اٹھارویں ترمیم
اٹھارہویں ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل: پاکستان کا سرکاری نظام زیادہ فیڈرل اور نہ ہی تکنیکی طور پر پارلیمانی تھا۔ نیم صدراتی پارلیمانی تھا۔ نظام حکومت کے اختیارات صدر اور وزیراعظم کے مابین مشترک تھے اس لئے 2010 سے پہلے مشترکہ نظام تھا۔ نیم صدارتی نظام بھی کہا جاسکتا ہے تب کے پاکستان کو۔
مرکز انتہائی مضبوط اور طاقتور بمقابلہ چار صوبوں تھا۔
پارلیمان پاکستان کمزور ہونے کے ساتھ بے اختیار اور صدر کے 58 (ٹو بی) کی تلوار وزیراعظم وقت کے گلے کو کاٹنے کے لیے تیز تھی۔ صدر پاکستان کسی وقت بھی قومی اسمبلی کو تحلیل کر سکتے تھے۔ فیڈرل اس لیے نہیں کہا جاسکتا تھا کیونکہ جب تک طاقت مرکز و صوبوں کے مابین اور اقتصادی تقسیم آدھی آدھی نہیں ہوتی تب تک نظام کو درس و تدریس کے زاویے میں فیڈرل کہنا غلط ہے۔
اٹھارہویں ترمیم سے نفرت کی کچھ وجوہات ملاحظہ کیجئے۔
نیم صدارتی نظام کو ایک پارلیمانی نظام بنا دیا گیا، اور مرکز کو ایک وفاقی نظام کر دیا گیا صدر کے تمام اختیارات اب وزیراعظم کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
طویل جدوجہد کے بعد یعنی مکمل 63 سال کے بعد شمال مغربی سرحدی صوبہ اب خیبر پختونخوا کہلایا جاتا ہے نوآبادیاتی جابروں کے نام کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔
دفعہ چھ ( 6 ) : یعنی سنگین غداری کرنے کی ہر چالاکی جو میرے شعبے کے سینئر وکلا ان کو بتایا کرتے تھے وہ دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو گئے۔
ہم آہنگی کی فہرست کو یکساں طور پر ختم کیا گیا، صوبے اب اپنے علاقوں کے لیے قوانین اور سابقہ قوانین میں ترامیم کے ساتھ صوبوں کے اپنے وزرائے اعلیٰ دوسرے ممالک (صوبوں، یا ریاستوں ) کے ساتھ کاروبار کر سکتے اور قرضے لے سکتے ہیں۔ بغیر وفاقی حکومت کے مشورے سے۔
دفعہ 10 الف: بنیادی حقوق میں منصفانہ ٹرائل داخل کیا گیا۔ یعنی اگر جرم کی نوعیت بڑی اور سخت ہو تب بھی منصفانہ ٹرائل سب کو دینی چاہیے۔ ماورائے عدالت اور خود ساختہ نظام کو ختم کرنا اور ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد، عدالتی دائرہ اختیار ہے کہ وہ ملزم کو باعزت ریا کرے، یا مجرم قرار دے۔
دفعہ 19 الف: معلومات کا حق۔
ہر شہری کو کسی بھی قسم کی معلومات رکھنے کا حق ہے جو سرکاری طور پر پوشیدہ ہے۔
دفعہ 25 الف: حق تعلیم
حکومت پاکستان ہر بچے کو 5 سے 16 سال کی عمر تک مفت تعلیم فراہم کرے گی۔
دفعہ 161 اور 162 : محصولات سے آ مدنی صوبوں اور مرکز میں تقسیم اور وفاقی حکومت کا صوبوں کو امدادی رقوم دینا۔ قومی مالیاتی کمیشن جن کا صوبوں کو پچھلے ایوارڈ سے کم حصہ دینا ممنوع ہوگا، وزیر مالیات دونوں : وفاقی اور صوبائی اس پر عملدرآمد کا خیال رکھیں گے، اور پارلیمنٹ کے سامنے اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔
دفعہ 172 : جہاں قدرتی وسائل کو مشترکہ اور یکساں طور پر مرکز اور فیڈریشن یونٹوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ کئی اداروں کا انتقال وفاقی حکومت سے صوبوں کو ہوا۔
اٹھارہویں ترمیم میں کل 102 تبدیلیاں کی گئیں۔ جس کی وجہ سے جمہوریت کو استحکام پہنچا اور صوبوں کو خود مختاری و ترقی کے مواقع ملے۔ اب اس کے پیچھے کچھ قوتوں نے دوبارہ ارادہ کیا ہے کہ اس ترمیم کو ختم کیا جائے۔ اسی ترمیم کو ختم کرنا وفاق کو ختم کرنے کی مترادف ہوگا۔
ملک کے تین وفاقی یونٹس اس کو کسی بھی حال میں ختم ہونے نہیں دیں گے۔ کہیں سیاسی رہنماؤں، قانون دان، میرے جیسے چھوٹے وکیلوں نے اس کا کل کر مخالفت کی اور وقت کے حکومت اور ان کے لانے والوں کو ہوش کے ناخن لینے کو کہا ہے۔ آئین پاکستان کے ساتھ مزید چھیڑ خانی اور تجربے نہ کیے جائے اسی میں سب کی بھلائی اور خوشی ہوگی۔


