کرونا کی عالمی وبا اور نظام تعلیم پر مرتب ہونے والے اس کے بد ترین اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنوری 2020 ء کی ابتدا چین کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی ایک وبا ”کرونا“ سے ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے محض پانچ ماہ میں دنیا کے دو سو ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کرونا جو ایک وبائی مرض ہے جس کا حملہ انسانی نظام تنفس پر ہوتا ہے لیکن یہ حملہ سب کے لئے جان لیوا نہیں ہے۔ کیونکہ اس بیماری سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد مرنے والوں کے مقابلہ میں زیادہ ہے لیکن پھر بھی اس کے خوف نے ساری دنیا کے نظام زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اور آگے کے حالات کیا ہوں گے، کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ خاص طور پر تعلیمی نظام کا مفلوج ہوجانا ان دنوں ہر ذی شعور شخص کے لئے باعث تشویش ہے، جس کا فی الحال کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔

اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی تمام تعلیمی ادارے بند ہیں لیکن پاکستان کے علاوہ دوسرے تمام ممالک میں تعلیمی سلسلہ غائب نہیں ہوا بلکہ آن لائن کلاسز کے اجرا کے ذریعہ استاد اور طالب علم کے درمیان تعلق برقرار ہے جب کہ پاکستان جہاں پہلے ہی شرح خواندگی نہایت کم ہے، کرونا نے اس کے تعلیمی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ چند ایک اسکولوں کے علاوہ کہیں بھی آن لائن کلاسز شروع نہیں ہوئیں، جس کی بڑی وجہ اکثر طلبا کے مسائل ہیں، جن کی اکثریت اسکول کی سطح پر آن لائن کلاسوں کی اہل نہیں ہے۔ اگر ہم طلبا کے تعلیمی مسائل کو کچھ ماہ کے لئے نظر انداز بھی کردیں تو حقیقت یہ ہے کہ کرونا نے پرائیویٹ اسکول سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا تدارک ممکن نہیں۔

چھبیس فروری سے صوبہ سندھ میں اسکول بند ہیں، جس کے سبب کئی لاکھ اساتذہ بے روزگار ہوئے، کیونکہ نامی گرامی اداروں کے علاوہ صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں چھوٹے لیول کے ہزاروں اسکول موجود تھے جن کی اکثریت کلی طور پر بند ہونے والی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر اسکول کرائے کی عمارتوں میں واقع ہیں، انہیں بحالت مجبوری اگر اب تک خالی نہیں کیا گیا تو ایک آدھ ماہ میں خالی کر دیا جائے گا۔

ظاہر ہے۔ ایسے نامساعد حالات میں جب چار ماہ بعد بھی اسکول کھلنے کی کوئی صورت دکھائی نہ دے تو مایوس انسان یہی فیصلہ کرے گا۔ اگر دیکھا جائے تو کرونا اور لاک ڈاؤن نے پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ جہاں گورنمنٹ اسکول ٹیچرز کو گھر بیٹھے تنخواہ مل رہی ہے۔ وہاں پرائیویٹ ادارے بد حالی کا شکار ہو رہے ہیں۔

اسکول بند ہیں تو ٹیوشن سینٹرز بھی بند ہیں۔ وہ لوگ جن کا ذریعہ معاش محض ٹیوشن پر منحصر تھا۔ اس وقت معاشی بد حالی کا شکار ہیں۔ جب کہ تعلیم ایک ایسی تجارت رہی جس نے ہر دور میں لاکھوں انسانوں کو باعزت روزگار فراہم کیا لیکن یہ وقت ہر استاد کے لئے لمحہ فکریہ یوں ہے کہ اس وقت چار ماہ سے جو شعبہ مکمل طور پر بند ہے۔ وہ اسکول اور کالجوں کا تعلیمی شعبے ہیں، جس کے مزید کئی ماہ تک کھلنے کے کوئی امکانات دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے۔ ایسے میں کم از کم سندھ میں پچاس فی صد پرائیویٹ اسکول ختم ہوجائیں گے اور بے روزگار استاد معاشی بد حالی سے تنگ آ کر کوئی دوسرا پیشہ اپنانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اگر واقعی اس سال اسکول بند رہے تو ہمارے طلبا کا مستقبل کیا ہو گا؟ اور ہم اس منجمند تعلیمی نظام کو دوبارہ کیسے چلائیں گے؟ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *