لاہور کا شاہی حمام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ حمام دہلی دروازہ کے ساتھ ہی واقعہ ہے۔ یہ عمارت نواب وزیر خاں جن کا اصل نام شیخ علم الدین انصاری تھا کے نام سے منسوب ہے۔ آپ پیشے کے اعتبار سے حکیم تھے عہد جہانگیری میں ملکہ نور جہاں کا حیرت انگیز طریقہ سے علاج کیا جس سے آپ کو شہرت ملی۔ اس کے بعد 1628 ء عیسوی میں شاہ جہاں تخت ہندو ستان کا وارث بنا تو آپ کو خلعت فاخرہ اور انعام و اکرام سے نوازا۔ مگر آپ کی صلاحیت کے بدولت شاہ جہاں نے 1632 ء کو ناظم لاہور مقرر کر دیا۔ آپ نے 8 سال لاہور کی ناظمیت بہ احسن انجام دی۔ نواب وزیر خان آئے دن دربار شاہی سے انعام پایا کرتے تھے۔ اس لئے 1634 ء میں ایک ہی وقت میں تین عمارات کا سنگ بنیاد رکھا۔

مسجد وزیر خاں 3 سال، شاہی حمام 2 سال جبکہ پری محل 1 سال کی مدت میں تعمیر ہوا۔ جبکہ اسی سال 1634 ء میں سرکاری طور پر شاہ جہاں نے لاہور میں شالیمار باغ کا سنگ بنیاد رکھا۔ جو کہ علی مردان خان کی نگرانی میں تعمیر ہو رہا تھا۔ لاہور کا دہلی دروازہ واحد راستہ تھا جو کہ جی۔ ٹی روڈ سے متصل تھا۔ اس سڑک پر سفر کرنے والے قافلے دہلی دروازے سے گزر کر شہر لاہور میں داخل ہوتے تھے۔ خاندان شاہی مختلف شہروں کے سفر کے بعد جب دہلی دروازے سے شہر میں داخل ہوتے تو حمام میں غسل وغیرہ کرتے اور سفر کی تھکان اتارتے۔

پھر حمام کے مغربی دروازہ جو قلعے کی جانب کھلتا ہے وہاں سے قلعے کی جانب روانہ ہو جاتے یہ حمام چار حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ مین ہال ہے جسے ٹھنڈا حمام کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد گرم حمام شروع ہو جاتا ہے۔ گرم حمام کے عقب میں خوا تین شاہی کے لئے حمام تھا جو صرف عورتوں کے لئے مخصوص تھا۔ اس کے دائیں جانب دو حمام ہیں جہاں بھاپ کا غسل کیا جاتا تھا۔ کمرے کے ایک طرف پانی گرم کرنے والے پائپ سے گرم پانی آتا تھا جبکہ دوسری جانب یہی پانی بھاپ بنا کر سٹیم باتھ کا کام دیتا تھا جو کہ جدید سائنس کے مطابق ہے۔

بیٹھنے کے مخصوص کمروں میں چاروں اطراف سے آبشار کی مانند پانی بہتا تھا۔ ان خاص کمروں میں شاہی خاندان کو ان کے نوکر مساج دیا کرتے تھے۔ اس حمام کے اندر ایک چھوٹی سی مسجد قائم ہے۔ مجموعی طور پر یہ تمام حمام ایک ہی چھت کے نیچے واقع ہیں۔ شاہی حمام میں کل 21 کمرے ہیں۔ جن میں سے 8 میں سنگ مر مر سے بنے تازہ پانی کے حوض غسل کے لئے بنائے گئے تھے۔ 8 گرم پانی سے غسل کے لئے اور 5 سٹیم باتھ کے کمرے ترکی طرز تعمیر پر بنائے گئے تھے۔

حمام میں پانی کی مختلف آمد و رفت کے لئے آبشاریں قائم کی گئیں ہیں۔ تمام عمارت خوبصورت پینٹگ سے مزین ہے دیواروں اور چھتوں پر پھولوں کی پینٹنگز موجود ہیں۔ جبکہ چھتوں کے درمیان قدرتی روشنی کا راستہ رکھا گیا تھا۔ ان حماموں میں گرم، ٹھنڈے پانی اور بھاپ کا انتظام کیا گیا تھا۔ چھت میں قدرتی ہوا اور روشنی کے لئے برج نما ردشندان تعمیر کیے گئے ہیں۔ سکھ دور حکومت کی ابتدا میں گرم پانی کی فراہمی کے نظام کو تباہ کر دیا گیا۔

برطانوی دور حکومت میں بھی اس پر خاص توجہ نہ دی گئی اور اس حصے کو رہائشی کمروں میں تبدیل کر دیا گیا۔ حماموں کو پانی فراہم کرنے کے لئے اس عمارت کے پچھلی جانب ایک کنواں بنایا گیا تھا۔ جسے قیام پاکستان کے بعد بند کر دیا گیا۔ حمام میں قائم حوض جو موجودہ سطح زمین سے تقریباً6، 7 فٹ نیچے ہوتے تھے انھیں ملبے ڈال کر بند کر دیا گیا ہے اور سطح فرش بھی بلند کر دی گئی ہے۔ اب ہمیں کسی حوض یا تالاب کا پتا نہیں چلتا اور حمام کے دوسری جانب کھلنے والے دروازے بھی دیواریں بنا کر بند کر دیے گئے تھے۔

جس سے حمام کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلتا تھا اس تاریخی حمام کے گرد تجاوزات کی بھرمار تھی۔ البتہ حمام کی پر شکوہ اور شاندار عمارت اور اس میں پانی کا نظام ترسیل دیکھ کر عمارت کا استعمال اور بنانے والوں کے ذوق و شوق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آج کل والڈ سٹی اتھارٹی کے زیر اہتمام اس تاریخی حمام کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply