پاکستان میں کورونا: کچھ حقائق اور کچھ مفروضات کا ذکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جون کے اوائل تک، دنیا کے سب سے امیر ممالک کوویڈ 19 میں ہونے والی اموات کی 90 فیصد سے زیادہ تعداد کا حصہ بن چکے ہیں۔ یورپ میں، تصدیق شدہ کورونا وائرس کے مریضوں میں اموات کا تناسب کافی زیادہ رہا ہے۔ فرانس کی شرح 15.2 فیصد، برطانیہ میں 14.4 فیصد، اٹلی میں 14 فیصد اور اسپین میں 11.9 فیصد ہے جبکہ امریکہ میں یہ شرح 6 فیصد ہے۔

اس کے برعکس (اب تک) ، جنوبی ایشیائی ممالک میں، یہ شرح کافی کم رہی ہے۔ ہندوستان میں 3.3 فیصد، پاکستان 2.2 فیصد، بنگلہ دیش میں 1.5 فیصد اور سری لنکا میں ایک فیصد ہے۔ ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس فرق کے لئے متعدد ممکنہ وضاحتیں موجود ہیں کہ کس طرح کورونا وائرس دنیا کے مختلف حصوں میں آبادیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کی وجہ مختلف آبادیاتی عناصر، متنوع وائرس کی موجودگی اور آبادی میں پہلے سے موجود مدافعت ہو سکتی ہے۔

مزید اہم یہ کہ کچھ ممالک میں اموات سے متعلق نامکمل اعداد و شمار کے نتیجے میں ناقص نتائج اخذ ہوتے ہیں۔ سائنسدان اور صحت عامہ کے ماہرین اس بارے میں تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں صحت کے کمزور انفراسٹرکچر اور گنجان آبادی کے باوجود، بہت سے مغربی ممالک کے مقابلے میں کورونا وائرس کی وجہ سے شرح اموات کم ہیں۔ محققین نے اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کے دوران جو پہلا سوال پوچھا ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان اور دوسرے جنوبی ایشیا کے ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد در حقیقت صحیح ہے؟

مثال کے طور پر ہمسایہ ملک ہندوستان میں، کچھ لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اموات کی درست گنتی کی جا رہی ہے، جبکہ 78 فیصد اموات کی عام حالات میں طبی طور پر تصدیق نہیں کی جاتی۔ اگرچہ وبائی امراض کے خلاف جنگ میں حکومت پاکستان کے ساتھ کام کرنے والے طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ غلطی کی شرح کے امکانات بہت کم ہیں۔

عمومی طور پر کوویڈ کی تشخیص اور علاج سے متعلق غلط فہمیاں اور معاشرتی تعصب پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنے مریضوں کو اسپتالوں میں نہیں لانا چاہتے، لیکن یہ بھی ایک مفروضہ ہی ہے جس کے لئے کوئی مصدقہ حقائق موجود نہیں۔ دیگر تمام مفروضوں کے علاوہ، یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نوجوان آبادی کا ایک بہت بڑا تناسب ہے جس کی وجہ سے کورونا کی وجہ سے اموات کی شرح کہیں کم ہے اور یہ مفروضہ زیادہ حقیقت پسندانہ بھی ہے۔

ایک اور مفروضہ آبادی کی قوت مدافعت کی خصوصیات میں فرق ہے۔ مختلف ماحولیاتی عوامل جنہوں نے کسی طرح سے ہمارے دفاعی نظام کو تبدیل کر دیا ہے۔ ہمارے لوگ جو کورونا کی ہلکی علامات دکھا رہے ہیں یا کوئی علامت نہیں دکھا رہے ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی فطری مدافعتی نظام ہے جو ہمیں شدید بیماری میں جانے سے بچا رہا ہے۔ مزید یہ مختلف اقسام کی ویکسی نیشن کی وجہ سے بھی کچھ اثر ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے خیال میں ہمارے مدافعتی نظام کو مختلف پیتھوجینز یا حفاظتی ٹیکوں کے نمونے بدل دیتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ممکن ہیں، لیکن کوئی بھی اب تک واضح طور پر اس کو ثابت نہیں کر سکا۔

دوسرا ممکنہ عنصر جنوبی ایشیائی ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی ہو سکتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ اوسط درجہ حرارت اور سورج کی روشنی کی سطح اور اس سے وابستہ الٹرا وائلٹ تابکاری والے خطوں میں اب تک اموات کی نسبتاً کم شرح ظاہر ہوئی ہے۔ محققین نے، اب تک دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر، اس امکان کو رد کیا ہے کہ جنوبی ایشیا کو متاثر کرنے والے وائرس کی نوعیت یورپی اور دوسرے ممالک کو متاثر کرنے والے افراد سے مختلف ہیں جہاں اموات کی شرح زیادہ ہے۔

محدود اعداد و شمار کی سب سے بڑی وجہ بہت سے ترقی پذیر ممالک کی محدود تعداد میں ٹیسٹ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم متاثر نہیں ہیں، اور یہ کہ ہم دوسروں کو متاثر نہیں کر رہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے ”ٹیسٹ، ٹیسٹ، ٹیسٹ“ پالیسی کی سفارش کی ہے لیکن پاکستان میں جانچ کی صلاحیت بہت کم ہے اور روزانہ صرف آٹھ سے دس ہزار افراد کو ٹیسٹ کرنے کی گنجائش ہے۔ یکم جون تک پاکستان میں 72460 سے زیادہ متاثرہ مریضوں اور 1543 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

دوسری طرف صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کے لئے ذاتی حفاظتی ساز و سامان (پی پی ای) کا فقدان ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں، سینکڑوں ڈاکٹر روزانہ حفاظتی سامان کی فراہمی نہ کرنے پر حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

طبی ماہرین کے خدشات کے باوجود حکومت مذہبی رہنماؤں کے دباؤ کے سامنے جھکی اور رمضان المبارک اور عید کے موقع پر مساجد میں اجتماعی نماز کی اجازت دی، جو ابھی تک اس بیماری کے پھیلاؤ میں اضافے کی سب سے اہم وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ مزید برآں پاکستان نے اپنے لاک ڈاؤن کو 9 مئی تک بڑھایا لیکن برآمدی صنعتوں اور کچھ تجارتی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی۔ ناقص معیشت کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے 350، 000 چھوٹے کاروباروں کے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کے لئے ایک پیکیج کی منظوری دی۔ دوسری طرف حکومتی عہدیداروں نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکہ سمیت گیارہ ممالک سے قرضوں سے نجات کے لئے بات چیت کریں گے۔ آئی ایم ایف نے وبائی ردعمل کی لاگت کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کو 1.4 بلین ڈالر کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔

پاکستان میں معاشرتی سطح پر، جسمانی دوری کا نفاذ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور تنگ شہری بستیوں میں، جسمانی دوری عیاشی کے مترادف ہے۔ چنانچہ غریب عوام کو گھروں میں رکھنا بھی ممکن نہیں

دوسری طرف کورونا وائرس کے بارے میں سازشی نظریات عوامی الجھنوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بہت سے پاکستانی سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس جان بوجھ کر غیر ملکی طاقت کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے۔ اس نظریے کو بہت حد تک بڑھاوا دینے میں نام نہاد مذہبی پیشواؤں کا ہاتھ ہے۔ پاکستان میں کچھ بنیاد پرست مبلغین کا دعویٰ ہے کہ اگر مسلمان وائرس سے مر گئے تو وہ شہید سمجھے جائیں گے۔ ملک میں موجود سیاسی و مذہبی قیادت اپنے پیروکاروں کو گھر رہنے اور سماجی دوری کا مشورہ دینے میں بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔ حکومت اور سول سوسائٹی کو طبی ماہرین کے فراہم کردہ سائنسی حقائق کی بنیاد پر عوامی شعور میں اضافہ کر کے ان مسائل سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف حکومت کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ معاشی پیکیج کافی نہیں ہے۔ یہ بہت ہی مختصر مدتی حل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے غربت، خواندگی کی کم سطح اور معاشی قرضوں میں اضافہ مستقبل قریب میں حکومت کے لئے مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دوسرے قرض دہندگان کو خطے کے لئے قرضوں سے نجات کے پیکج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

جنوبی ایشیا کے خطے میں تعاون کی ایک جھلک نظر آ رہی ہے جس کا اس مشکل وقت میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ تاریخی طور پر، ساؤتھ ایشین ریجنل کوآپریشن (سارک) کو کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن حال ہی میں بھارت پاکستان دشمنی نے اسے تقریباً غیر فعال کر دیا تھا۔ کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہندوستانی وزیر اعظم نے ایک اعلی سطحی ای میٹنگ کے دوران سارک مشترکہ ہنگامی فنڈ کی تجویز پیش کی جس میں تمام سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے تمام ممالک نے اس فنڈ میں حصہ لیا ہے۔ ہندوستان نے فنڈ کو افغانستان، بھوٹان اور نیپال کو طبی امداد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی تعاون کے تحت پاکستان نے ضروری طبی سامان کی منتقلی کے لئے افغانستان پاکستان سرحد بھی کھلی رکھی ہوئی ہے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ علاقائی تعصبات اور بین المذاہب عداوتوں کو نظر انداز کریں اور قومی اور علاقائی تعاون کو اپنائیں۔ حکومت، بین الاقوامی تنظیموں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور مخیر حضرات سب کو کمزور اور غریب طبقے کی مدد کے لئے اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں طبی ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ آبادی کے کچھ ہاٹ سپاٹ موجود ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے 15 مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب کو لاہور میں کورونا وائرس کے کیسز کی صورت حال کے حوالے سے سمری ارسال کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ کورونا ہاٹ اسپاٹ سے لئے گئے سیمپل، رہائشی علاقوں اور کام کی جگہوں سے لیے گئے، عمومی طور پر لیے گئے سیمپلوں میں 5 اعشاریہ 18 اور اسمارٹ سیمپلنگ میں 6 اعشاریہ 01 فیصد ٹیسٹ مثبت آئے اور یہ صورت حال کافی تشویشناک ہے۔ حکومتی ردعمل اور اقدامات اس وبا کے خلاف ”ہرڈ امیونٹی“ یا اجتماعی مدافعت پیدا کرنے کی طرف مائل نظر آرہے ہیں۔

دنیا کی کسی بھی حکومت نے ”ہرڈ امیونٹی“ کے لئے عوامی طور پر اس کی حمایت نہیں کی کیوں کہ اس میں انسانی جان کو لاحق خطرہ بہت زیادہ ہے۔ یہ تصور آبادی کے ایک بڑے حصے ( 60 سے 70 فیصد کے لگ بھگ) کا انفیکشن کا شکار ہوجانا ہے جس سے اس وائرس سے ان کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔ اکثریتی آبادی میں اس طرح کی قوت مدافعت پیدا کرنے کے بعد، باقی آبادی زیادہ محفوظ ہوجاتی ہے اور انفیکشن آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا: ”فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ کوویڈ 19 سے بازیاب ہونے والے اور اینٹی باڈیز رکھنے والے افراد کو دوسرے انفیکشن سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ اب تک ”ہرڈ امیونٹی“ کے تصور کی ضمانت نہیں ہے یہاں تک کہ اگر 70 فیصد آبادی انفیکشن میں آ جائے۔ مزید برآں، جب تک 70 فیصد آبادی میں انفیکشن ہوجاتا ہے تو تب تک، بہت سے لوگ دم توڑ سکتے ہیں اگر انفیکشن اینٹی باڈیز پر حاوی ہو جائے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کتنے افراد کی موت ہو سکتی ہے؟ اس کا انحصار ملک کی شرح اموات اور بہت سے دوسرے بنیادی عوامل اور حقائق پر ہے۔

ابھی تک پاکستان میں، کوئی بھی عہدیدار یہ اعتراف نہیں کر رہا ہے کہ ”ہرڈ امیونٹی“ کو ایک ممکنہ حکمت عملی سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن کیا ہمیں اس بات کی فکر نہیں کہ یہ ایک خطرناک راستہ ہو سکتا ہے جہاں کوئی متوقع منزل یقینی نہیں ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *