زمین ساکن ہے یا ہمارے دماغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ایک دوست ہیں کسی زمانے میں بہت مطالعہ کرتے تھے بہت مدت بعد ملاقات ہوئی تو حال احوال کے بعد کچھ جذباتی بحث ہو گئی۔ میں نے کہا کہ مذہبی کتب کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ تقابلی مطالعہ لازمی کرنا چاہیے ورنہ آپ عہد حاضر میں باقی دنیا کے ساتھ نہیں چل سکتے ہیں فرمانے لگے میرے لیے علم کتاب واحد سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتا ہے نہ اس سے کچھ پہلے ہے نہ بعد میں۔ اس کے بعد ان سے کسی موضوع پر بحث کی نوبت نہیں آئی۔

بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ آج تقریباً ہر شخص ہی حقیقت سے واقف ہے اسے جدید سائنس کی دریافتوں کا علم اور کائنات کے حوالے سے مروجہ قدیم خیالات اور فرسودہ قصہ گوئی سے اخذ غیر منطقی نظریات کا بھی علم ہے۔ آج سے بیس برس ادھر اصلیت پسند کہیں بھی ہزاروں سالہ پرانی کہانیاں کائنات اور اس کے اسراروں کے متعلق سنا کر داد سمیٹ لیتا تھا مگر اب ایسا ممکن نہیں ہے اور گزشتہ پانچ چھ دہائیوں سے محنت کر کے تاریخی قصہ گوئی میں مقام حاصل کرنے والے بری طرح سے پٹ رہے، جہاں ان کے نظریات پر کھلی تنقید ہو رہی ہے وہیں ان فرسودہ خیالات کو بھی لپیٹا جا رہا ہے جس نے سماج میں خاص لوگوں کو اجارہ داری قائم کرنے میں مدد کی تھی۔

سائنس آپ کو منطق سکھاتی ہے کہ کوئی چیز کیسے وجود میں آئی یا تھیوریز کے ذریعے یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی کام کیسے ممکن ہوا جبکہ اس کے برعکس قصہ گوئی میں ہزاروں سالہ پرانے 6 مشاہدات اور عقیدوں کے چربے کے ذریعے کائنات کی تفہیم کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج ہم یہ جانتے کہ چاند ہر ماہ میں کتنے دن، گھنٹے اور سیکنڈ سورج کے گرد گھوم کر واپس اپنی پہلی پوزیشن پر پہنچتا ہے اور کیسے زمین اور سورج کے درمیان تعلق پر اثر انداز ہوتا ہے، لیکن اگر آپ یہ منطق اپنائیں گے کہ مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہیں آیا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ چاند نکلا ہی نہیں ہے۔

اسی طرح آج نرسری جماعت سے ہی بچے اسکولوں میں سائنس کا مضمون پڑھنا شروع کر دیتے ہیں جن میں یہ ساری باتیں تفصیل سے موجود ہیں، اور انٹرنیٹ تک رسائی نے مزید آسان کر دیا ہے کہ آپ اس ساری کہانی کو سمجھ سکیں۔ اگر پھر بھی آپ یہ دعویٰ کریں کہ آج سے دو ہزار سالہ پرانا خیال یہ تھا کہ زمین ساکت ہے یا سورج ساکت ہے زمین کے گرد حرکت کرتا ہے، مشرق سے نکل کر مغرب میں ریسٹ کرنے کی غرض سے غروب ہو جاتا ہے تو لوگ آپ پر ہنسیں گے ہی۔

آزادی کے بعد پاکستان میں جدید اور روایتی تعلیم کے مکسچر سے ایک ایسا نیا طبقہ وجود میں آیا جس کا خیال تھا کہ وہ روایتی تعلیم حاصل کر کے ایک متوازن تعلیمی اور سماجی نظام کی داغ بیل ڈالیں گے، اس طبقے نے مخصوص روش اپنائی اور باقی علوم سے قطع تعلقی کر لی اور اگر کوئی رشتہ رکھا بھی تو فقط اتنا کہ آج سے ہزاروں سال پہلے جو نظریات موجود تھے وہی حق ہیں۔ اس طبقے کا ماننا ہے کہ انسان کبھی چاند پر پہنچا ہی نہیں زمین کے مدار سے نکل جانا محض ایک گھڑا ہوا جھوٹ ہے حالانکہ زمین کے گرد خلا میں گھومتے ہوئے مصنوعی سیاروں کے ذریعے موصول ہونے والے سگنلز سے یہ روز مستفید ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ بل گیٹس کورونا کے ذریعے ان میں چپ ڈال رہا ہے، اور اس سازشی تھیوری کو بہت سے صاحب الرائے لوگ بھی حقیقت خیال کرتے ہیں ایسے میں یہ دعویٰ کہ زمین ساکن ہے کوئی اتنا مضحکہ خیز بھی نہیں ہے تاہم عقیدے اور سائنس کی یہ لڑائی زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکے گی اس کا انجام قریب ہے۔

اس حوالے سے ایک دلچسپ مووی کا ذکر ضروری ہو گیا ہے جس کی کہانی کا زمانہ کوئی تیسری صدی عیسوی ہے اور کہانی سائنس اور مذہبی عقائد کی کشمکش کے درمیان ہے۔ اس فلم کا نام اگورا ہے اور عقیدے اور سائنس کی کشمکش کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *