بیرون ملک میں مسلمان سمجھا جانے والا اپنے ملک کا کافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خاکسار مضمون کی ابتدا میں سب سے پہلے پاکستانی احمدیوں کو مبارک باد دینا چاہتا ہے جن کی قیمت شدت پسندوں کی جانب سے دس روپے سے بڑھا کر ہزار روپے کردی گئی ہے۔

بے شک موجودہ پاکستان میں کرونا وائرس، مسئلہ کشمیر یا بڑھتی ہوئی غربت اور بیروزگاری سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ احمدی صرف بدترین کافر ہیں یا اس کے ساتھ ساتھ مرتد بھی ہیں! کیونکہ ہمارے علماء کرام کے نزدیک ایک بات تو واضح ہے کہ جو مسلمان احباب احمدی مذہب میں شمولیت اختیار کرتے ہیں وہ مرتد ہیں۔ مگر جو انسان پیدائشی احمدی ہے جس کی پیدائش غلطی سے کسی احمدی گھرانے میں ہوئی وہ صرف بدترین کافر ہے۔ مگر مسئلہ ابھی تک یہ ہے کہ احمدیوں کو اس پاک وطن سے ختم کس طرح کیا جائے۔

خاکسار کی آنکھ بھی اپنی مرضی کے بغیر 1991 میں ایک احمدی گھرانے میں کھلی تھی۔ جس کے بعد میرے والدین محلے والوں کو مٹھائی بانٹنے گئے اور انہیں بتایا کہ ہمارے ہاں ایک عدد بدترین کافر کی پیدائش ہوئی ہے۔ یہ سن کر محلے والوں نے مٹھائی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ خاکسار تمام امت مسلمہ کی طرح اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ ہر انسان کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالی ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی کہ میرے خدا نے مجھے ایک احمدی گھرانے میں پیدا کیا۔ یقین کریں کہ اس میں میرے باپ کی غلطی بھی نہیں تھی کیونکہ میرا دادا بھی میری طرح پیدائشی احمدی تھا۔ ہاں میرے پردادے کی غلطی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ شاید احمدیہ جماعت میں خود شامل ہوئے تھے۔

موجودہ پاکستان میں احمدی ایک بدترین کافر، مرتد اور غدار وطن کے نام سے جانے جاتے ہیں اور جو یہ بات نہیں مانتا وہ بھی غدار اسلام اور غدار وطن کی فہرست میں آ جاتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ ہم تاریخ نہیں بدل سکتے وہ تاریخ جس کے مطابق بانی پاکستان محمد علی جناح نے پہلا وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان صاحب کو منتخب کیا تھا۔ مگر آج کے پاکستان میں احمدیوں کی اتنی بھی اوقات نہیں کہ وہ اقلیتی کمیشن کا حصہ بن سکیں۔ موجودہ پاکستان میں مختلف داڑھی والے اور بغیر داڑھی والے شدت پسندوں کی جانب سے کھلے عام ٹیلیویژن میں یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ پاکستانی احمدی پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور پاکستان کو مزید برباد کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم صاحب خاکسار بھی ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی ہے جو سویٹزرلینڈ میں مقیم ہے۔ سویٹزرلینڈ جہاں دنیا کے تمام رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے انسان برابری کی بنیاد پر اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ خاکسار مختلف ممالک کے لوگوں کے ساتھ کام کرتا ہے جن میں سے ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو ہمارے وطن کا نام تک نہیں جانتے تھے مگر آج وہ میری وجہ سے پاکستان کو اچھے لفظوں میں جانتے ہیں۔ خاکسار یقین دلانا چاہتا ہے کہ میں نے کبھی کسی غیر ملکی کو اس بات کا اندازہ نہیں ہونے دیا کہ میں اپنے ہی ملک میں ایک غدار اسلام اور غدار وطن ہوں اور میری برادری اپنے ہی ملک میں اپنا عقیدہ چھپا کر ڈر ڈر کر ایک ذلت سے بھری ہوئی زندگی گزار رہی ہے۔ یہ زندگی میرے باپ دادے نے بھی گزاری۔ وہاں کے نیک مسلمان ہمیں گالیاں دینا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں اور جو کچھ زیادہ نیک مسلمان ہوتے ہیں وہ ہمیں قتل کرنا بھی اپنا مذہبی حق سمجھتے ہیں۔

خاکسار یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہا کیونکہ خاکسار اس ملک اور یہاں کے لوگوں سے بہت محبت کرتا ہے کیونکہ خاکسار کا پورا خاندان اس وطن کی مٹی میں دفن ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ قانون کے مطابق وہ اپنے کتبوں پر ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ بھی نہیں لکھوا سکتا مگر موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ بھی پاکستانی حکومت کی مہربانی سمجھتا ہے کہ ابھی تک احمدیوں کو اس مٹی میں دفن ہونے اجازت ہے۔

خاکسار بخوبی جانتا ہے کہ یہاں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو نفرت اور شدت پسندی پر یقین نہیں رکھتے اور ایسے محبت کرنے والے لوگ اکثریت میں ہیں۔ مگر افسوس ہمارے ملک میں ایسے اکثریتی لوگوں کا نظریہ ہمیشہ سے دبایا جاتا رہا ہے جبکہ شدت پسندی کی سوچ رکھنے والوں کا نظریہ ہمیشہ کی طرح اس ملک میں پروان چڑھایا گیا ہے۔

کاش ہماری قوم یہ بات سمجھ جائے کہ احمدیوں کو ننگی گالیاں دے کر ہی انہیں اپنی مرضی کے سیدھے راستے پر نہیں لایا جاسکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم کب کا بھارت، اسرائیل اور امریکہ کو اپنے سیدھے راستے پر لا چکے ہوتے۔ کیونکہ ہماری قوم نے ساری عمر بھارت، اسرائیل اور امریکہ کو گالیاں اور ان کے جھنڈے جلانے پر ہی وقف کر دی ہے مگر آج تک ہم ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے جبکہ وہ مزید ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتے رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *