وقت کا قلم اور کتاب زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتاب زندگی کے اوراق پر وقت تیزی سے خامہ پرداز ہے۔ ہر گزرتا لمحہ زندگی کی قیمتی یادوں کو محفوظ کر رہا ہے اور اس بات سے قطع نظر کہ یہ یادیں اچھی ہوں یا بری، یہ بس رقم کرتا رہتا ہے۔ اس قلم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ رکتا ہے اور نا ہی لکھتے ہوئے تھکتا ہے۔ بس چلے جا رہا ہے۔ اور یہ آگے مزید کتنا لکھے گا اس بارے میں پیش گوئی کرنا محال ہے۔ پر اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ آپ اس کے صفحے پلٹ کر ماضی میں جھانک سکتے ہیں۔

اپنی گزشتہ خوش گوار یادوں کو پڑھ کر مسکرا سکتے ہیں۔ اپنے بچپن کے دوستوں اور بہن بھائیوں سے جڑی شرارتوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اپنے پیاروں کے ساتھ گزارے لمحات کو یاد کر سکتے ہیں، اپنے والدین کی پر خلوص محبت اور اپنائیت کا لمس محسوس کر سکتے ہیں ان کی نصیحتوں، تاکیدوں اور کھٹی میٹھی ڈانٹ اور ہلکی پھلکی پٹائی کو انجوائے کر سکتے ہیں۔ اگر چہ یہ خوشی چند لمحوں سے زیادہ دیرپا نہیں رہتی پر کچھ ہی لمحوں میں آپ کو غم اور پریشانیوں کے چنگل سے نجات دلا کر راحت و سکون قلب بخشتی ہے۔

کتاب زندگی کے صفحات پر سب اچھا، خوش گوار اور پر مسرت ہی رقم نہیں ہوتا۔ یہ قلم بے رحم ہے۔ اس کی روشنائی ان مٹ ہے۔ یہ خوش گوار یادوں کے ساتھ تلخ یادوں کو بھی لکھنا نہیں بھولتا۔ کیونکہ خامہ فرسا کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کن یادوں سے صاحب کتاب کو راحت نصیب ہوتی ہے اور کن واقعات سے اس پر افسردگی طاری ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ بلا تردد ہر بات، ہر یاد، اور ہر لمحہ رقم کرتا چلا جاتا ہے۔ اور وقتاً فوقتاً ایک میکانیکی انداز میں ماضی کے صفحات کو بھی پلٹتا رہتا ہے۔

جب کتاب زندگی کے تلخ اوراق سے انسان کا سامنا ہوتا ہے تو وہ غمگین ہوجاتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ یہ صفحات اس کی کتاب سے نوچ کر الگ کر دیے جائیں اور جلا کر خاک کر دیے جائیں یا ایسی گہرائی میں دفن کر دیے جائیں جہاں کسی ذی نفس کی رسائی نا ہو۔ تا کہ پھر کبھی یہ اس کے سامنے نا آ سکیں۔ اور اسے افسردہ نا کرسکیں۔ اور وہ اس تاریک یادوں سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر لے۔ پر انسان کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ انسان لاکھ چاہے پر وہ اپنے بیتے کل کو بدل نہیں سکتا۔ ماضی کے تلخ تجربات کو فراموش نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس پر انسان کا اختیار نہیں۔ اور جب بے اختیاری کی اس کیفیت سے گزرتا ہے تو نتیجتاً غم و غصے کا شکار ہوجاتا ہے۔ پر افسوس کہ ان سے کسی صورت بھی راہ فرار ممکن نہیں۔

اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کتاب میں کن صفحات کا اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ چاہے تو اپنی زندگی یاس و حسرت میں گزار دے، ماضی کی تلخ و ترش یادوں اور واقعات کو یاد کر کے کڑھنے میں گزار دے، لاحاصل مستقبل کے خواب بننے میں صرف کر دے یا پھر زمانہ حال کے لمحات کو بھرپور طریقے سے جینے میں گزار دے۔ وقت کا قلم رواں ہے۔ اور آگے بھی رواں دواں رہے گا۔ انسان اپنا ماضی بدل نہیں سکتا اور مستقبل اپنے وقت سے پہلے لا نہیں سکتا۔

تو پھر کیا کر سکتا ہے۔ جواب سادہ اور آسان ہے زمانہ حال میں خوش رہنے کی کوشش کی جائے۔ اپنے حریفوں کی کامیابیوں پر کڑھنے کے بجائے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے۔ اپنے حلیفوں کی خامیوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ عزیزوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیے جائیں۔ ماضی کے تجربوں میں الجھنے کے بجائے ان سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ زمانہ حال کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور کامیابیوں سے لطف اندوز ہوا جائے۔ تو کوئی شک نہیں کہ آنے والے کل میں تلخیوں کا سامنا ہی نا کرنا پڑے اور کتاب زندگی کے صفحات خوبصورت یادوں اور یادگار لمحات سے رقم ہوتے چلے جائیں۔ اور جب انسان پیچھے پلٹ کر ماضی میں جھانکے تو مسرت ہی مسرت پائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *