زمین ساکن ہے یا ہمارے دماغ

ہمارے ایک دوست ہیں کسی زمانے میں بہت مطالعہ کرتے تھے بہت مدت بعد ملاقات ہوئی تو حال احوال کے بعد کچھ جذباتی بحث ہو گئی۔ میں نے کہا کہ مذہبی کتب کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ تقابلی مطالعہ لازمی کرنا چاہیے ورنہ آپ عہد حاضر میں باقی دنیا کے ساتھ نہیں چل سکتے ہیں فرمانے لگے میرے لیے علم کتاب واحد سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتا ہے نہ اس سے کچھ پہلے ہے نہ بعد میں۔ اس کے بعد ان سے کسی موضوع پر بحث کی نوبت نہیں آئی۔

Read more

کیا پاکستان بھی کشمیریوں کی ہمدردیاں کھو رہا ہے؟

5 اگست کو بھارت نے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی شق 370 اور 35 A کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا۔ بھارتی آئین کی شق 370 ریاست جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی تھی اور یہی شق مہاراجہ ریاست جموں کشمیر ہری سنگھ کے بھارت سے مشروط الحاق کو بھی آئینی حیثیت دیتی تھی، جبکہ اس شق کی زیریں شق 35 A ریاست جموں کشمیر میں 1927 سے لاگو باشندہ ریاست قانون

Read more

بھارتی جنتا پارٹی کی کامیابی اور سیکولرزم کی شکست

بھارت میں بی جے پی کی واضح اکثریت بھارتی میں ہندو انتہا پسندی کی قلعی کھول رہی ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھارتی مسلمانوں کو الیکشن میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی حالیہ پانچ برسوں میں جہاں کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں کو قتل کیا گیا وہیں تاریخ کے بدترین تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا جس میں پیلٹ گن سے لوگوں پر ڈائریکٹ فائر کرنا، گھروں اور فصلوں کو مسمار کرنا شامل ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بھاجپا اور

Read more

تحریک ”آزادی“ کشمیر کا تاریک پہلو

اسے میں کشمیریوں کی بدقسمتی ہی کہوں گا کہ پلوامہ حملے کے بعد سرحد کے دونوں اطراف ڈیڑھ ارب کی آبادی میں کوئی ایک شخص بھی نہیں تھا جو اسے ”تحریک آزادی جموں کشمیر“ کے تناظر میں دیکھ رہا تھا بلکہ سب اسے پاکستان اور ہندوستان ہی کی جنگ تسلیم کیے جا رہے تھے۔ ہندوستان بھر میں سرجیکل اسٹرائیک دوم اور ایک کے بدلے دس کے ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر چل رہے تھے جبکہ پاکستان کے بعض حلقوں کی جانب سے اس بات کی خوشی منائی جا رہی تھی ایک ہی وقت میں اتنے سارے بھارتی فوجی ایک ساتھ ہلاک ہوئے۔

Read more

سرخ خون روتی، حقیقی آنکھیں

میں جب کبھی گھر جاتا ہوں تو امی میری آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور پھر میری آنکھوں میں دیکھ کر مجھے کہتی ہیں۔ ”پتر تم ایک چشمہ بنوا لو، ہر وقت کمپیوٹر کے آگے بیٹھے رہتے ہو، کہیں تمھاری نظر کم زور نہ ہو جائے۔ دیکھو تمھاری آنکھوں میں سرخ لکیریں بنی ہیں، اتنی کتابیں پڑھتے ہو ان کے چھوٹے چھوٹے حروف آنکھوں کو نقصان دیتے ہیں“۔ اور میں امی کی بات پر مسکر ا کر ہامی بھر لیتا ہوں، کہ امی اس بار ضرور نظر چیک کروا کر چشمہ بنواؤں گا، لیکن امی بھلا جب جانتی ہیں کہ یہ سرخ خون لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نکلے والی ’وی یو‘ ریز سے نہیں بلکہ وادی کشمیر سے نکلی ان خبروں کے وجہ سے نکل آتا ہے، جہاں پیلٹ گن کے چھرے انھیں زندگی سے تو دور نہیں کرتے، مگر چلتی سانسوں کے ساتھ موت کی وادی میں حنوط کر دیتے ہیں۔

Read more