کیا آبادی بربادی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mujahid

اپنے کسی گذشتہ مضمون میں میں نے لکھا تھا، ”غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے تفریح کے مواقع، تفریح کے لیے وسائل اور تفریح کی دستیابی مسدود ہونے کی وجہ سے ان کی واحد تفریح مجامعت کے سبب ان کے ہاں بچے کثیر تعداد میں پیدا ہوتے ہیں“۔ چنانچہ اس مختصر مضمون میں ہم پاکستان میں انتہائی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں باتیں کریں گے۔
کسی بھی ملک کی آبادی کی بہتر زندگی کا انحصار اس ملک میں موجود وسائل پر ہوتا ہے۔ وسائل مقامی بھی ہو سکتے ہیں اور بیرونی بھی۔ بیرونی وسیلے کو کہیں روزی کمانے کی خاطر دوسرے ملکوں میں گئے ہوئے لوگوں ( جن میں اکثریت غریب لوگوں کی ہوتی ہے اور کسی حد تک پرفیشنل ماہرین جیسے کہ ڈاکٹر، انجنیر اور حرفت سے وابستہ دوسرے افراد ہوتے ہیں) کی جانب سے بھیجی گئی رقوم نہ سمجھ لیجیے گا۔

ملک کے اندرونی وسائل میں بڑا حصہ ملک میں موجود صنعتوں سے ہونے والی آمدنی ہوتا ہے، دوسرا بڑا حصہ تجارت سے حاصل شدہ آمدنی کا ہوتا ہے۔ تجارت میں قدرتی وسائل بشمول معدنیات بمع تیل و گیس، کاشتکاری سے حاصل شدہ اجناس، پھل اور سبزیوں وغیرہ کی تجارت بھی شامل ہوتی ہے۔ خدمات کے شعبے بھی تجارت کی مد میں آتے ہیں۔

وسائل میں ایک بڑا حصہ آبادی سے حاصل ہونے والے محاصلات ہوتے ہیں۔ محاصلات سے ہونے والی آمدنی کا ملک کی مجموعی آمدنی میں حصے کا انحصار کسی ملک میں موجود لوگوں کا قوم سے متعلق احساس، ملک میں رائج ٹیکس سے متعلق قوانین، ان قوانین پر عمل درآمد کرائے جانے کی اہلیت اور شدت، ٹیکس ادا کرنے کے قابل آبادی کی تعداد، ٹیکس دینے والوں کی تعداد، محصولات وصول کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تربیت، نفسیات، اہلیت، دیانتداری وغیرہ سب پر ہوتا ہے۔

اگر ملک کی مجموعی آمدنی ملک میں موجود آبادی کی ضروریات سے کم ہو یا اگر زیادہ بھی ہو تو اس آمدنی میں غتربود ہو رہی ہو، لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ نہ کی جا رہی ہو تو ملک کے لوگوں کا معیار زندگی پائیں تر ہی رہتا ہے۔

پاکستان جب معرض وجود میں آیا تب اس ملک کے اس حصے کی جسے اب پاکستان کہا جاتا ہے آبادی تقریباً پونے پانچ کروڑ افراد تھی۔ اب 69 سال گذرنے کے بعد پاکستان کی آبادی بیس کروڑ نفوس سے تجاوز کر رہی ہے۔ یعنی چار گنا سے زیادہ ہو چکی ہے۔

افراط زر بڑھ چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ صنعتی معیشت کی عالمگیریت کے سبب صارفین کا سماج وجود پا چکا ہے۔ خدمات کے شعبے وسیع تر ہو چکے ہیں جن میں ارتباط کا شعبہ اور الیکٹرونک میڈیا پیش پیش ہیں۔ الیکٹرونک میڈیا چونکہ بیشتر نجی ہے چنانچہ وہ بھی اشتہارات کی نمائش کر کے صارفین کے سماج کو بڑھانے کا سبب بنا ہے۔

آبادی کے بے تحاشا ہونے سے ان کی زراعت کے میدان میں کھپت محدود ہونے کی وجہ سے شہروں کی جانب نقل مکانی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ شہروں میں نادار لوگوں کے ہجوم جہاں ایک طرف رہائش کے مسائل بڑھانے اور پہلے سے موجود ناقص اور کم شہری انفراسٹرکچر پر بوجھ بڑھ جانے سے انفراسٹرکچر کے شدید فقدان کا موجب بنا ہے وہاں آمدورفت یعنی ٹریفک اور حفظان صحت سے متعلق انفراسٹرکچر کے کمتر اور غیر معیاری ہونے سے گردو غبار اور گندگی کے باعث امراض میں اضافہ ہوا ہے۔

زیادہ زرعی پیداوار کیے جانے کی غرض سے زہریلی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے استعمال سے ایک طرف تو اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی غذائیت میں کمی آئی ہے تو دوسری طرف ان میں زہریلے مادوں کی موجودگی بڑھی ہے۔ اس طرح ایک بار پھر لوگوں کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اشیائے صرف کی گرانی کے سبب خدمات کے شعبوں میں گرانی کے سبب طبی خدمات کے گراں ہو جانے اور حکومتی و نجی سطح دونوں پر ہی صحت سے متعلق انفراسٹرکچر یعنی ہسپتالوں اور کلینکوں کی کمی کے باعث عطائیوں کی تعداد زیادہ ہوئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے کے لالچ میں ہسپتالوں کی خدمات اور ڈاکٹروں کی اہلیت کا معیار بھی گرا ہے یوں صحت خراب ہونے کا ایک گھن چکر شروع ہو چکا ہے یعنی ناقص حالات زندگی، کمتر اور ناقص غذا، امراض، علاج نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔

شہروں اور قصبوں میں آبادی کے پھیلاؤ کے سبب نادار اور کم تعلیم یافتہ یا تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ روزگار کی کمی کے سبب پیدا ہونے والی پریشانی کی وجہ سے عمومی مطالعے پر ضرب پڑی ہے جس سے نوجوانوں کا شعور صیقل نہیں ہو پاتا یا الوہی امداد پانے کی خاطر مذہبی لٹریچر زیادہ پڑھا جانے لگا ہے جس کی وجہ سے بنیاد پرستی کی جانب رغبت بڑھی ہے۔

غرض آبادی میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے مسائل بڑھے ہیں۔ تو کیا آبادی کے سیلاب کو روکا نہیں جانا چاہیے؟ جی ہاں بالکل روکا جانا چاہیے۔

خاندانی منصوبہ بندی جو قریباً پانچ دہائیوں سے جاری ہے کوئی نتائج نہیں دے پائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی کے منصوبے میں نقائص ہیں بلکہ معاشرے میں بھی ایسی قدغنیں ہیں جو اس منصوبے کی ناکامی کا سبب بنی ہیں۔

ایک بار پھر یہ کہ یہ کام حکومت کا ہی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے عمل کو موثر بنائے اور پہلے سے موجود آبادی کے لیے زندگی گذارنے کے مناسب ذرائع پیدا کرے یعنی صنعتیں لگائے، سرمایہ داروں کو صنعتیں لگانے کی جانب راغب کرے۔ بنیاد پرستی کو کم کیے جانے کے اقدامات کرے، ملک کے عمومی حالات کو پرسکون اور پرامن بنانے کی غرض سے اقدامات لے۔

چونکہ ملک میں برسراقتدار آنے والی مختلف حکومتیں ایسا نہیں کر پا رہیں چنانچہ لوگوں کو خود ہی سامنے آنا ہوگا اور آبادی میں اضافے کے بارے میں شعور دینے اور بچے کم پیدا کرنے کے بارے میں سمجھانے کی خاطر غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنا ہوگا بصورت دیگر قومی آمدنی کے مقابلے میں ملک کی آبادی کے زیادہ ہونے کا عفریت سب کچھ نگل کر بھی بھوکا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *