ہم موبائل استعمال کر رہے ہیں یا موبائل ہمیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان اپنی تخلیق سے لے کر ہمیشہ سے اپنے آنے والے کل کو گزرے ہوئے کل سے بہتر بنانے کے لیے سرگرداں رہا ہے اور یہی بات انسان کو دوسر ے جانداروں سے ممتاز کرتی ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا انسان اپنی ضروریات کے مطابق ایجادات کرتا رہا اور یہ ایجادات انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں ہوتی رہی ہیں۔ کروڑوں سالوں کے سائنسی، سماجی اور نفسیاتی ارتقاء کے بعد انسان آج اپنی موجودہ حالت میں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر نئی ایجاد نے انسانی سوچ کے نئے زاویوں کو جنم دیا اور یہی سوچیں مزید ایجادات کا موجب بنی ہیں جن میں سے بیشتر تو بنی نوع انسان کے فائدے کے لیے جبکہ کچھ انسان نے اپنی تباہی کے لیے بھی تیار کی ہیں۔ جب مؤخرالذکر چیزیں انسان نے اپنائیں تو وہ اس کی عادات کا حصہ بنتی گئیں جو کہ شروع میں محض سہولت سمجھ کر اپنائی گئیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ مجبوری بن گئیں۔

انہی چیزوں میں سے ایک آج کے دو ر کا موبائل فون ہے۔ جس کی ابتدائی شکل تار والا ٹیلی فون تھا جو کہ 1876 سے ارتقائی عمل سے گزرتا ہوا موبائل فون بن گیا۔ یہ اپنی ایجاد کے وقت صرف آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کردار ادا کرتا تھا جس کے بعد اس میں مسلسل تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی رہیں حتیٰ کہ آج کے جدید موبائل کی صورت میں ہمارے ہاتھ میں ہے۔

وہ موبائل جس کا بنیادی مقصد آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا تھا۔ آج اس میں اس قدر فنکشنز متعارف ہو چکے ہیں کہ کوئی کوئی ہی ان فنکشنز کے مکمل استعمال سے واقف ہوگا، لیکن جہاں اس موبائل کی وجہ سے اس قدر آسانیاں میسر ہیں وہیں یہ انسان کی انفرادی زندگی کے لیے ناسور بن چکا ہے۔

آج کے جدید موبائل نے انسانی زندگی میں سے پرائیویسی (خلوت) کا تصور ہی ختم کر دیا ہے کیونکہ ہماری ہر کال، ٹیکسٹ میسجز، ویڈیو کالز، آڈیو میسجز، وائس ریکارڈنگز اور ویڈیو ریکارڈنگز سمیت ہر چیز کی نہ صر ف مانیٹرنگ ہو رہی ے بلکہ ریکارڈنگ بھی ہر لمحہ جاری ہے۔ ہر وہ چیز جو ہم اپنے موبائل پر دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں اور سرچ کر رہے ہیں، وہ بھی ریکارڈ ہو رہی ہے۔

خواہ آپ موبائل میں سے اپنی سرچنگ ہسٹری، کالز اور میسجز کے ریکارڈ کو حذف بھی کر دیں تب یہ ریکارڈ ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمارے موبائلز میں موجود تصاویر اور ویڈیو گیلری سمیت کچھ بھی محفوظ نہیں ہے حتیٰ کہ ہم کہاں جار ہے ہیں، کہاں سے آ رہے ہیں، کب آئے، کب گئے، کتنے قدم چلے، ایک دن میں کتنا سفر طے کیا، غرض کہ ہر چیز ریکارڈ ہو رہی ہوتی ہے۔ ہمارے موبائلز کے دونوں اگلے اور پچھلے کیمرے، سپیکر، اور مائیک بھی ہر وقت آن ہوتے ہیں۔

اگر موبائل بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے بند بھی ہو جائے تب بھی یہ سب متحرک ہوتا ہے اور ہماری روزمرہ کی گفتگو کی ریکارڈنگ کی جا رہی ہوتی ہے اور کیمرے بھی چل رہے ہوتے ہیں۔ آپ خود تصور کریں کہ اگر چند ہزار روپے میں ملنے والے موبائل کی سپیس 128 جی بی تک ہے جو کہ ہر انسان کی پہنچ میں ہے تو جو یہ سب ریکارڈ کر رہے ہیں ان کے پاس یہ سب ریکارڈ کرنے کے لیے کس قدر بڑے پیمانے پر انتظامات ہوں گے؟

اب سوال یہ ہے کہ آخر کار ہماری کالز، میسجز، تصاویر، ویڈیوز، گیلری اور موبائل کے دیگر حصوں تک رسائی کس کس کو حاصل ہے؟ سب سے پہلے تو موبائل نیٹ ورک کمپنیز آجاتی ہیں جن کمپنیز کی سمیں لے کر ہم موبائلز میں ڈالتے ہیں مثلاً : جاز، وارد اور ٹیلی نار وغیرہ۔ اس کے بعد موبائل بنانے والی کمپنیز ہیں جن کے بنائے ہوئے موبائل ہم استعمال کرتے ہیں، مثلاً : آئی فون، سام سنگ وغیرہ۔ پھر تیسرے نمبر پر وہ موبائل ایپلیکیشنز ہیں جو ہم خود اپنے موبائلز میں ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کرتے ہیں۔

جب آپ گوگل پلے سٹور پر کوئی بھی ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے جاتے ہیں تو آپ کے موبائل کی بہت سی چیزوں تک اس ایپ کی طرف سے رسائی مانگی جاتی ہے رسائی نہ دینے کی صورت میں آپ وہ ایپ استعمال نہیں کر سکتے، بصورت دیگر آپ کے پاس رسائی دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک بنک یا کسی گیم کی موبائل ایپلیکیشن کو انسٹال کرنے کے لیے جائیں تو ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے سے قبل آپ کے موبائل کے کیمرے، وائی فائی کنکشن، جی پی ایس، لوکیشن، رابطہ نمبرز، مائیک، سپیکرز اور گیلری تک کی ر سائی کے لیے اجازت مانگی جاتی ہے۔

اب یہاں یہ بات جواب طلب ہے کہ ایک بینکنگ ایپ یا گیم ایپ کو آپ کے رابطہ نمبرز، گیلری، سپیکرز، کال لاگز اور مائیک تک رسائی کس لیے چاہیے؟ آپ کے وائی فائی کی معلومات کس لیے درکار ہیں؟ یا بینکنگ اور گیم ایپ کا آپ کے کال لاگز، رابطہ نمبرز اور مائیک و سپیکرز کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس طرح کے اور بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات کسی کے پاس نہیں ہیں لیکن ان سوالات کا جواب محض یہ ہے کہ کسی بھی اینڈرائڈ موبائل صارف کی کوئی پرائیویسی نہیں ہے۔

موبائل نیٹ ورک کمپنیز، موبائل بنانے والی کمپنیز اور مختلف ایپلیکیشنز صارفین کا جو ڈیٹا جمع کرتی ہیں ان تک رسائی ان ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کو براہ راست جبکہ دیگر ممالک کی کمپنیوں کو معاہدات کے بعد دی جاتی ہیں، اسی طرح سے صارفین کا یہ ڈیٹا مارکیٹنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے لوگوں کے رجحان کا پتہ لگایا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ صارفین کے ڈیٹا کا کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہ نامعلوم ہیں جو کہ یقیناً اچھے مقاصد کے لیے نہیں ہو سکتا۔ ( پرائیویسی کا دعویٰ تقریباً ہر ایپ کرتی لیکن یہ صرف دعووں کی حد تک ہوتاہے )

اسی تناظر میں ایک سازشی تھیوری بھی گردش میں ہے کہ تمام موبائل صارفین کا یہ ڈیٹا یہودی خفیہ ایجنسیوں کے پاس جمع ہو رہا ہے جو کہ قرب قیامت تمام انسانوں کا ڈیٹا اپنے مسیحا یعنی دجال کو فراہم کر دیں گے جس کی بنا پر وہ لوگوں کو وہ باتیں بتا کر گمراہ کرے گا جو صرف وہ جانتے ہوں گے اور اس کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں ہو ں گی۔ اسی پس منظر میں کچھ لو گ موجودہ موبائل کی بناوٹ کو دجال کی ایک آنکھ سے بھی تشبیہ دیتے ہیں کہ کیمرے کی اس ایک آنکھ سے ہمہ وقت صارف کی حرکات و سکنات کو دیکھا اور مائیک کے ذریعے سنا جا رہا ہے۔ اس طرح ہر آدمی کی پسند، نا پسند، اس کے موبائل کے ذریعے سے سرکردہ گناہ اور نیکیاں سب کچھ ان کے ریکارڈ میں ہوں گی گویا کہ موبائل ایک فرشتے کی طرح صارف کے تمام تر اعمال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

موجودہ دور کی موبائل ٹیکنالوجی مستقبل میں یہ شکل اختیار کر لے گی کہ انسان کو اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے سے کنٹرول کیا جاسکے گا۔ جس طرح کہ آج کل یورپ میں ایک مائیکرو چپ کا استعمال معمول بنتا جا رہا ہے جو کہ انسانی جسم میں داخل کی جاتی ہے جس کو نینو چپ کہا جاتا ہے۔ اس چپ میں (جس انسان کے جسم میں داخل کی جائے گی) اس کا بائیو ڈیٹا ہو تا ہے، جو کہ ابتدائی طور پر بنیادی پہچان کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ لیکن مستقبل میں اس کو انسانی ذہن، جذبات اور افزائش نسل کو قابو کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور ممکنہ طور پر مستقبل میں اس طرح کے حالات پیدا کر دیے جائیں گے کہ ہر کسی کے لیے اس طرح کی مائیکرو چپ اپنے جسم میں داخل کروانا لازمی قرار دیا جائے گا۔ جس طرح کے آج کل کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ کوئی ایسی ویکسین یا مائیکرو چپ تیار کی جائے جو کہ پولیو کی طرح تمام انسانوں پر لازمی قرار دی جائے اور پھر اسی کے ذریعے سے انسانوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply