لداخ میں چین – بھارت کشیدگی سے امن عالم کو خطرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جدید دنیا کی تیز رفتار زندگی اور گہما گہمی سے دورسلسلۂ کوۂ ہمالیہ کے برف پوش اور سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع خطۂ لداخ ایک دفعہ پھر جنگ کے دہانے پرکھڑا محسوس ہوتا ہے اور اگر چین و ہند کے پالیسی سازوں نے عقل و شعور کی بجائے مزید جوش دکھایا تو دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

سطح سمندر سے دس ہزار فٹ بلند، تین لاکھ نفوس اور ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل لداخ اکتوبر 2019 ء سے قبل ریاست جموں و کشمیر کا ہی حصہ تھا اور یہ علاقہ بھی بد قسمتی سے 1947 ء سے ہی متنازع چلا آ رہا ہے۔

لداخ اس سے قبل 1962 ء میں بھی چین و ہند کے مابین میدان جنگ بن چکا ہے۔ اس معرکے میں بھارت کو شکست اٹھانا پڑی تھی۔ 1962ء کے چین و ہند معاہدے میں چین سے ملحقہ مشرقی لداخ کا ایک بڑا حصہ۔ ”اکسائی چن“ چین کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اور دونوں ملک ایک امن معاہدے کے پابند ہو گئے تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی جو اکسائی چن کو باقی ماندہ لداخ سے علیحدہ کرتی ہے۔ اس خط کو ایل۔ اے۔ سی۔ Line of Actual Control کا نام دیا گیا تھا۔ امن معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ علاقے کی معروضی حالت کو تبدیل نہیں کیا جایئگا۔

مگر گزشتہ سال اکتوبر میں جب بھارت نے اپنے آئین کا آرٹیکل 370 جو ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی خود مختاری کی حیثیت دیتا ہے، ختم کر دیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ لداخ کے متنازعہ علاقے کو بھی وفاقی علاقے Territories Union بنانے کا اعلان کیا تو پاکستان کے ساتھ چین کو بھی تشویش نے آن گھیرا کیونکہ ابھی تک لداخ ایک متنازعہ علاقہ چلا آ رہا تھا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اس دفعہ ایک چھوٹا سا قصبہ جس کا نام دولت بیگ ہے، سے موجودہ قضیے نے سر اٹھایا ہے۔ یہ قصبہ لداخ کے شمالی کنارے پر چین اور بھارت کے درمیان ایل۔ اے۔ سی پر واقع ہے۔ گزشتہ کئی دہایؤں سے یہاں پر بھارتی فوج کا ایک مختصر سا بیس قائم تھا مگر گزشتہ سال بھارتی فوج نے اس جگہ کو ایک کیمپ بنا کر نہ صرف اس مختصر سے فوجی بیس کو بریگیڈ سائز فوج میں تبدیل کر دیا ہے بلکہ یہاں موجود فوجی یونٹ کو فوجی رسد باہم پہنچانے کے لیے 255 کلومیٹر لمبی دربوک۔ شیوک روڈ تعمیر کردی ہے جو دولت بیگ کو پورے لداخ سمیت لیہ سے منسلک اور پھر آگے مقبوضہ وادی کے دارلخلافہ سری نگر سے ملا دیتی ہے۔

بھارت کی اس فوجی چال سے چین نے خطرہ محسوس کیا ہے کیونکہ دولت بیگ جو درہ قراقرم سے صرف آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس جگہ بڑی فوج کا اجتماع چین کی نظر میں گلگت۔ بلتستان پر قبضے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے جہاں سے CEPEC ”چین پاکستان اقتصادی راہداری“ گزرتی ہے۔ چین کی نظر میں بھارت نے اس چال سے سیاچین، کشمیر اور گلگت بلتستان پر قبضہ کر کے سی پیک منصوبے کو سبو تاژ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اسی پس منظر میں چینی صدر ذی جن پنگ نے چینی افواج کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ مگر اس سے بھی قبل ایک حیران کن فوجی پیش قدمی کر کے چین نے اپنی پہاڑوں پر لڑنے کی ماہر پانچ ہزار سپاہ کو ایک خفیہ فوجی آپریشن کے ذریعے وائی گلوان جیسی تنگ و بند وادی پر قبضہ کر لیا ہے۔ وہاں پر موجود بھارت فوجی اس اچانک کارروائی کے لیے تیار نہ تھے لہذٰا ان کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ چینیوں نے دولت بیگ کی طرف جانے والی واحد سڑک، بیوک۔ شیوک روڈ کو جو دریائے گلوان کے مشرقی کنارے سے گزرتی ہے، کو دونوں اطراف سے بند کر کے دولت بیگ بریگیڈ کو بے اثر اور مفلوج کر دیا ہے۔

بھارتی فوجی منصوبہ ساز حیرا نی و پریشانی سے انگشت بدندان ہیں اور شدید غم و غصے کے عالم میں اپنے فوجی کمانداروں کو نپولین بونا پارٹ کا مشہور قول یاد کروا رہے ہیں :

”شکست ہو جانے کی معافی مل سکتی ہے، مگر دشمن آپ کو حیران کر دے، اس کی کوئی معافی نہیں۔“

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے چین کی کارروائی کے جواب میں بھارتی فوج اپنے بکتر بند دستے ایل۔ اے۔ سی پر منتقل کر رہا ہے۔ ان دستوں میں زیادہ تعداد T 72 جیسے جدید اور رات کو دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والے ٹینکوں کی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ بھارت اکسائی چن پر حملہ کر کے چین کو گلوان وادی اور ملحقہ مقبوضہ علاقہ خالی کرنے پر مجبور کرے گا۔

مگر حالات س لئے بگڑتے نظر آ رہے ہیں کہ چین نے اگر ایسا کرنا ہوتا تو وہ اس علاقے پر یلغار ہی نہ کرتا۔ دوسری صورت میں چین فضائی حملہ کر کے ہندوستانی بکتر بند دستوں کی پیش قدمی روکے گا اور جب کسی فوجی مہم جوئی میں ایئر فورس کا استعمال شروع ہو جاتا ہے اس کو آل آؤٹ وار All out war سمجھا جاتا ہے۔

ہندوستان اور چین میں دنیا کے ایک تہائی آبادی بستی ہے۔ دونوں طاقتیں جوہری ہتھیاروں سے بھی لیس ہیں۔ چھوٹی سی جلد بازی یا فوجی حماقت خطے میں کسی بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

ؒلہٰذا حالات کی نزاکت کے پیش نظر صورت حال کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان اعلٰی سطح پر فوری رابطے ضروری ہیں۔ دونوں ملکوں کو اپنے وسائل جنگ میں جھونکنے کی بجائے اپنی کثیر آبادیوں کی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی پر خرچ کرنے چاہئیں۔ ایک بڑا ملک ہونے کے ناتے چین کو اس معاملے میں پہل کرنی چاہیے۔ اور ایک اور امن معاہدے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔

بھارت کو بھی چاہیے کہ علاقے میں پائدار امن کے لیے دوسرے ملکوں کے اقتصادی مفادات کا پاس کرے اور اپنے وسائل جنگی جنون میں جھونکنے کی بجائے لداخ جیسے پسماندہ علاقے کے باشندوں کی صحت و تعلیم و روزگار جیسی سہولیات فراہم کرنے پر صرف کرے۔

جدید دنیا کی تیز رفتار زندگی اور گہما گہمی سے دورسلسلۂ کوۂ ہمالیہ کے برف پوش اور سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع خطۂ لداخ ایک دفعہ پھر جنگ کے دہانے پرکھڑا محسوس ہوتا ہے اور چین و ہند کے پالیسی سازوں نے عقل و شعور کی بجائے مزید جوش دکھایا تو دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *