کرونا دور میں ایک شادی کا آنکھوں دیکھا حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بر دکھوے کا کینڈیڈیٹ یعنی وڈ بی (Would be) دولہا، امریکا سے پاکستان آ کر پھنس گیا کیونکہ کرونا کی وجہ سے فلائٹس اور سرحدیں غیر معینہ مدت کے لیے بند ہو گئی تھیں۔ دولہا کے سارے سگے رشتے دار، کاروبار، گھربار سب امریکہ میں تھے۔ کب تک؟ آخر کب تک ماما، چاچا، دوست، احباب پر بوجھ بنتا۔ آیا تو شادی کے ارادے سے ہی تھا لہٰذا پہلی ہی لڑکی پر اس نے ہاں کر دی۔ لڑکی والے خوشی سے نہال کیا بلکہ نڈھال تھے۔ ان کی وہ بیٹی جس کو اپنے وطن میں رشتہ دستیاب نہیں تھا، اس کے بھاگوں کا چھینکا امریکہ میں جا کر پھوٹا، تو انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاو فوراً ہاں کر دی۔ حالانکہ لڑکا تو کرونا نیگیٹو تھا مگر دلہن کرونا پازیٹو۔ آپ تو جانتے ہی ہے ناں کہ نیگیٹو اور پازیٹو پولز ایک دوسرے کو کتنا اٹریکٹ کرتے ہیں۔

دراصل یہ شادی میرج آف کنوینیس تھی۔ دولہا کو فی الحال پاکستان میں ایک مستقل، اخلاقی اور مفت ٹھکانا چاہیے تھا۔ چاہے وہ گھر داماد جیسی گھٹیا پوسٹ ہی کیوں نہ ہو اور دوسری طرف دلہن والوں کو امریکن سٹیزن شپ درکار تھی، کیونکہ انگلی پکڑتے پکڑتے پہنچا پکڑنے کا فن انہیں خوب آتا تھا۔

لڑکے سے یہ خبر چھپائی گئی کہ اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے دشمنوں اور دل جلوں کے منہ پر مٹھی بھر خاک کہیں کرونا کے کوڑیالے سانپ کو دیکھ کر یہ امریکی گھوڑا، بدک کر بغیر لگام کے بھاگ نہ جائے۔ پھر تو امریکہ کی سونے کی گلیاں اور ہن برساتا بادل، خواب ہو جائیں گے۔

شادی والے دن پہلے گیٹ پر مہمانوں پر سینی ٹائزر کا اسپرے کیا گیا، جس پر خواتین نے خوب ناک بھوں چڑھائی، پھر سب کو چھے چھے فٹ کی سماجی دوری پر بٹھا کر غیبت کے لڈو کھانے سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اس پر انہیں اور کوفت ہوئی۔ بس دور سے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشاروں سے کام چلاتی رہیں، تا کہ منہ سے بھاپ بھی نہ نکلے ورنہ آپ تو جانتے ہی ہیں ناں کہ زبان سے نکلی اور کوٹھوں چڑھی۔ کم بخت یہ وائرس تو اندر جانے کا ہر راستہ جانتا ہے۔ کیا ناک، کیا کان، کیا منہ بلکہ اس نے تو آنکھوں کا راستہ بھی نہ چھوڑا، جہاں سے کبھی عشق کے جراثیم آیا اور جایا کرتے تھے۔

ویسے ایک بات تو ماننی پڑے گی بلکہ داد دینی پڑے گی کہ بیوٹی پارلر والوں نے تو بس کمال ہی کر دیا، دلہن کے لیے ایسا حسین ماسک تیار کیا، جس پر اس کے اپنے ہونٹوں سے بھی زیادہ پاؤٹنگ ہونٹ بنے ہوئے تھے۔

مگر ساتھ ہی کرونا نے بہت سارے ارمانوں کا گلہ بھی گھونٹ دیا۔ بے چاریاں سالیاں آدھی گھر والیاں، سماجی دوری کی وجہ سے اپنے دولہا بھائی کی کانی انگلی پکڑ کر نیگ بھی نہیں مانگ سکیں۔ بہرحال ایک لمبی بحث کے بعد آن لائن، اپنی ماما کی اجازت سے ان کے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے نیگ کے ڈالرز، بڑی سالی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے گئے۔ سالیاں بے چاریاں، جوتا چھپائی کی رسم بھی نہ ادا کر سکیں، کیونکہ جوتے پر چھڑکنے کے لیے سینی ٹائزر نہیں ملا۔ وجہ؟ ظاہر ہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دکانیں بند تھیں۔

دولہا کی طرف سے اس کے رشتے کی چچی نے دور سے ہی دلہن کی بلائیں لیں، حالانکہ اس وقت وہ خود ایک بلا لگ رہی تھیں۔ خیر، انہوں نے ایک چھے فٹ کی خوب سجی ہوئی رنگین ڈانڈیا کی نازک سی چھڑی سے منہ دکھائی کا لفافہ، دلہن کی گود میں ٹپکا دیا۔ سلامی میں دولہا، دلہن کو تیرہ عدد سینی ٹائزر کی شیشیاں، سات فینائل کے ڈبے اور چھے ڈبے ماسک کے ملے۔

شب عروس کو جب دولہا، دلہن کے پاس گیا تو کپکپاتے، لرزتے ہاتھوں سے اندر قدم رکھنے سے پہلے صافے سے لے کر شیروانی اور شیروانی سے لے کر اپنے سلیم شاہی جوتوں پر اسپرے کیا۔ جیب سے منہ دکھائی کی انگوٹھی کی ڈبیا نکالی، تو خوبصورت ماسک کے پیچھے سے دلہن کی سرگوشی نما سرسراتی آواز آئی:

سرتاج! کیا انگوٹھی سینی ٹائزڈ ہے؟

بوکھلا کر دولہا نے پہلے ڈبیا پھر انگوٹھی دلہن کی طرف اچھال دی اور دوسرے دروازے سے نکل کر لاؤنج کی طرف بھاگ گیا۔ و جہ؟ حجلہ عروسی میں داخل ہونے سے چند سیکنڈ پہلے اس کے پاس ایس ایم ایس آیا تھا، جو شاید دلہن کی کسی دل جلی سہیلی یا کسی جلن ککڑی پڑوسن کا تھا کہ دلہن، کرونا پازیٹو ہے۔ خیر! قصہ مختصر کپکپاتے دولہا نے رات لاؤنج میں صوفے پر ہی گزاری، بیچارے کے پاس کوئی اور آپشن جو نہیں تھا اور اندر ماسک لگی، پیاری دلہن سینی ٹائزر کی خالی شیشی ہاتھ میں پکڑے بیٹھی رہ گئی۔ دولہا، پازیٹوٹی کی طرف آیا کہ نہیں اور دلہن نے نیگیٹو زون میں قدم رکھا یا نہیں، اس کے لیے ایسی پڑوسن کی تلاش ہے جس کے کان ہر وقت دیوار سے چپکے رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *