رینی ڈیکارٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیکارٹ 1596 میں فرانس میں پیدا ہوا۔ وہ جدید فلسفہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے پیش رو فلسفیوں کے کاموں کو قبول کرنے سے انکار کیا اور فلسفے کی از سر نو تشکیل کا بیڑا اٹھایا۔ اس نے اپنے فلسفیانہ انداز بیان کو آسان رکھنے کی کوشش کی۔ اس نے ہمیشہ اپنا اور کلیسا کا تعلق بنائے رکھا۔ مگر اس کے باوجود اس کو بدعتی اور ملحد کہا گیا۔ اس پر حملے بھی ہوئے۔ وہ کلیسا کے کرتا دھرتاؤں سے ملتا رہا اور کلیسا کو جدید سائنس کے متعلق نرم رویہ رکھنے کی درخواست کرتا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ آئندہ کسی کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو جیسا گلیلیو کے ساتھ ہوا۔

اس کی اس سوچ کی وجہ سے اس کے مخالفین نے یہ الزام لگایا کہ اس کا کلیسا کے ساتھ تعلق صرف دکھاوا ہے۔ اصل میں وہ سائنس جیسی خرافات کے لیے نئی راہیں اور محفوظ مسکن تلاش کر رہا ہے۔ کئی علاقوں اور یونیورسٹیوں میں اس کی تعلیمات پر پابندی لگا دی گئی۔ ایک عرصے تک اس کا فلسفہ پورے فرانس اور جرمنی میں ممنوع قرار رہا۔ جہاں ایک طرف اس پر لعن طعن ہو رہی تھی، وہیں دوسری طرف اس کے چرچے بھی زبان زد عام تھے۔ سویڈن کی ملکہ نے اس سے درخواست کی کہ وہ اسے فلسفے کی تعلیم دے۔

ملکہ سے یہ تعلق ڈیکارٹ کی جان لے گیا۔ وہ انتہائی نازک طبیعت انسان تھا اور سردی سے اس کی جان جاتی تھی۔ ملکہ کا حکم تھا کہ اس کو صبح 5 بجے پڑھایا جائے۔ اس کے لیے ڈیکارٹ کو صبح چار بجے اٹھ کر سخت سردی میں نکلنا پڑتا مگر وہ ملکہ کو انکار نہ کر پایا۔ اس سلسلے نے اس کو ایسا نمونیا دیا کہ جس سے وہ جان بر نہ ہو سکا اور 1650 ء میں فلسفے پر اپنے گہرے نقوش چھوڑ کر چل بسا۔

ڈیکارٹ نے سائنس، ریاضی، فلسفہ اور جیومیٹری میں بہت کام کیا۔ اس نے ”خطوط مرتبہ جیومیٹری“ ایجاد کر کے جیومیٹری میں ایک بڑا اضافہ کیا۔ اس نے خود کو اس بات پر قائل کیا کہ ایک مضبوط فلسفے کی بنیاد رکھنے کے لیے اسے ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ہو گا۔ اس کے مطابق سب سے کم قابل شک اصول و قواعد ریاضی اور جیومیٹری کے ہیں، جیسا کہ دو جمع دو چار یا ایک مربع کے پہلوؤں کی گنتی۔ وہ فلسفے کو بھی ایسے ہی اصول و قواعد کی بنیادوں پر کھڑا دیکھنا چاہتا تھا۔

اس کے مطابق، ہم ریاضی میں مسلمہ اصولوں سے آغاز کر کے اگلے مرحلے کے قوانین یا مسئلوں پر پہنچتے ہیں، جو مکمل طور پر پچھلے مرحلے کے مسلمہ اصولوں سے اخذ شدہ قرار دیے جاتے ہیں۔ ہم اسی طرز پر مرحلہ وار آگے بڑھتے جاتے ہیں اور مزید پے چیدہ مسئلوں تک پہنچتے ہیں جن کو بھی مسلمہ ہی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ہر مرحلے میں ہمارا انحصار صرف مسلمہ اصولوں پر ہی رہا۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ ڈیکارٹ نے ’شک‘ کو بنیاد بنا کر اپنے فلسفے کا آغاز کیا۔ اسی خیال کی گتھیاں سلجھاتے اس نے ایک شہرہ آفاق مقولہ دیا ”میں سوچتا ہو ں اس لیے میں ہوں“ ۔ اس مقولے تک پہنچنے کے لیے وہ کہتا ہے کہ جب میں ہر شے پر شک کر رہا ہوں تو کم از کم میں اس بات پر تو شک نہیں کر سکتا کہ میں شک کر رہا ہوں۔ شک کی وجہ سے جب دنیا کی ہر شے غیر یقینی لگ رہی ہو تو ایک ’شک‘ ہی بچتا ہے جس پر یقین کیا جا سکے۔

شک کرنا سوچ کا مظہر ہے۔ لہذا میں سوچ رہا ہوں، اور سوچ میں تبھی رہا ہوں جب میں واقعی ہوں۔ یہ سوچ ہی میرے وجود کی دلیل ہے۔ اگر سوچ نہ رہے تو وجود کی دلیل بھی نہ رہے گی۔ لہذا میری کل فطرت یا روح کا انحصار سوچ پر ہے اور اس روح کو کسی جگہ یا مادی شے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے روح جسم سے الگ ہے اور یہ اس وقت بھی رہے گی جب جسم نہ بھی رہے۔

وہ اسی منطقی استدلال کو استعمال کرتے ہوئے خدا کا وجود ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ اس کی یہ کوشش ناقص ہونے کے ساتھ ساتھ نئی بھی نہیں تھی اور شاید اس نے یہ کلیسائیوں کو خوش کرنے کے لیے کی۔ ڈیکارٹ تصورات کی تین اقسام بتاتے ہو ئے کہتا ہے، ہمارے کچھ خیالات وہبی ہوتے ہیں، کچھ خارجی ہوتے ہیں جو باہر سے آتے ہیں اور کچھ ہم ایجاد کرتے ہیں۔ یہ سب خیالات یا تصورات ہماری محدود سوچ اور احساسات سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے۔ لہذا میری تخیلاتی پرواز کا انحصار میرے پروں پر ہے اور میرے یہ پر محدود علم و استدلال پر مبنی ہیں۔

میری ایک حد ہے، اس لیے میری محدود سوچ خود سے کسی لامحدود کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ میں محدود بھی ہوں، خام بھی اور نامکمل بھی۔ اس لیے میں خود سے کسی لامحدود کا خیال تخلیق نہیں کر سکتا۔ مجھ جیسے نامکمل اور محدود پیکر کے اندر کسی کامل اور لامحدود کا خیال کوئی لامحدود ذات ہی پیدا کر سکتی ہے۔ لہذا ایسی کوئی ذات موجود ہے۔ میرے وہبی احساسات اور تصورات، میرے خارجی خیالات سے متصل ہو کر ایسے ثبوتوں کی نشان دہی کرتے ہیں جو ایسی ذات کے موجود ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔

ڈیکارٹ کے مطابق حقیقی علم صرف حسیات سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر یہ استدلال سے حاصل کیا جا سکتا ہے تو اس استدلال کی طاقت اور صلاحیت ذہن میں پہلے سے موجود ہے یعنی قبل تجربی ہے۔ دماغ کے لیے معیارات اور قاعدے ہیں جو سچائی کی تلاش میں اس کی راہنمائی کرتے ہیں۔ فطری یا پیدائشی علم سے ڈیکارٹ کی مراد وہ خیالات اور سچائیاں ہیں جو دماغ کو متاثر کرتی ہیں، وہ قوانین جو روح از خود پا لیتی ہے یا تلاش کر لیتی ہے۔ کبھی استدلالی احساسات سے اور کبھی تجربات سے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خارجی دنیا کے تجربات انسان کے پیدائشی اور فطری استدلال میں بہتری لاتے ہیں، مگر یہ کیسے پہلے سے موجود ہیں؟ اس کے بارے میں ڈیکارٹ خاموش ہے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ ڈیکارٹ کے مطابق روح کو کسی جگہ اور مادی شے کی ضرورت نہیں اور یہ اس وقت بھی رہے گی جب جسم نہ بھی رہے۔ اس نے مزید کہا کہ روح کی مختلف اقسام اور قابلیت کے درجات میں تقسیم نہیں ہو سکتی بلکہ روح کی دو حالتیں یا کیفیات ہیں۔ ایک فعال اور دوسری غیر فعال۔ روح کی فعال حالت ہمارے اعمال (ایکشن) سے تعلق رکھتی ہے اور غیر فعال حالت ہمارے جذبات سے۔ ایکشن کا تعلق انسان کی خواہشات اور ارادے سے ہے۔ انسان اپنے ارادے میں آزاد ہے۔ جیسا کہ محبت یا نفرت کرنا، خدا کو ماننا وغیرہ۔

جذبات کا تعلق احساسات سے ہے جو خارجی دنیا سے متاثر ہوتے ہیں۔ انسان ارادے میں تو آزاد ہے لیکن احساسات اور جذبات کے معاملے میں نہیں۔ جیسا کہ سردی، گرمی اور تکلیف وغیرہ۔ ڈیکارٹ چھے بنیادی جذبوں کا ذکر کرتا ہے۔ حیرت، محبت، نفرت، خواہش، مسرت اور غم۔ یہ جذبات روح کو تحریک دیتے ہیں اور روح ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔ مگر روح میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ان جذبات پر قابو پا سکے۔ روح کی اصل طاقت کا دار و مدار سچائی کے علم اور ادراک میں ہے۔

انسان کو نفس کی رغبت اور روح کے مثبت ارادے میں تمیز کرنے کا ادراک ہونا چاہیے۔ اسی سے انسان اپنی روح کی طاقت یا کمزوری کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ انسان کو اپنی روح کی فعال کیفیت پر گرفت ہونی چاہیے اور غیر فعال کیفیت پر بھی۔ جس طرح انسان اپنے ارادے میں آزاد ہے، اسی طرح اس کی روح کو بھی جذبات کے معاملے میں اتنا آزاد اور مضبوط ہونا چاہیے کہ وہ وقت آنے پر خود پر قابو پا سکے، نہ کہ جذبات کے دھارے میں بہہ جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *