آج کا اسلوب، تلوار نہیں سلوک


تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کے عقلی اور تمدنی ارتقاء کے سفر کے میں وقت کی منظم مسلح قوتوں یا بڑھتی پھولتی ریاستوں نے کسی نہ کسی الہامی مذہبی فلسفے کو مولڈ یا ہائی جیک کر کے اپنے اقتدار کے دوام کے لیے استعمال کیا ہے اور دنیا کی ہر ابھرتی سپر پاور، طاقتور ریاست یا ریاستی گروہوں کے اتحاد کی عوامی اکثریت میں رائج مخصوص مذہب یا مولڈڈ سیاسی و فکری فلسفہ ہی اپنے اپنے وقت میں غالب رہا ہے۔

بدلتی دنیا میں چین سے جڑا کمیونسٹ اتحاد ہو یا دم توڑتا مغربی سامراجی اتحاد ہو، آج سب کا اسلامی عسکری تحریک سے بیر ہے۔ اب اسلام کو عسکری رنگ میں کبھی پنپنے نہیں دیا جائے گا، اس صورت میں اسے ہر حال میں کنفرنٹ اور رسوا کیا جائے گا۔

صنعتی، مواصلاتی اور ٹیکنالوجیکل انقلاب کے بعد آج کی بدلی ہوئی گلوبلائزڈ دنیا میں عسکری غلبے کی جدوجہد کرنا اور البغدادی ٹائپ کی شریعت و خلافت نافذ کرنے کی کوشش کرنا ہر حال میں اسلامک فائبر اور سب مسلمانوں کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو ہو گا۔

آج اسلام کو اب عسکری غلبہ حاصل کرنے کا ٹول نہیں بنایا جا سکتا۔ اسے صرف اخلاقی و فکری غلبے کے لیے اپنانا ہو گا۔

آج اسلامی روحانی و توحیدی فلسفہ اپنے تمام تر تضادات، بین المذہبی خلفشار اور مسلمانوں کی اکثریت رکھتے ممالک کی تنزلی کے بعد صرف اپنی انٹلیکچول حقانیت، عقلی و میٹافورک ڈسکورس، اور روحانی فیبرک کے باعث زندہ ہے اور اس کا توحیدی و روحانی بالیدگی کا ایسپیکٹ یا فلسفہ انشاءاللہ آنے والے وقت میں بنا شمشیر بھی زندہ رہے گا۔

مسلح اور عسکریت پسند نیکی و مذہبیت کا دور لد چکا ہے اور یہ دین اسلام کے ارتقاء و تسلسل کا بہت ہی پیارا پہلو ہے کہ یہ خدمت انسانی اور ارفع سوشل اینڈ مورل فیبرک یا اخلاقی قوت کے ذریعے خاطر خواہ عسکری قوت کے بغیر بھی قائم و دائم ہے اور دنیا بھر میں بنا تصادم کے پھیل بھی رہا ہے۔

Facebook Comments HS