صحافی عزیز میمن کے اندھے قتل کے ملزم کیسے پکڑے گئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیس بالآخر، سندھ کے شہر محراب پور کے صحافی عزیز میمن کے قاتلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔ یہ مکمل طور پر ایک اندھے قتل کا کیس تھا جس کے بارے میں پہلے پہل اس کیس کے انچارج ایڈیشنل آئی جی ولی اللہ دل، اور ضلع نوشہرو فیروز کے ایس ایس پی قومی اسمبلی کے فورم پر آن ریکارڈ، اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے یہ بیان دے کر آئے تھے کہ عزیز میمن کا قتل نہیں ہوا، ان کی موت فطری ہے اور خود کشی کا معاملہ ہے۔

عزیز میمن میرے بہت پرانے دوست تھے۔ فقیر طبعیت، درویش صفت انسان۔ شریف اور پڑھے لکھے خاندان کے فرد، ہنس مکھ، بات بات پر مذاق کرنے والے۔ چالیس سالہ صحافت میں کبھی ان کی ذات پر بے ایمانی کا ایک چھینٹا تک نہ پڑا۔ ایسے فقیر آدمی کا قتل چھپ جاتا، خدا کو یہ منظور نہ تھا۔ اسی لیے تو پولیس کی طرف سے خود کشی قرار دیا گیا خون بھی سامنے آ گیا اور قانون کا ہاتھ قاتلوں کے گریبان تک جا پہنچا۔

عزیز میمن کا قتل کیس دو وجہ سے ہائی پروفائل کیس ہے۔ ایک وہ سینیئر صحافی تھے اور جس دن 3 اگست 1990 ء سے سندھ کے سب سے بڑے اخبار ”کاوش“ جاری ہونا شروع ہوا، اسی دن سے اس سے منسلک تھے۔ بعد میں اسی ادارے کا ٹی وی چینل ”کے ٹی این“ شروع ہو تو وہ محراب پور کے کے ٹی این انچارج بھی بنا دیے گئے۔ عزیز میمن چالیس سال پہلے صحافت اور پھر کاوش گروپ کے ساتھ ایسے جڑے کہ جب ان کی لاش ایک نہر میں پائی گئی، ان کی گردن کے گرد ٹی وی چینل کا لوگو تار کے ساتھ لپٹا ہوا تھا۔

عزیز میمن قتل کیس ہائی پروفائل کیس بننے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اپنے قتل سے کچھ ماہ قبل انھوں نے ”کے ٹی این“ پر ایک رپورٹ چلائی تھی، جس میں دکھایا گیا تھا کہ سیکڑوں خواتین فریاد کر رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی کے مقامی ایم پی اے کی طرف سے انہیں پیپلز پارٹی کے جلسے میں اسلام آباد یہ کہہ کر لے جایا گیا، کہ فی کس دو دو ہزار روپے دیں گے، مگر اب یہ صرف دو سو روپے دے رہے ہیں۔

اس رپورٹ پر عزیز میمن کو جان کی دھمکیاں ملنی شروع ہوئیں۔ مقامی پولیس سے تحفظ ملنے سے نا امید ہو کر عزیز میمن اسلام آباد آ گئے تھے اور وہاں انھوں نے، وفاقی وزیروں، فواد چودھری، شیخ رشید، فردوس عاشق اعوان، ایم این ای امین الحق اور دیگر حکومتی شخصیتوں اور ملک کے مایہ ناز صحافیوں کو مل کر انہیں بتایا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، جس کے کچھ ماہ بعد 16 فروری کو عزیزی میمن کی لاش محراب پور کے قریب نہر سے ملی۔

پولیس نے 19 فروری کو عزیز میمن کے کیمرا مین سمیت 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا مگر اس وقت کیس کی فائل بند ہوتی دکھائی دی، جب اے آئی جی ولی اللہ دل اور ایس ایس پی نوشہرو فیروز قومی اسمبلی کے فورم پر آن ریکارڈ، اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے یہ بیان دے کر آئے کہ، عزیز میمن کا قتل نہیں ہوا، ان کی موت فطری ہے اور خود کشی کا معاملہ ہے۔

پولیس کے اس بیان پر سندھ کے صحافیوں اور سول سوسائٹی کے شدید احتجاج پر ولی اللہ دل صاحب کو جے آئی ٹی کی سربراہی سے ہٹا کر اے آئی جی کراچی غلام نبی میمن کو سربراہی دی گئی۔ انہوں نے چارج لیتے ہی مقتول کی قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کروایا تو عزیز میمن کی انگلیوں کے ناخنوں میں کوئی بیرونی چیز پائی گئی، جس کا ڈی این اے کروایا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اس کا عزیز میمن کے جسم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ کسی اور کے اجزا تھے۔

پولیس نے اس ڈی این اے رپورٹ کی بنا پر مقتول کے رشتہ داروں، دوستوں، علاقے کے جرائم پیشہ افراد اور دیگر تقریباً دو سو افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے تو وہ ایک کرمنل کے ساتھ میچ کر گئے اور اس طرح عزیز میمن کا قتل، جس کو پولیس کی پہلی ٹیم نے خود کشی قرار دیا تھا، اسی پولیس کی دوسری ٹیم نے حل کر لیا اور نواب شاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ پولیس غلام نبی میمن نے انکشاف کیا کہ تفتیش کے دوران میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صحافی عزیز میمن کو قتل کیا گیا، ان کی موت طبعی نہیں تھی، عزیز میمن کے قتل کا ماسٹر مائنڈ مشتاق سہتو ہے، 4 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جب کہ مزید 4 ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ ملزم نذیر سہتو نے بھی عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

عزیز میمن قتل کیس پر وفاقی وزیر فواد چودھری نے، جو شروع سے اس کیس میں دل چسپی رکھتے ہیں، نے یہ ٹویٹ کیا:

صحافی عزیز میمن کے قتل میں یہ پیش رفت تو ہوئی کہ اب سندھ پولیس مان رہی ہے کہ عزیز میمن کا قتل ہوا اور کرائے کا قاتل بھی گرفتار ہے، میں نے قومی اسمبلی میں بھی کہا تھا اس معاملے کی تفتیش سندھ سے ٹرانسفر کرنا ضروری ہے، کیونکہ ملزمان خود حکومت میں ہیں۔ انصاف ہوتے نظر آنا چاہیے۔ دوسری جانب، مقتول صحافی کے بھائی عبدالحفیظ میمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزیز میمن کے قتل پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ کیس میں 200 افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی گئی، اب تک کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔ عزیز میمن کے قتل کیس میں اب بھی بہت سے سوالات حل ہونا باقی ہیں۔

1: گرفتار ہونے والے سب کرائے کے قاتل ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے عزیز میمن کو کسی اور نے قتل کروایا ہے۔ سپاری کسی اور نے دی ہے۔

2: عزیز میمن کو قتل کرنے میں دس کے قریب لوگ ملوث ہیں، اور مقتول کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہی آیا تھا کی اس کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ ( نہر میں ڈوبنے سے دم گھٹنا اور پانی کے باہر دم گھٹنے میں میڈیکلی فرق ہوتا ہے اور اب قاتلوں کے اس بیان سے کہ مقتول کو کپڑے سے دم گھوٹ کر مارا گیا، ڈاکٹروں کی اس رپورٹ کی تصدیق ہوتی ہے، پھر پولیس نے کیسے ایسی باتیں نظر انداز کیں اور اس واقعے کو خود کشی قرار دیا؟

3: تفتیش ہونی چاہیے کہ ضلع نوشہرو فیروز کے ایس ایس پی اور اس کیس کے انچارج اے آئی جی حیدر آباد ولی اللہ دل، قومی اسمبلی کے فورم پر آن ریکارڈ، اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے یہ بیان کہ، عزیز میمن کا قتل نہیں ہوا، ان کی موت فطری ہے اور خود کشی کا معاملہ ہے، کس بنا پر دے کر آئے؟

4: پولیس کی ٹیم نمبر دو، جس کے سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ پولیس غلام نبی میمن، ایس ایس پی تنویر تنیو، فارنزک لیب کے افسر، پروفیسر ڈاکٹر اکرام اجن، پروفیسر محمد اکبر قاضی، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر بنسی دھر، سب قابل تعریف ہیں۔ ان افسروں نے ایک مکمل طور پر اندھا کیس حل کیا ہے۔ انھوں نے نا صرف سندھ پولیس کی ساکھ بچائی ہے بلکہ ایک خون کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ اسی کیس سے سندھ پولیس کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کی قتل کی یا دوسرے جرائم کی تفتیش اب پرانے طریقے سے زیادہ آسان فون رکارڈ اور فارنزک لیب کی مدد سے ممکن ہے۔
5: اب بھی صرف کرائے کے قاتل گرفتار ہوئے ہیں۔ اس کیس کے اصل قاتل سامنے آنے چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply