کورونا کی دھوپ میں چھاؤں کی تلاش!
پوری دنیا میں کورونا سے بچاوکے لیے لاک ڈاؤن کا تجربہ کیا گیا، لیکن ایک عرصہ گزرنے کے بعد سارے ہی ملک اپنے عملی اقدامات کی روشنی میں کورونا کے ساتھ زندگی کی تمام ضروری سرگرمیوں کی بحالی پر متفق نظر آتے ہیں۔ اس لیے دنیا بھر میں اب لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے، پاکستان میں تو اس سے بہت پہلے لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی تھی کہ پاکستان کے حالات یورپی اور ترقی یافتہ ممالک سے یکسر مختلف ہیں۔ یہ بھی بجا ہے کہ لاک ڈاؤن کو بہت طویل عرصے تک رہنے سے تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں جس سے مزدوروں کے مالی مسائل میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ صنعتی پیداوار میں کمی واقع ہو رہی ہے، جو ملکی معیشت کے لئے کسی طرح بھی مفید نہیں، لہٰذا حکومت کا چند شعبوں کے سوا باقی تمام کاروبار کھول دینے کا فیصلہ بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ لاک ڈاؤن میں کی جانے والی بتدریج کمی سے کورونا مریضوں کی تعداد اور پھیلنے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ حکومت کی صرف ذمہ داری نہیں، بحیثیت قوم ہم سب کا فرض ہے کہ کورونا وبا کے ساتھ رہتے ہوئے لڑنا ہے تو ایس اویز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، اسی میں سب کی بھلائی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ کورونا نے دنیا بھر کے ممالک کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور کورونا کے بھڑتے کیسز یا اموات سے موجودہ حکومت کو کسی سے کچھ نہیں ملنا ہے۔ اس کے باوجود افواہیں پھلائی جارہی ہیں کہ پہلے حکومت کورونا کیسز چھپا رہی تھی اور اب معاشی امداد کے پیش نظربڑھا چڑھا کر بتارہی ہے، جبکہ یہ تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔ اس بات کا تو امکان کیا جاسکتاہے کہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے کورونا کی اموات یا کیسز کو چھپالے، لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کوئی حکومت یا اسپتال اپنے ہاں کورونا کیسز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے، کیونکہ جہاں جتنی زیادہ اموات ہوتی ہیں، وہاں کی انتظامیہ اتنی ہی زیادہ تنقید کی زد میں آتی ہے اور جہاں کم کیسز سامنے آئیں، وہاں ادارے کے ساتھ حکومت کی بھی تعریف ہوتی ہے تو پھر حکومت کیوں کر کیسز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے گی۔
کورونا کی حقیقت سے جتنا مرضی نظر یں چرائیں، یہ ایک وبا کی صورت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ حکومت محدود وسائل میں اسے سنجیدگی سے لے رہی ہے، عام شہریوں کو بھی ا سے سنجیدگی سے لینا چاہیے، ملک کے ہر شہری کو زیادہ سے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرکے اس سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ پا کستانی ڈاکٹروں کے مطابق ہزاروں لوگوں ایسے ہیں جن میں یہ وائرس داخل ہو چکا ہے، لیکن قوت مدافعت مضبوط ہونے کی وجہ سے ان پر زیادہ اثرات ظاہر نہیں ہورہے، تاہم خطرے کی بات یہ ہے کہ متا ثرین سے ایسے لوگوں کو منتقل ہو سکتا ہے کہ جو ان کی تاب نہ لاسکیں گے، اس لئے سب کا فرض بنتاہے کہ وہ سازشی نظریات سے جان چھڑا کر حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، اسی طریقے سے کرونا کے ساتھ رہتے ہوئے خود کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی عوام کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے لاک ڈاؤن پابندیوں میں نرمی کا مطلب یہ سمجھا کہ اب زندگی کے وہی رنگ ڈھنگ بحال ہو جائیے گے جو کورونا سے پہلے تھے تو اس کے نتائج خوفناک ہوں گے۔ حکومت کواحتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی والے علاقوں میں کرفیو دوبارہ لگانا پڑے گا جس کے باعث معاشی سرگرمیاں معطل ہو جائیں گی اور مقامی لوگوں کی مشکلات بڑھیں گی۔ کورونا کا اب تک کوئی علاج دریافت ہوا نہ جلد اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے، اس بناء پر احتیاطی تدابیر کی پابندی ہی صورتحال کا مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ ہوشمندی کا تقاضا
ہے کہ حکومت کی جانب سے بیشتر شعبوں کی بحالی کے اس فیصلے کو کامیاب بنانے کی خاطر لوگ احتیاطی تدابیر یعنی ماسک اور سینی ٹائزر وغیرہ کے استعمال کو خود ہی یقینی بنائیں، تاکہ قومی معیشت کی زبوں حالی کا سد باب اور بحالی کا عمل شروع ہو سکے۔
بلا شبہ کورونا جیسی خطرناک وباسے مقابلے کے لیے حکومت کو عوام کا تعاون در کار ہے، تاہم اگرعوام نے ہی کورونا سے نمٹنا ہے تو لاک ڈاؤن کی دردسری اور بحث و تکرار کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ حکو مت کو تذب زب کی کیفیت سے باہر نکلتے ہو ئے اپنی پا لیسی واضح کرنا ہو گی، ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ مکمل لا ک ڈاؤن حل نہیں، جبکہ دوسری جانب وزرا عوم کو خوفزدہ کر رہے ہیں کہ ایک بار پھرمکمل لاک ڈاؤن ہو سکتا ہے۔
اس فکری افراط و تفریط کا خاتمہ ہو نا چاہیے، کیو نکہ عوام لاک ڈاؤن کی آنکھ مچولی سے تنگ آچکے ہیں۔ کورونا کی حقیقت سمجھنے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے سے بہتر ہے کہ قومی زندگی میں اعتدال، تفہیم، توازن اور سنجیدگی پیدا کی جائے، حکمراں فروعی باتوں، ٹکراؤ اور تناؤں سے گریز کرتے ہوئے قومی اتفاق رائے کو راستہ دیں، کیو نکہ یہ وقت باہمی اختلاف رائے اورپکڑ دھکڑکی بجائے ذمہ دارانہ طرز عمل کا متقاضی ہے۔ عوام کورونا کی تپتی دھوپ میں چھاؤں کے متلاشی ہے، حکو مت اور اپوزیشن کا مشترکہ فرض بنتا ہے کہ عوام کو اس مشکل گھڑی تنہا نہ چھوڑا جائے اور انہیں معاشی و صحت کی تمام سہولیات کی چھاؤں مہیا کی جائے، اسی میں کرونا سے بچاؤ کے ساتھ سب کی بھلائی پو شیدہ ہے۔


