کردار کے غازی


دنیا میں کسی فرد کی شخصیت کو بنانے میں مندرجہ ذیل عوامل کارفرما ہوتے ہیں :

بچے کی شخصیت سازی میں ماں باپ اور اس خاندان کا حصہ ہوتا ہے جہاں ایک بچہ پروان چڑھتا ہے۔ گھر کے افراد بالخصوص ماں اور باپ کو بچے کی تربیت پر خصوصی تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کی آغوش کو پہلی درس گاہ کہا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ ﷺ ہے :

”باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت ہے“ ۔

لیکن بد قسمتی سے آج کل کے دور میں والدین کے پاس بچوں کے لئے وقت کی کمی کے ساتھ ساتھ دین سے دوری اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی کا نہ ہونا بھی تربیت کی کمی کا باعث بن جاتی ہے (یہ الگ بات ہے کہ اکثریت کو معاش کی پریشانیاں بھی درپیش ہیں، جس کے باعث وہ چاہنے کے باوجود تربیت پر وہ توجہ نہیں دے سکتے ) ۔

درسگاہ بھیج کر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ تربیت بھی حاصل کر لیں گے، جب کہ ایسا نہیں ہے اس کی بہترین مثال ایک صاحب نے یہ دی:

اگر ہم کسی بیکن ہاؤس جیسے اسکول میں کوئی معمولی سا موبائل فون کسی جگہ رکھ دیں تو زیادہ امکان ہے کہ وہ چوری ہو جائے گا، حالانکہ اس اسکول میں زیر تعلیم زیادہ تر بچے منہ میں سونے کا نوالہ لے کے پیدا ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یقیناً تربیت کی کمی ہی ہو سکتی ہے جو کہ ایک درسگاہ میں پوری طرح ممکن نہیں ہے۔

بطور والدین ہمیں اس فرق کو ملحوظ رکھ کر سوچنا پڑے گا کہ کیا تعلیمی ادارے ہمارے بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری بھی پورے طور پر ادا کر رہے ہیں یا اس میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اگر چہ کچھ اساتذہ انفرادی طور پر اپنے طالب علموں کی اخلاقی تربیت کے لئے بھی کوشش کرتے ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ ذمہ داری والدین کی ہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کرنے کا بھی خاطر خواہ انتظام کریں۔ دوران تعلیم بچہ عمر کے اس حصہ میں ہوتا ہے، جہاں اس کی تعلیم و تربیت اس کی شخصیت پر بہت زیادہ اثر ڈالتی ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن میں تاکید کی:

ترجمہ: ”اے ایمان والوں اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ“ ۔ (التحریم: 6 ) ۔

بحیثیت مسلمان اگر ہم یہ یقین کر لیں کہ آخرت میں ہم سے اولاد کی تربیت کے حوالے سے بھی سوال ہو گا تو یقیناً ہم اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کرنے کی شعوری کوشش کریں گے۔

٭ اس کے بعد وہ درسگاہ جہاں پر کسی بچے کو دینی اور دنیاوی علوم سکھائے جاتے ہیں تا کہ وہ ایک اچھا انسان اور کارآمد شہری بنے۔

جہاں تک نظام تعلیم کا تعلق ہے، اس کو قائم کرنے اور اس کے لئے حکمت عملی بنانے میں، دنیا جہاں کی حکومتیں ہی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ دور حاضر کی ضروریات اور مستقبل میں درپیش معاملات کو مد نظر رکھ کر تعلیمی نظام کو تشکیل دیا جائے، تا کہ ایک شخص زندگی میں خاص پیشے / شعبہ زندگی میں اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لا سکے، اس کے لئے لازمی طور پر وہ اہل افراد ہی آگے بڑھ سکتے ہیں، جنھوں نے سخت محنت کے ساتھ ساتھ ماہر اساتذہ کی رہنمائی حاصل کی ہوتی ہے۔

تعلیمی اداروں میں نہ صرف جدید بلکہ قدیم علوم سے بھی آگاہی دینی چاہے اور ان چیزوں کو پڑھانے سے گریز کرنا چاہیے، جو کہ نا صرف ہمارے معاشرے بلکہ ہمارے دین کے ساتھ بھی مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ اسی طرح دوران تعلیم، طالب علم کے رجحان کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ تا کہ حصول تعلیم میں ایک طالب علم کا شوق بھی شامل ہو، اور وہ معاشرے اور اپنے ملک کے لئے ایک فعال اور فائدہ مند شہری ثابت ہو سکے۔

٭ کردار سازی میں معاشرے کا حصہ:

باکردار اور بہتر تعلیم و تربیت سے آراستہ نوجوان ہی قوم و ملت کی ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن عمر کے اس خاص حصہ میں جہاں ایک نوجوان معاشرے میں دوست بھی بناتا ہے، وہاں اس کے دشمن بھی بن جاتے ہیں، جن سے وہ بہت کچھ سیکھتا ہے جو اس کے کردار کو سنوار بھی سکتے ہیں اور بگاڑ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ نوجوانی میں خود سری، جوانی کا جوش، اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا زعم اور طاقت کے احساس ہونے کے باوجود اپنے مثبت کردار اور اعتدال کے ساتھ قائم رہنے والے ہی مستقبل میں کامیاب ہوتے ہیں۔

چونکہ اس عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کی شخصیت کی کردار سازی میں قریبا ایک تہائی کام ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، والدین کی بچوں پر خاص نظر ہونی چاہیے اور ان کو یہ احساس دلائیں کہ وہ عمر کے اس دور سے گزر رہے ہیں، جس میں انسان جو بوئے گا کل کو وہی کاٹے گا۔ اس طرح انہیں اچھے اور برے میں تمیز کرنا بھی سکھانا ہو گا، تا کہ کل کو وہ بہترین فیصلے کرنے کے قابل ہوں، اور وہ معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں، اور اپنے سے پیچھے آنے والوں کے لئے مشعل راہ بھی بن سکتے ہیں۔ ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے والدین بچوں کو اپنے حقوق کے علاوہ پڑوسیوں، چھوٹے بڑے کے حقوق، اساتذہ کے حقوق اور رشتے داروں کے حقوق کے بارے میں دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق آگاہی دیں۔

٭۔ ”فطرت سلیمہ“ کی رہنمائی:

حدیث مبارکہ ﷺہے : ”ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں“ ۔

جس طرح زندگی میں ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان بھی ہوتا ہے جو اس کو برائی اور گناہ کی ترغیب دیتا ہے اسی طرح اللہ نے ہر شخص کو شیطان کے ہتھکنڈوں سے مطلع/خبردار کرنے کے لئے فطرت سلیمہ بھی عطا کی ہے، اگر ہم کمپیوٹر کی زبان میں بات کریں تو ہر شخص میں پیدائشی طور پر فطرت سلیمہ کی صورت میں قدرت نے ایک آپریٹنگ سسٹم انسٹال کر رکھا ہے، جس سے ہر انسان نہ صرف خیر و شر میں تمیز کر سکتا ہے بلکہ اس آپریٹنگ سسٹم کی وجہ سے اسے نیکی اور خیر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے، اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینے کا جذبہ بھی ملتا ہے۔ اسی طرح اچھے کاموں سے خوشی اور برے کاموں سے افسوس اور دکھ کا احساس بھی قدرتی امر ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے نظر انداز کر کے شیطان کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑے جو اسے یقیناً گم راہی اور تباہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ فطرت کی اس پیدائشی صلاحیت کو ابھارنے اور مضبوط کرنے کے لئے والدین کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔

اگر ہم ان سب باتوں کا نتیجہ نکالیں تو ، والدین کی طرف سے دی گئی تعلیم و تربیت بچے کو اس کے لاشعور سے لے کر شعور تک کے سفر میں بنیادی چیز ہوتی ہے، تو بنیاد جتنی مضبوط ہو گی، عمارت بھی اتنی ہی دلکش اور مضبوط ہو گی۔ بحیثیت والدین ہمیں بچوں کو کردار کا غازی بنانا ہو گا۔ علامہ اقبال کے ایک شعر پر بات ختم کرتا ہوں :

اقبال بڑا اپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

Facebook Comments HS