تحریک ”آزادی“ کشمیر کا تاریک پہلو

اسے میں کشمیریوں کی بدقسمتی ہی کہوں گا کہ پلوامہ حملے کے بعد سرحد کے دونوں اطراف ڈیڑھ ارب کی آبادی میں کوئی ایک شخص بھی نہیں تھا جو اسے ”تحریک آزادی جموں کشمیر“ کے تناظر میں دیکھ رہا تھا بلکہ سب اسے پاکستان اور ہندوستان ہی کی جنگ تسلیم کیے جا رہے تھے۔ ہندوستان بھر میں سرجیکل اسٹرائیک دوم اور ایک کے بدلے دس کے ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر چل رہے تھے جبکہ پاکستان کے بعض حلقوں کی جانب سے اس بات کی خوشی منائی جا رہی تھی ایک ہی وقت میں اتنے سارے بھارتی فوجی ایک ساتھ ہلاک ہوئے۔

Read more

سرخ خون روتی، حقیقی آنکھیں

میں جب کبھی گھر جاتا ہوں تو امی میری آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور پھر میری آنکھوں میں دیکھ کر مجھے کہتی ہیں۔ ”پتر تم ایک چشمہ بنوا لو، ہر وقت کمپیوٹر کے آگے بیٹھے رہتے ہو، کہیں تمھاری نظر کم زور نہ ہو جائے۔ دیکھو تمھاری آنکھوں میں سرخ لکیریں بنی ہیں، اتنی کتابیں پڑھتے ہو ان کے چھوٹے چھوٹے حروف آنکھوں کو نقصان دیتے ہیں“۔ اور میں امی کی بات پر مسکر ا کر ہامی بھر لیتا ہوں، کہ امی اس بار ضرور نظر چیک کروا کر چشمہ بنواؤں گا، لیکن امی بھلا جب جانتی ہیں کہ یہ سرخ خون لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نکلے والی ’وی یو‘ ریز سے نہیں بلکہ وادی کشمیر سے نکلی ان خبروں کے وجہ سے نکل آتا ہے، جہاں پیلٹ گن کے چھرے انھیں زندگی سے تو دور نہیں کرتے، مگر چلتی سانسوں کے ساتھ موت کی وادی میں حنوط کر دیتے ہیں۔

Read more