباً بندر بولا کہ بھاگ دوڑ تو میں نے اتنی کی اب اگر ہرن کے بچے کی زندگی ہی اتنی لکھی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔

ہمارے ہاں یہی چلن ہے جب بھی کوئی بڑا سانحہ ہو اس کے بعد ایک تحقیقاتی کمیشن بن جاتا ہے۔ کچھ وقت تک اس کمیشن کی آنیاں جانیاں اور پھرتیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔ ہر چند منٹ بعد اس کی تحقیق کے نتیجے کوئی نیا انکشاف سننے کو ملنے کو ملتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے واقعتاً کمیشن کی کارروائی منطقی انجام تک پہنچ جائے گی ذمہ داران کی نشاندہی ہو جائے گی اور سفارشات کی روشنی میں ان کو کڑی اور عبرتناک سزا بھی مل جائے گی۔

کچھ وقت گزرنے کے بعد معاملے پر مٹی ڈال دی جاتی ہے نہ ہی کسی کمیشن کی رپورٹ آج تک سامنے آئی اور نہ کسی کو سزا ملی۔ اس چلن کی ابتدا مملکت خداداد کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی ہو گئی تھی۔ قائداعظم کا ہم نام تو بہت لیتے ہیں اور یہ گاتے نہیں تھکتے کہ قائد تیرا احسان ہے۔ زندگی موت تو واقعی اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور کوئی بھی اپنی مقررہ زندگی سے زیادہ نہیں جی سکتا آج تک مگر یہ پتا نہیں چل سکا کہ قائداعظم کے آخری ایام میں اور جس دن وہ دار فانی سے دار بقا کی جانب گئے ان سے برا سلوک کیوں کیسے اور کس کے کہنے پر ہوا۔ پھر ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کی گتھی بھی آج تک سلجھ نہیں سکی۔ یہ راز اب تک راز ہی ہے کہ ان کے قاتل کو گولی کیوں ماری گئی تھی اور یہ حکم جاری کرنے کے پیچھے کیا حکمت تھی؟

ضیاءالحق کے طیارہ کو پیش آنے والے حادثے اور اتنی بڑی تعداد میں ہائی پروفائل ہلاکتوں کی وجوہات بھی آج تک تلاش نہیں کی جا سکیں۔ سقوط ڈھاکہ سے بڑی قیامت کی گھڑی اور کیا ہو گی۔ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی اور واحد نظریاتی ریاست دو لخت ہو گئی۔ اس کی وجوہات جاننے کے لیے حمودالرحمن کمیشن تشکیل دیا گیا۔ آج پچاس سال ہو چکے ہیں اس کی رپورٹ دشمن ملک ہندوستان میں تو شائع ہو گئی، جس کا اس تخریب کاری کے پیچھے ہاتھ تھا لیکن ہم نے یہ بھی جاری نہیں کی۔

پھر ایبٹ آباد میں جو کچھ ہوا کس طرح امریکی ہیلی کاپٹرز تین چار سو میل کا سفر طے کر کے پہنچے نہایت سکون سے واردات ڈالی اور واپس بھی چلے گئے۔ ہم خواب غفلت کے مزے لوٹتے رہے اور صبح اٹھ شرمندگی کی بجائے فخریہ مضامین بھی لکھ دیے۔ اتنی بڑی نا اہلی کس کس کی غفلت یا ملی بھگت سے ہوئی یہ آج تک نہیں پتا چلا۔ عام آدمی کو تو اس ساری کہانی پر یقین ہی نہیں کیونکہ آج تک اس پر اسرار کے پردے پڑے ہیں۔

عیدالفطر سے دو روز قبل لاہور سے کراچی آنے والے پی آئی اے کے طیارے عین لیڈنگ کے وقت حادثہ پیش آیا جس میں سو کے لگ بھگ لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ اس بدقسمت طیارے میں سوار مسافر یقیناً اپنے پیاروں کی دید اور ان کے سنگ عید کی چھٹیاں گزارنے کی خواہش میں بیٹھے ہوں گے ان کے دکھ سے ہر حساس اور درد مند شہری کی آنکھ اشکبار ہے۔ ردعمل سے گھبرا کر تحقیقاتی کمیشن ایک مرتبہ پھر بنا دیا گیا ہے مگر اب تک ”انکشافات“ سنتے ہوئے زیادہ امید نہیں کہ اس کی رپورٹ منظر عام پر آئے گی اور آ بھی گئی تو واقعتاً کسی ذمہ دار کو سزا ملے گی۔

یہ بات خارج از امکان نہیں کہ طیارے کے کپتان سے غلطیاں ہوئی ہوں لیکن تحقیقات مکمل کیے بغیر اس قسم کی باتیں جو مرحوم پائلٹ کے حوالے سے پھیلائی جا رہی ہیں اس سے لا محالہ شکوک و شبہات بھی جنم لیں گے اور تحقیق کی شفافیت پر لازما سوالیہ نشان بھی لگیں گے۔ دعوے تو کیے جا رہے ہیں خدا کرے کہ پورے بھی ہوں ایک بار بھی ملکی تاریخ میں کسی بڑے حادثے کے ذمہ داران کو کڑی سزا مل جائے تو دوبارہ اس قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہیں ہوگا۔

بات مگر سنجیدگی کی ہے یہاں تو کورونا کے معاملے میں ہوئی مس ہینڈلنگ کی ذمہ داری قبول کرنے کا تردد کسی نے نہیں کیا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کورونا کی وبا نئی ہے اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک بھی اس نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس میں بھی شک نہیں کہ کورونا کی تشخیص کے لیے جو کٹس اب تک ایجاد ہوئی ہیں ان میں غلطی کا امکان تیس فیصد ہے۔ لہذا اس حوالے سے بھی حکومت کی نیت یا کارکردگی پر تنقید مناسب نہیں مگر چند آسان پیشگی حفاظتی اقدامات کر کے اپنے ہاں اس وبا کے اثرات کم کیے جا سکتے تھے۔

جب ایران میں کورونا کے کیسز سامنے آئے اس وقت ہمارے شہری بڑی تعداد میں ایران میں موجود تھے اور ویزے کی مدت پوری ہونے کے بعد انہوں نے لازما وطن لوٹنا تھا۔ حفظ ما تقدم کے لیے حکومت کے پاس مناسب وقت موجود تھا ایران سے واپس لوٹنے والے زائرین کو ملکی حدود میں داخلے کے بعد سرحد کے قریب ہی علیحدہ رکھنے کے انتظامات کیے جاتے اور پھر جس شخص میں تشخیص ہوتی اسے رکھ کر باقیوں کو روانہ کر دیا جاتا۔ اس کی بجائے بہت سے لوگ بغیر اسکریننگ ہی گھروں کو نکل گئے اور بد انتظامی و نا اہلی کا یہ عالم رہا جو تھوڑے بہت افراد وہاں رکھے گئے انہیں بھی بھیڑ بکریوں کی طرح ایک ساتھ بند کر دیا گیا جس سے نقصان مزید بڑھا۔

ائرپورٹس کے باہر بھی اسی طرح قرنطینہ سینٹر بنائے جا سکتے تھے اس سارے عمل پر حکومت کا کتنا پیسہ خرچ ہو جاتا؟ لوکل ٹرانسمیشن کے کیس بہت بعد بہت میں شروع ہوئے ابتدا میں تو بیماری باہر سے آنے والوں نے ہی پھیلائی۔ اس طرح کی غلطیوں اور ان کے سنگین نقصانات سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ طیارہ حادثے کی محض انکوائری کافی نہیں جب تک ذمہ داران کو سزا نہیں ملے گی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply